کسانوں نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کا عندیہ دیدیا

کسانوں نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کا عندیہ دیدیا
کسانوں نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کا عندیہ دیدیا

  


لاہور(سٹی رپورٹر)پاکستان کسان بورڈنے ٹیکسوں کی بھرمار کوزراعت دشمن اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک طرف ٹیکسیشن اور دوسری جانب بجلی و گیس کے بلوں کے درمیان ملک بھر کے لاکھوں کسان فٹ بال کی طرح روندے جا رہے ہیں کسانوں کے گھروں کے چولہے بجھنے کو ہیں اور حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے سبسڈی کے لیے دیا جانے والاٹول فری نمبر بھی مذاق بن کے رہ گیا ہے ہماری ہر کال پر دس روپے تو کٹ ہی جاتے ہیں لیکن سبسڈی نام کی کوئی چیز میسر نہیں آتی۔اگر ہمارے مطالبات فوری تسلیم نہ ہو ئے تو پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار ”پاکستان“کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران پاکستان کسان بورڈ کے صدر چودھری نثار احمد نے دیگر ذمہ داران میاں فاروق احمد سینئر نائب صدر،شوکت علی چدھڑ سیکرٹری جنرل، مہر صفدر سلیم نول صدر وسطی پنجاب،رائے محمد آصف جنرل سیکرٹری وسطی پنجاب،رائے سجاد احمد مرکزی فنانس سیکرٹری،میاں رشید احمدصدر لاہور ڈویژن،سردار سیفِ اللہ سندھو جنرل سیکرٹری،میاں محمد الیاس انفارمیشن سیکرٹر ی،مظہر اقبال صدر کسان بورڈ اوکاڑہ،محمد رفیق بٹ انچارج مرکزی دفتر کسان بورڈ کے ہمراہ اظہار خیال کرتے ہوئے کیا،انہوں نے موجودہ حکومت کی زراعت کے حوالے سے پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا،ان کا کہنا تھا کے جب سے یہ حکومت آئی ہے زرعی مداخل کی خرید ِعام کسان سے بہت دور ہو گئی ہے اور کسان کی پیداوار کو مناسب معاوضہ دلوانے کے حوالے سے حکومت کے پاس کوئی ترکیب نہیں ہے جس کی وجہ سے زرعی اجناس کی قیمتیں بہت گر چکی ہیں اور کسان کی قوت کاشتکاری اور قوتِ خرید دم توڑتی جا رہی ہے،اگر یہی صورتحا ل برقرار رہی تو کسان کاشتکاری کو خیرآباد کہہ دیں گے اور ملک کی انڈسٹری کا 70فیصد خام مال زرعی شعبہ سے آتاہے تباہ ہو جائیگی۔اس وقت ناجائز قسم کے ٹیکسزسے زرعی شعبہ کو تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔جننگ فیکٹری اور تیل کے کارخانوں پر10سے 18فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے سے براہ راست اثر کاٹن کی پھٹی پر پڑا ہے اور پھٹی کی قیمت مارکیٹ میں یکدم گر کر 4800سے 3200ہو گئی ہے،اسی طرح شوگر مل مافیا پچھلے دو سالوں سے کسانوں کے اربوں روپے دبا کر بیٹھا ہوا ہے لیکن حکومتی مشینری کسانوں کو ان کی رقوم کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔کھاد پر جو نام نہاد سبسڈی اناﺅنس کی گئی تھی وہ بھی بس کاغذوں کی زینت بن کے رہ گئی ہے اور عملاًکسانوں کو کو ئی سبسڈی نہیں مل رہی ہے۔واپڈا نے اوور بلنگ کی انتہا کر رکھی ہے اور واپڈا ملازمین کئی ناجائز طریقوں سے کسانوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں،لاہور بارڈر پٹی کے کاشتکاروں کا پانی تک بند کر دیا گیا ہے اور وہاں بجلی کئی کئی دن تک بند رہتی ہے جب وہاں کسان بورڈ کی مقامی قیادت کسانوں کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور سوئے ہوئے سرکاری ملازمین کی توجہ ان کے اصل کام کی طرف دلاتی ہے تو غنڈہ عناصر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لیے غنڈہ گردی کرتے ہیں،مگر جوان عزم کسان بورڈ کی قیادت ان تمام مسائل کے باوجود کسانوں کے مسائل کو حل کروانے کے لیے ڈٹی ہوئی ہے،کسانوں کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہم جو پورے ملک کے لیے خوراک کا بندوبست کرتے ہیں ہمیں جینے کا حق دیا جائے اور ہمیں سابقہ دور حکومت میں جو بڑی جدوجہد کے بعد ریلیف ملا تھا وہ بحال کیا جائے۔ جبکہ صدر کسان بورڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی ایڈوائزری کمیٹیوں کو فی الفور بحال کیا جائے،ٹیوب ویل پر بجلی کی قیمت میں اضافہ واپس لیا جائے اور یونٹ کی پرانی قیمت بحال کی جائے،زرعی مداخل پر عائد جی ایس ٹی فوری ختم کیا جائے،کسانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کو بحال کیا جائے،ورنہ کسان اپنے حقوق کے لیے ایوانوں کا رخ کریں گے۔

مزید : کسان پاکستان