"گائوں کے 110 مسلمان مرد خواتین بچے ہماری آنکھوں کے سامنے شہید کر دیئے گئے ہمارے قافلہ کی 22 خواتین کو اٹھا کر سکھ لے گئے کچھ خواتین نے اپنی عزتیں بچانے کیلئے کنوئوں میں چھلانگیں لگا کر موت کو ترجیح دی اس دوران مجھ سمیت. . ." قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرنیوالی خاتون نے آپ بیتی سنادی

"گائوں کے 110 مسلمان مرد خواتین بچے ہماری آنکھوں کے سامنے شہید کر دیئے گئے ...

  

ملتان (ویب ڈیسک) پاکستان اور بھارت کے تعلقات کئی دہائیوں بعد بھی ٹھیک نہ ہوسکے اورکشمیری عوام بھی بھارتی محاسرے میں اپنی زندگیاں بتانے اور قربانیاں دینے پر مجبور ہیں، ایسے میں قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرنیوالی خاتون نے بھی اپنی آپ بیتی سنادی۔

روزنامہ نوائے وقت کے مطابق قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے آنے والی شریفاں بی بی نے بتایا کہ   بھارت کے ضلع فیروز پور گاو¿ں پپلی میں میرے والد کو انہی سکھوں سے شہر سے گاو¿ں واپس آتے ہوئے شہید کردیا اور میرے بابا کا قتل ہمارے خاندان میں سب سے پہلی شہادت تھی اور پھر شہادتوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا کہ آج بھی جب ان پیاروں کی یاد ستاتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے برصغیر کی تقسیم کا اعلان ہوتے ہی سکھ مسلم فسادات پھوٹ پڑے ہر طرف سے مارو مارو بھاگو بھاگو کی آوازیں سنائی دینے لگیں‘ ہم اپنے خاندان کے 190افراد کے ہمراہ سب کچھ چھوڑ کر نہتے بھاگ کھڑے ہوئے‘ 2 کلومیٹر کا سفر پیدل کیا تو سکھوں نے اچانک حملہ کر دیا تو گاو¿ں کے 110 مسلمان مرد خواتین بچے ہماری آنکھوں کے سامنے شہید کر دیئے گئے ہمارے قافلہ کی 22 خواتین کو اٹھا کر سکھ لے گئے کچھ خواتین نے اپنی عزتیں بچانے کیلئے کنوو¿ں میں چھلانگیں لگا کر موت کو ترجیح دی اس دوران مجھ سمیت 50 افراد نے گنے کے کھیت میں چھپ کر جان بچائی گنے کے کھیت میں کچھ روز گھاس پر گزارہ کرنے کے بعد ہمیں ایک ملٹری ٹرک کے ذریعے والٹن کیمپ میں منتقل کیا گیا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اس قدر قربانیاں دیں مگر ان قربانیوں کی کوئی قدر نہیں کی گئی جن قربانیوں اور مشکلات کے بعد آزادی نصیب ہوئی تو یہ ملک آج مدینہ جیسی ریاست ہوتا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -ملتان -