ہواوے نے ’ہواوے ڈویلپر کانفرنس ‘ میں اپنا آپریٹنگ سسٹم متعارف کروا دیا

ہواوے نے ’ہواوے ڈویلپر کانفرنس ‘ میں اپنا آپریٹنگ سسٹم متعارف کروا دیا
ہواوے نے ’ہواوے ڈویلپر کانفرنس ‘ میں اپنا آپریٹنگ سسٹم متعارف کروا دیا

  


بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چینی ٹیکنالوجی کمپنی ’ہواوے‘ نے آج ’ہواوے ڈویلپر کانفرنس ‘ میں اپنا آپریٹنگ سسٹم متعارف کروا دیا ہے جس کا نام ’ہارمنی او ایس‘ (HarmonyOS)رکھا گیا ہے۔ یہ ایک نیا مائیکروکرنل بیسڈ ڈسٹری بیوٹڈ آپریٹنگ سسٹم ہے جو صرف موبائل فونز ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی ڈیوائسز میں چلے گا۔

ہواوے کے کنزیومر بزنس گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رچرڈ یو نے کانفرنس میں بتایا کہ ”یہ نیا آپریٹنگ سسٹم متعارف کروانے کے پیچھے کچھ مقاصد کارفرما ہیں۔ آج ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو رہے ہیں جہاں صارفین توقع کرتے ہیں کہ انہیں ایسا آپریٹنگ سسٹم مہیا ہو جو ہر طرح کی ڈیوائسز میں چلے۔ صارفین کی اس توقع پر پورا اترنے کے لیے ہم نے یہ آپریٹنگ سسٹم تیار کیا ہے جو ’کراس پلیٹ فارم‘ کی صلاحیتوں سے لیس ہے۔ یہ آپریٹنگ سسٹم تیز رفتاری اور مضبوطی سکیورٹی کے ساتھ ہر طرح کی ڈیوائسز میں صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

رچرڈ یو کا کہنا تھا کہ ”یہی وہ مقاصد تھے جن کے پیش نظر ہم نے ہارمنی او ایس تیارکیا۔ ہارمنی او ایس اینڈرائیڈ اور آئی او ایس سے یکسر مختلف ہے۔ یہ ایک مائیکروکرنل بیسڈ ڈسٹری بیوٹڈ آپریٹنگ سسٹم ہے جو ہر طرح کی ڈیوائسز میں یکساں روانی کے ساتھ کام کرے گا۔ یہ قابل اعتبار اور محفوظ آرکیٹکچر کا حامل ہے۔ اس آپریٹنگ سسٹم کے لیے آپ ایک بار ایپلی کیشنز تیار کریں گے جس کے بعد وہ ایپلی کیشنز ہر طرح کی ڈیوائسز پر یکساں روانی کے ساتھ چلیں گی۔

روایتی طور پر نیا آپریٹنگ سسٹم نئی قسم کی ڈیوائسز کے ساتھ مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ 10سال قبل ہواوے نے ایک ایسے مستقبل کا خواب دیکھا تھا جس میں مصنوعی ذہانت ہماری زندگی کے ہر پہلو سے یکساں اور بے جوڑ طریقے سے مربوط ہوتی۔ یہ آپریٹنگ سسٹم اس خواب کی تعبیر ہے۔ یہ ایک بہت ہلکے وزن جامع آپریٹنگ سسٹم ہے تاہم طاقتور فعالیت کا حامل ہے۔ ابتداءمیں یہ سمارٹ واچز، سمارٹ سکرینز،گاڑیوں کے سسٹمزاور سمارٹ سپیکرز جیسی سمارٹ ڈیوائسز میں استعمال کیا جائے گا۔ اس آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے ہواوے تمام ڈیوائسز کے لیے ایک مربوط اور شیئرڈ ایکوسسٹم مہیا کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

اس آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے صارفین کو شیئرڈ کمیونیکیشن پلیٹ فارم، ڈسٹری بیوٹڈ ڈیٹا مینجمنٹ، ڈسٹری بیوٹڈ ٹاسک شیڈولنگ اور ورچوئل پریفرلز کا شاندار تجربہ ہو گا۔ ہارمنی او ایس کے لیے ایپلی کیشنز تیار کرتے ہوئے ڈویلپرز کو ڈسٹری بیوٹڈ ایپلی کیشنز کے لیے انڈرلائنگ ٹیکنالوجی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا پڑے گا۔ اس آپریٹنگ سسٹم کے آنے سے ڈسٹری بیوٹڈ ایپلی کیشنز کی تیاری اتنی آسان ہو جائے گی کہ اس سے قبل اتنی آسان کبھی نہ تھی۔ اس آپریٹنگ سسٹم کے لیے جو ایپلی کیشنز تیار کی جائیں گی وہ ہر طرح کی ڈیوائسز پر یکساں روانی اور ربط کے ساتھ چلیں گی۔

ہارمنی او ایس اپنے ڈیٹرمنسٹک لیٹنسی انجن اور ہائی پرفارمنس انٹرپراسیس کمیونی کیشن (آئی پی سی)کے ذریعے پرفارمنس کے حوالے سے بھی درپیش چیلنجز کا خاتمہ کر دے گا۔ ان دونوں خصوصیات کی وجہ سے ایپلی کیشنز کا لیٹنسی ریسپانس 25.7فیصد کم ہو جائے گااور ڈیوائسز تیزرفتاری سے کام کریں گی۔ آئی پی سی اس آپریٹنگ سسٹم کو موجودہ آپریٹنگ سسٹمز کی نسبت 5گنا زیادہ مو¿ثر بنائے گا۔

ہارمنی او ایس میں بالکل نیا مائیکروکرنل ڈیزائن استعمال کیا گیا ہے جو مضبوط سکیورٹی اور کم لیٹنسی جیسے فیچرز سے لیس ہے۔ یہ کرنل فنکشنز کو سادہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈیوائسز پر یہ آپریٹنگ سسٹم یکساں روانی کے ساتھ کام کرے اور سکیورٹی بھی اعلیٰ درجے کی ہو۔

آج کانفرنس میں ہارمنی او ایس 1.0متعارف کروایا گیا جو کمپنی کی رواں سال آنے والی سمارٹ سکرین پراڈکٹس میں استعمال کیا جائے گا۔ آئندہ تین سالوں میں اس کا دائرہ کار دیگر سمارٹ ڈیوائسز ’ویئرایبلز‘ (Wearables)، ہواوے ویژن اور ہیڈ یونٹس وغیرہ تک بڑھایا جائے گا۔

ہارمنی او ایس کی کامیابی کا انحصار ڈویلپرز اور ایپلی کیشنز کے ڈائنامک ایکوسسٹم پر ہے۔ چنانچہ ڈویلپرز کی حوصلہ افزائی کے لیے ہواوے ہارمنی او ایس کو بین الاقوامی سطح پر اوپن سورس پلیٹ فارم بنائے گی۔ کمپنی ایک اوپن سورس فاﺅنڈیشن بھی قائم کرے گی اور ڈویلپرز کے درمیان باہمی اشتراک میں مدد کے لیے ایک اوپن سورس کمیونٹی بھی بنائی جائے گی۔ان اقدامات کے باعث ہارمنی او ایس صارفین، تاجروں اور ڈویلپرز سمیت مارکیٹ سے وابستہ تمام لوگوں کے لیے کئی ثمرات لائے گا۔

رچرڈ یو کا کہنا تھا کہ ”ہمیں یقین ہے کہ ہارمنی او ایس انڈسٹری کو نئی زندگی دے گا اور ایکوسسٹم کو بہتر بنائے گا۔ صارفین کو متنوع تجربے سے روشناس کرانا ہماری منزل ہے۔ ہم دنیا بھر کے ڈویلپرز کو مدعو کرتے ہیں کہ آئیں اور ہمارے ساتھ اس نئے ایکوسسٹم کی تیاری کے مشن میں شامل ہوں۔“

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی