کہنے کو تو میں جنت نظیر ہوں ۔۔۔

کہنے کو تو میں جنت نظیر ہوں ۔۔۔
 کہنے کو تو میں جنت نظیر ہوں ۔۔۔

  


تم پہلے آپس میں لڑ لو،،میرے سینے پر تو خون کی ہولی کئی دہائیوں سے کھیلی جا رہی ہے،،، ہاں پہلے تم میرے پر اپنی سیاست تو چمکا لو ،،،کئی دہائیوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے میرے لئے کہاں نیا ہے یہ سب،،، مجھ پر ظلم کرنے والے مجھے ہی اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہیں اور پھر اس اٹوٹ انگ کے ساتھ جو ہوتا ہے میرے قبرستان اس کی داستان چیخ چیخ کر سنا رہے ہیں مگر ظلم کی انتہا بھی مجھ پر اور مفادات بھی مجھ سے،،،کوئی میرے نام پر ووٹ مانگ رہا ہے تو کوئی میرے پر روز بہتا خون دیکھا دیکھا کر ہمدردی سمیٹ رہا ہے،،،میں متنازع ہوں اب تک شاہد متنازع ہی رہوں گا،،دو لخت ہوں شاید کھبی ایک نہ ہو سکوں ،،اب تو شاید مذید تقسیم ہونا پڑے گا،،،سنا ہے اب تو ایک دعوےدار دہشتگرد ظالم نے میرے حیثیت ہی ختم کرنے کی ٹھان لی،،،کسی کو کوئی فرق نا پڑا ،،،دونوں فریق اس خطے پر مکمل کنٹرول کے لیے دو جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ’بلا اشتعال فائرنگ’ کے واقعات بھی معمول ہیں۔

بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشتگردکارروائیوں میں جنوری 1989ء سے اب تک 95136 بے گناہوں کو شہید کیا ہے، جن میں 7245 کو دوران حراست شہید کیاگیا۔ 22,788 خواتین بیوہ، 107,800 بچے یتیم، 10,229 خواتین کی بے حرمتی، 8ہزار سے زاید افراد کو حراست کے دوران لاپتا، 106,025 عمارتوں کو تباہ، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار، جب کہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سیکڑوں معصوموں کو مختلف جیلوں میں قید کیا گیا۔ ایک لاکھ 36 ہزار سے زائد کو حراست میں لیا گیا۔میرے پر نثار ایک بیٹے برہان وانی کی شہادت کے بعد تو میرے سینے پر دشمن کے وار شدید ہو گئے ایک سال میں فسطائیت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے 20 ہزار سے زائد پیلٹ گنز کا نشانہ بنے۔ 150 شہید، 18ہزار سے زاید زخمی، 2200 افراد بصارت سے محروم، 11ہزار گرفتار ، 17ہزار رہائشی مکانات اور ساڑھے 6ہزار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔دہشت گردی اور بدامنی کا الزام لگا کر اس دوران ایک لاکھ سے زاید گھروں کو بھی مسمار کردیا گیا۔ ظالم دعوےدار قابض نے جدوجہد آزادی کی روح سرے سے ختم کرنے کے لیے نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ شہید کیے جانے والوں میں صرف بے قصور لاچار اور بے بس معصوموں ہیں،کیا ان کا قصور فقط کشمیری ہونا ہے؟ میرا پر بہتا خون لال نہیں ؟ کیا انسان نہیں بستے یہاں ؟ قصور کیا ہے آخر میرا،،میں کہنے کو تو جنت نظیر ہوں ،،،،کیا کوئی ایسی جنت دیکھی کسی نے جس میں سارا سال کرفیو نافذ رہے؟؟ہر روز بیٹیوں کی عصمت قربان ہوتیں ہوں؟؟اس جنت میں زندہ سے زیادہ قبرستان آباد ہیں ،،کس کا ہوں میں ؟ کشمیر بنے کا پاکستان کے نعرے اور اس پر شہادتیں ،،میرے ساتھ دینے والے میرے لئے آواز اٹھانے والے نظر بند ۔

کہیں بزرگ سید علی گیلانی پابند سلاسل ہے تو کہیں ٹارچر سیل میں پڑا ہے بیماری اور ظلم سے لڑتا یاسین ملک ،،کہیں نظریاتی امید ٹوٹتی دیکھائی دیتی ہے محبوبہ مفتی کی تو کہیں میر واعظ ہے قید میں،،،جو میرے لئے آواز اٹھائے گا اس کا مقدر یہی ہے تعجب اس بات پر ہے کہ کہاں ہیں انصاف کے علم بردار،،،کہاں ہیں انسانی حقوق کے نام نہاد ترجمان؟ اور جو نخیف سی ایک آواز ہے اسےعالمی سطح پر سننے والا کوئی نہیں ،،، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے نے اب اس لہو لہاں جنت نظیر کا ایک اور حصہ جدا کر دیا اور اس کو اپنا بنا لیا 38000  بندوقین بڑھا دیں اور کوئی کچھ نہیں کر سکا،،، ہاں پھر وہی ہو رہا ہے جو کئی دہائیوں سے دیکھ رہا ہوں ۔

میرے جسم کے ہر حصے سے خون رس رہا ہے اور ایوانوں میں شور ہے چور چور کا ،،، لڑائی جاری ہے مجھے بہانہ بنا کر اپنے مفادات کی ،، الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے ،،،وہی تماشہ ہے چار سو،،،مجھ میں کچھ باقی نہیں بچا ،، ہاں میں نے کچھ ٹوٹنے نہیں دیا تو وہ ہے امید،،،میرے آزادی کی ،، اور اس امید پر بیٹے بیٹیاں بچے سب کٹ مرنے کو تیار ہیں ،،، نہیں لینے دیں گے نہیں جھکیں گے،،،آخری دم تک خون کے آخری قطرے تک ہم لے کر رہیں گے آزاری کی آواز آتی رہے گی،،،بس ایک بات ،،بس ایک اگراب بھی کچھ کر سکتے ہو تو بس اتنا کہ ،، خدارا اس امید کو ٹوٹنے نہ دینا ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ