بیروت، مشتعل مظاہرین کا وزارت خارجہ و اقتصادیات کے دفاتر پرقبضہ 

بیروت، مشتعل مظاہرین کا وزارت خارجہ و اقتصادیات کے دفاتر پرقبضہ 

  

بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک)لبنان کے شہر بیروت میں ہونیوالے حالیہ دھماکے بعد ہزاروں مشتعل مظاہرین نے وزارت خارجہ اور وزارت اقتصادیات کے دفاتر پر قبضہ کر لیا۔ الجز یرہ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے وسطی بیروت میں پارلیمنٹ کی عمارت تک جانے کی کوشش کی اور اس دوران مظاہرین اور پولیس کے مابین ہنگامہ آرائی بھی ہوئی۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لائیو فائرنگ بھی کی۔رپورٹ کے مطابق مظاہرین کا ایک گروپ بیروت میں واقع وزارت اقتصادیات کے دفتر میں گھس گیا اور دفتری کاغذات اور لبنانی صدر کی تصاویر کو پھینک دیا۔لبنانی ریڈ کراس نے بتایا بیروت کے احتجاجی مقام سے کم از کم 32 مظاہرین کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ علاوہ ازیں 110 سے زائد زخمی مظاہرین کو 'شہید اسکوائر' پر طبی امداد فراہم کی گئی۔دوسری جانب لبنانی فوج کے ریٹائرڈ فوجی افسران کی سربراہی میں مظاہرین کے ایک گروپ نے وزارت خارجہ پر دھاوا بولا اور اسے 'انقلاب کا صدر مقام' قرار دیا۔مظاہرین نے صدر مشیل آؤن کی تصویر بھی نذر آتش کردی۔مظاہرین میں شامل ایک نے میگا فون پر کہا ہم لبنانی عوام سے تمام وزارتوں پر قبضہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔لبنانی فوج نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں مظاہرین سے سرکاری و نجی املاک کو تباہ یا نقصان نہ پہنچانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا آرمی کمانڈ لبنانی عوام کے درد کو محسوس کرسکتے ہیں اور ہم مظاہرین کو پر امن طریقے سے اظہار رائے کی تلقین کرتے ہیں۔ادھرلبنان کے وزیر اعظم حسن دیب نے دھماکے کے بعد قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا یہ ملک کے بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ہم قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرائے بغیر ملک کے انتظامی بحران سے باہر نہیں نکل سکتے، ہمیں ایک نئی سیاسی طاقت اور نئی پارلیمنٹ کی ضرورت ہے۔

بیروت مظاہرے

مزید :

صفحہ آخر -