موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بی 3، آؤٹ لک مستحکم قرار دیدی،درست اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ ہے:وفاقی وزراء

موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بی 3، آؤٹ لک مستحکم قرار دیدی،درست اقتصادی ...

  

 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 1 سے 2 فیصد کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کردی۔بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی مرتب کردہ جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نجی شعبے سے حاصل کردہ قرضوں کی واپسی کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان کے پاس آئندہ 12 سے 18ماہ کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر دستیاب ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت سے پاکستان میں فارن ایکس چینج کی دستیابی رہے گی تاہم کورونا وباء کی وجہ سے بڑھنے والے حکومتی اخراجات سے معاشی اشاریے دباؤ میں رہیں گے۔موڈیز نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ اب بھی قرضے دینے والے نجی شعبے کو محدود پیمانے پر نقصانات کے امکانات ہیں لیکن بی تھری ریٹنگ محدود پیمانے پرہونے والے نقصانات کو تحفظ دیتی ہے۔دوسری طرف وزارت خزانہ نے موڈیز کا پاکستان کی ریٹنگ مستحکم کرنے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موڈیز کی جانب سے ریٹنگ مستحکم کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان کی ریٹنگ بی تھری میں برقرار رہے گی۔ موڈیز کا اقدام پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں پر اعتماد ہے، موجودہ مشکل حالات میں موڈیز کا پاکستان پر اعتماد خوش آئند ہے، موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ آؤٹ لک جائزہ سے مستحکم کردی ہے، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بھی بی تھری پر برقرار رکھی گئی ہے۔ وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے کہا ہے کہ موڈیز کا پاکستان کی ریٹنگ بی 3 اور آؤٹ لک مستحکم کرنا حوصلہ افزاء ہے۔عالمی وباء کورونا کے باوجود پاکستان کی معیشت میں بہتری کو تسلیم کیا گیاہے۔پاکستان کی ریٹنگ جون 2018ء میں بی 3 نیگٹو کی گئی تھی۔پاکستان کی ریٹنگ میں کمی مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیوں کی بناء پر ہوئی تھی۔دسمبر 2019ء میں پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں سے اقتصادی استحکام آیا۔جبکہ وفاقی وزیر علی زیدی نے موڈیز کی تازہ رپورٹ میں آؤٹ لک ریٹنگ کو مستحکم قرار دینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریئے درست سمت کی طرف جارہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومتی اقتصادی ٹیم درست فیصلے کررہی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -