اسلام آباد میں لاک ڈاؤن ختم،سندھ حکومت کا کل سے کاروبار کھولنے کا فیصلہ

اسلام آباد میں لاک ڈاؤن ختم،سندھ حکومت کا کل سے کاروبار کھولنے کا فیصلہ

  

 اسلام آباد،کراچی،لاہور،پشاور (سٹاف رپورٹرز، جنرل رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وفاقی دارالحکومت میں مارکیٹوں، دکانوں اور شاپنگ مالز کو پورا ہفتہ کام کرنے کی اجازت دیدی گئی،جس کے بعد ہفتہ کو کاروبار مکمل طور پر کھل گیا۔ اسلام آباد میں مارکیٹوں،دکانوں اور شاپنگ مالز کیلئے لاک ڈاؤن مکمل ختم کردیا گیا اور شہر میں اب دکاندار پورا ہفتہ کاروبار کر سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کا کاروباری افراد نے خیر مقدم کیا۔ اسلام آباد میں دکانیں کھلنے سے خریدار بھی خوش ہیں اور کہتے ہیں دفتر سے آنے کے بعد مار کیٹوں میں خریداری کے اوقات کار ختم ہو جانے کے باعث مشکلات درپیش ہوتی تھی، اب چھٹی والے دن سکون سے خریداری کر سکیں گے۔دوسری طرف سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے بھر میں کل بروز پیر10 اگست سے کاروبار کھولنے کا اعلان کر دیا۔یہ اعلان وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں کیا گیا جس کے تحت کل بروز پیر 10اگست سے تمام ریسٹورنٹس کھول دئیے جائیں گے، ریسٹورنٹس میں کھانے پینے کی بھی اجازت بھی ہوگی، ریسٹورنٹس رات 10 بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی۔اجلاس میں سیکریٹری صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا ڈبلیو ایچ او نے اپنی سفارشات دی ہیں، ہمیں کرونا کیساتھ رہنا ہوگا، جب تک اس کی ویکسین تیار نہ ہو جائے۔ مراد علی شاہ نے کہا کل شہرکے دورے پر تھا، کسی کو ماسک پہنا ہوا نہیں دیکھا، ہمیں لوگوں کے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی، ہم جلد سکولز، درگاہیں اوردیگر کاروباری سرگرمیاں بھی کھولیں گے۔ادھر صوبہ پنجاب میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد حکومت نے  فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کھولنے کیلئے ایس او پیز جاری کر دیے ہیں،جن کے تحت فاسٹ فوڈ اور ریسٹورنٹس کے ڈائننگ ہال میں پارٹیز نہیں ہونگی۔ 60 سال سے زائد عمر والوں کا دا خلہ ممنوع، ٹیبل کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ، پلے ایریاز بند، ماسک، سینی ٹائزر اور ٹمپریچر کی چیکنگ لازمی ہو گی۔ یہ ایس اور پیز سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کیپٹن (ر) محمد عثمان نے جاری کئے۔ ڈائننگ ہال میں 100 کی بجائے 50 فیصد تک لوگوں کو کھانا کھانے کی اجازت ہو گی۔ ریسٹورینٹ میں سماجی فاصلے کا خاص خیال رکھنے سمیت ریسٹورینٹ انتظامیہ اور ورکز گلوز اور ماسک کا استعمال لازمی کریں گے۔ شہریوں کو بھی بغیر ماسک کے ریسٹورینٹ میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہر کھانے کی ٹیبل پر ریسٹورینٹ انتظامیہ پر سینٹائزر رکھنا لازمی ہو گا۔ ریسٹورینٹ میں کسٹمرز کو بوفے ایریاز میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ویٹرز کسمٹر کو بوفے ایریاز سے خود کھانا تقسیم کریں گے۔دریں اثناء ناران، کاغا ن اور مری کے سیاحتی مقامات کی رونقیں بحال ہوگئیں، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے بڑے کاروبار کھل گئے، مقامی لوگوں اور سیاحوں نے حکومتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ملک بھر کے سیاحتی مقامات پر 5 ماہ بعد سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔ ملکہ کوہسار مری میں ہوٹلز، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروبار کھل گیا، زندگی کا پہیہ چل پڑا، وادی کے حسین نظاروں کی سیر کرنے کیلئے سیاحوں کی آمد شروع ہوگئی جنہوں نے حکومتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ہنزہ، گلگت سمیت دیگر سیاحتی مقامات کی رونقیں بحال ہوگئیں جس کے بعد عوام نے بھی ویک اینڈ پر تفر یح کا پروگرام بنالیا۔ کچھ سیاح پہنچ رہے ہیں، کچھ موسم کا مزہ لینے کیلئے پہنچ چکے ہیں۔دریں اثناء وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلا روکنے کیلئے ٹورازم سیکٹر کیلئے ایس او پیز کی تیاری ناگزیر ہے، نو ماسک نو ٹورازم پالیسی اپنائی جائے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کا اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی حکام نے ویڈیو لنک پر کورونا وائر س کی صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ایس او پیز کیساتھ ٹورازم سیکٹر کی بحالی کے امور پر بھی غور کیا گیا۔ اسد عمر کا کہنا تھا سیاحتی مقامات پر کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہو رہی ہیں جو افسوسناک ہیں، سیاحتی مقامات پر ایس او پیز پر عمل نہ کرنے سے کورونا وائرس پھیل سکتا ہے۔ اجلاس میں خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان کے حکام کو سیاحتی گائیڈ لائنز کی تیاری کی ہدایت کردی گئی۔اسد عمر کا کہنا تھا آزاد کشمیر، پختونخوا اور گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات انتہائی اہم ہیں، مقامی حکومتیں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروائیں۔

لاک ڈاؤن 

مزید :

صفحہ اول -