گھوڑی کچیاں کے پکیاں؟؟؟

گھوڑی کچیاں کے پکیاں؟؟؟
 گھوڑی کچیاں کے پکیاں؟؟؟

  

سجنو تے مترو، کپتان نے جوکشتیاں جلانی تھیں  جلا دی ہیں اور جن جن کی بیڑیوں میں وٹے ڈالنے تھے وہ بھی ڈال دیئے، گھبرانے والی بات اب رہی کوئی نہیں۔ یقین کریں نیو لاہور سٹی نئے پاکستان منصوبے جیسا نہیں ہو گا۔ آنے والے دنوں میں راوی چین ہی چین لکھے گا اور اگر نہیں لکھے گا تو نیب سوفٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے موجود ہے۔آپ دیکھ لیں اس نے شہباز شریف، مریم نواز اور حتیٰ کہ بڑے بھیا کو کیسے سائلنٹ موڈپر لگایا ہے۔ بات میں کر رہا تھا دریائے راوی کنارے بالکل نوا نکور شہر آباد کرنے کی۔ وزیر اعظم نے گزشتہ روز تقریب میں جو اس کے خدو خال بیان کئے آپ یقین کریں میں نے لاہور میں اپنا پانچ مرلے کا اکلوتا گھر بیچنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ میں نئے شہر میں کارنر کا پلاٹ لے سکوں اور چڑھتے راوی کی چھالیں اپنی کھڑکی سے دیکھوں۔ سنا ہے نئے شہر میں پولیس بھی نئی ہو گی اور بلین ٹری کی شاندار کامیابی کے بعد اس شہر میں مصنوعی جنگل میں ساٹھ لاکھ نئے درخت بھی لگیں گے۔ نیب نے اس جنگل میں چھوڑنے کے لئے شیروں، ببر شیروں، ہاتھیوں، لگڑ بھگوں، بھیڑ، بھیڑیوں کو قید کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہیں اب یہ تربیت دی جا رہی ہے کہ کیسے شیر اور بکری نے ایک گھاٹ پانی پینا ہے۔

مثال کے طور پر شہباز شریف اور بلاول کی ملاقاتیں لے لیں۔ ویسے تو یہ شہر بنانا کلّے بندے کا کام ہے ہھی نہیں اور پھر حکمرانوں میں کسی بندے کا ملنا ویسے ہی مشکل ہوتا ہے۔ لیکن عمران خان اور بزدار مل کر اس شہر کے کولمبس سینئر اور کولمبس جونیئر ہونگے۔ اٹلی اور فرانس کے درمیان زیر سمندر سرنگ بننی تھی جس کے لئے ٹینڈرز طلب کئے گئے مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بلین یوروز کے ٹینڈر جمع کرائے۔ ان ٹینڈر میں ایک صرف 5 ہزار یورو کا تھا۔ حکام نے سب سے پہلے اس کمپنی کو طلب کیا۔ اپنے سنتا سنگھ بطور سی ای او انٹرویو کے لئے پہنچے، ان سے سوال ہوا آپ اتنے کم پیسوں میں یہ ٹنل (سرنگ) کیسے بنائیں گے، سنتا سنگھ بولے جناب میں اٹلی رہتا ہوں، بڑا بھائی بنتا سنگھ فرانس، یہاں سے میں بیلچے سے کھودنا شروع کروں گا فرانس سے وڈا بھرا۔ سمندر کی تہہ میں جہاں ہم دونوں ملے آپ کی ٹنل بن جائے گی۔ انٹرویو کرنے والا ہنستے ہوئے بولا سنتا سنگھ اگر آپ دونوں کا ملاپ نہ ہو ااور آپ دونوں قریب سے گذر گئے تو کیا ہو گا؟ سنتا سنگھ بولا، ہتھ سٹو تہاڈی دو ٹنل بن جان گیاں۔ خیر یہ تو سنتا اور بنتا ہیں،ایسے ہی کرتے ہیں۔ لیکن مجھے اپنے کپتان اور وسیم اکرم پلس پر یقین ہے کہ دونوں مل کر راوی کنارے نیا شہر ضرور آباد کر لیں گے۔ کام اوکھاہے ناممکن نہیں۔ کپتان کے ورلڈ کپ سے شوکت خانم ہسپتال، نمل یونیورسٹی سے وزارت عظمیٰ سب خواب سی خواہشیں تھیں لیکن اس نے انہیں عملی جامعہ پہنایا۔ میرا یقین ہے نیا شہر کا خواب ضرور انسانوں کا جامعہ پہنے گا۔

چلو اچھا ہے سنّدرہے  اور بوقت ضرورت کام آوے۔ نیب نے منہ کا ذائقہ چینج کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ بزدار کو طلب کر لیا۔ کوئی پانچ سات کروڑ لگ بھگ کی کرپشن بنتی ہے، اتنی سی کرپشن کے الزام پر میرا دل کرتا ہے چیئرمین نیب کا ماتھا چوم لوں۔ لیکن سنتا سنگھ کہتا ہے کہ بھائی جان بزدار کا تو ایویں ششکا ڈالا گیا ہے اصل شکار کوئی اور ہے اور یہ بات شکار کو بھی پتہ ہے۔پنڈت نے لڑکے،لڑکی کی کنڈلی ملائی دونوں میں چھتیس کے چھتیس گْن مل گئے۔لڑکے کے باپ بنتا سنگھ نے رشتہ سے انکار کر دیا۔لڑکی والے بولے،سردار جی لڑکا لڑکی ایک سے ہیں انکار کیوں؟بنتا سنگھ بولا میرا بیٹا لفنگا ہے ہن میں نو (بہو)وی لفنگی لے آواں؟بھیا میرے یہ عظیم عوامی خدمت والی سیاست ہے اس میں جو بھی ولی قدم رکھے گا کم از کم اربوں،کھربوں پتی تو ہو گا۔ہر سیاستدان چاہے وہ پی ٹی آئی کا ہو پی پی کا یا نون لیگ کا،سب کے گْن ایک سے ہیں۔قوم کا بچہ بچہ غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے کْھبا ہو ا ہے اور جن کے دور حکمرانی میں یہ قرضے لئے گئے وہ چھوٹی موٹی بے ایمانیوں،فراڈوں کے ساتھ اربوں،کھربوں پتّی ہیں۔پتہ نہیں یہ کون سا ھذا من فضل ربی ہے جو صرف ان کے لئے بنا ہے۔غریب کا بچہ تعلیم،روزگار،صحت کی خواہش لئے خون تھوکتے تھوکتے مر جاتا ہے اور ان پر حکمرانی کرنے والے غریبوں کے ان داتا?ں کے کتے بھی موجیں کرتے ہیں۔اس قوم کی عظمت دیکھیں جو آتا ہے اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر فخر سے پوچھتا ہے ”گھوڑیاں کچیاں کے پکیاں“اور یہ قوم مرتے مرتے لرزتی ٹانگوں اور کپکپاتی آوازوں سے ایک ہی بات کہتی ہے ”گھوڑیاں پکیاں،گھوڑیاں پکیاں“ َ۔

مجھے ایویں ای شک نہیں ہوتا کہ عمران خان اور ان کے ہمدرد اپنی تمام تر مجبوریوں کے باوجود ایک کمزور سی ہمت اور ایک چھپی سی قومی غیرت رکھتے ہیں۔اگر سعودی عرب کو صرف جلی کٹی سنائی جاتیں تو میں بھی اسے شاہ محمود کی آنیاں جانیاں قرار دیتا۔لیکن جب پاکستان نے سعودی عرب کے ایک ارب ڈالر قرضہ واپس کیا تو محسوس ہو کہ نہیں یہ مٹی ابھی بنجر نہیں ہوئی۔شدت طلب میں بھی غیرت مے کشی برقرا ر ہے۔ویلڈن عمران خان،ویلڈن شاہ محمود قریشی۔اس میں کوئی شک نہیں سعودی عرب ہمارا بڑا بھائی ہے مکہ،مدینہ کے لئے ہماری ہمارے بچوں کی جان بھی حاضر ہے لیکن اس کے حکمران اگر مسلم امہ کے بڑے بھائی ہونے کا سہی کردار نہیں نبھائیں گے تو ہمیں بھی ”ستے بچے کا منہ چمن دی“ کوئی لوڑ نہیں۔ہم مالی مشکلات میں جی لیں گے لیکن سونے چاندی سے بنے حرموں میں رہنے والے اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتے۔یہ ہم بھی جانتے ہیں اور وہ بھی۔میں مہاتیر محمد کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔یہ ہوتا ہے لیڈر،یہ ہوتا ہے مسلمان۔اب وقت آگیا ہے جو ہمارے ساتھ چلے ہم بھی ان کے ساتھ چلیں۔دوستی اور غلامی میں کچھ فرق ہونا ضروری ہے

مزید :

رائے -کالم -