کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاشی بوجھ کم کیا جائے!

کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاشی بوجھ کم کیا جائے!
 کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاشی بوجھ کم کیا جائے!

  

محکمہ کوآپریٹو میں  جب سے سیاسی اثر و رسوخ کے تحت دیگر محکموں بالخصوص ایل ڈی اے کا عمل دخل شروع ہوا اس سے محکمہ کی کارکردگی اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کام بری طرح متاثر ہوا جس کے باعث عام آدمی کو ”اپنا گھر اپنی جنت“ کے مصداق سستے داموں گھروں کی فراہمی ممکن نہیں رہی کیونکہ اخراجات اس قدر بڑھ گئے کہ عام آدمی کے لئے اپنا گھر ایک خواب بن کر رہ گیا، اب جبکہ نئے قوانین کے تحت ایل ڈی اے کو میٹرو پولٹین کارپوریشن کی تحویل میں دیا جا رہا ہے تو ایسے میں ان قوانین کو کالعدم قرار دیا جائے جس کے تحت کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں مساجد، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے لئے مختص پلاٹس جو ایل ڈی اے کی تحویل میں چلے جاتے تھے، انہیں کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی ملکیت قرار دیا جائے۔

٭یہ کہ ایل ڈی اے کے پاس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں مکانات کے نقشوں کی منظوری وغیرہ کے جو اختیارات تھے،وہ بھی کوآپریٹوہاؤسنگ سوسائٹیوں کو منتقل کئے جائیں جو مکانات کے نقشے ایل ڈی اے کے قواعد کے تحت ہی منظور کرے گی۔

٭ یہ کہ محکمہ کوآپریٹو کے اختیارات بڑھا کر اسے اتھارٹی کا درجہ دیا جائے۔

٭ یہ کہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی طرف سے ہر سال اربوں روپے ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں جو حکومت کو جاتے ہیں، اسے دوحصوں میں تقسیم کیا جائے، جس میں سے 50فیصد حکومت اور 50فیصد رقم کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی ملکیت ہونی چاہئے،کیونکہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں ان سوسائٹیوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے جملہ اخراجات خود ہی کرتی ہیں نیز یہ رقم کوآپریٹو سوسائٹیوں کو ملنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالی اخراجات بہتر ہوں گے۔ اس طرح نئی ہاؤسنگ سکیمیں بنیں گی اور لوگوں کو سستے داموں بڑی تعداد میں گھر مل سکیں گے۔ اس طرح وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے 50 لاکھ گھروں کے تعمیر کے منصوبے کو بھی عملی شکل میں لانا ممکن ہو سکے گا بلکہ وزیر اعظم کے 50 لاکھ گھروں کے منصوبے کا ایک بڑا حصہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں احسن طریقے سے مکمل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں گی۔ پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں محکمہ کوآپریٹو کو باقاعدہ کوآپریٹو اتھارٹی کا درجہ ملنے سے حکومت کے لئے عام آدمی کو سستے داموں گھروں کی فراہمی کا حصول ترجیحی بنیادوں پر ممکن ہو سکے گا۔

   کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں مساجد سمیت تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے لئے مختص پلاٹس انہی سوسائٹیوں کی ملکیت ہوں گے تو یہ سوسائٹیاں اپنی آمدنی سے بہترین سکولز، کالجز، یونیورسٹی سمیت ہسپتال بنائیں گی۔ ان اداروں میں کم فیس وصول کر کے اعلیٰ معیار کی تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولتیں میسر ہوں گی اور بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا، جس سے ملک اور قوم کو فائدہ ہوگا۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم اور علاج معالجہ کی بہترین سہولتوں کا فقدان ہوتا جا رہا ہے، جو متوسط طبقے کی پہنچ سے بہت دور ہے، جس کا نقصان من حیث القوم ہو رہا ہے۔ اس طرح اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی کمی سے ملک معاشی ابتری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جب ایک جگہ رہنے والے افراد کی جملہ ضروریات، رہائش، خوراک، اعلیٰ تعلیم اور علاج معالجہ کی بہترین سہولتیں سستے داموں فراہم ہوں گی تو اس سے ملک کی ایک بڑی آبادی ذہنی طور پر آسودہ ہو گی جس کے اثرات سے پوری قوم مستفید ہو گی۔ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی آمدنی میں اضافہ ہونے کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ یہ سوسائٹیاں اپنے اراکین کو بہترین ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی فراہم کر سکیں گی جیسا کہ ایک وقت میں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی یہ سہولت فراہم کرتی رہی ہے۔ اس طرح متوسط طبقے کے افراد کو اعلیٰ معیار کی سہولتیں فراہم ہوں گی، جس سے حضور نبی کریم کے ”نئے شہر بسانے“کے تصور کو بھی عملی جامعہ پہنایا جا سکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -