مقدمات ختم، بے گناہ علماء کانام فورتھ شیڈول سے نکالا جائے، زبیراحمد صدیقی 

مقدمات ختم، بے گناہ علماء کانام فورتھ شیڈول سے نکالا جائے، زبیراحمد صدیقی 

  

 بہاول پور(بیورورپورٹ) ہمیں ترنوالہ نہ سمجھاجائے کھالیں جمع کرنے کے حوالہ سے این اوسی کی شرط غیرشرعی ہے بہاول پور'بہاولنگرمیں علماء کرام کے خلاف جھوٹے مقدمات فوری ختم اوربے گناہ علماء کرام کو فوتھ شیڈول سے خارج کیاجائے غلط بے بنیاد رپورٹس دینے(بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

 میں ملوث اہلکاروں کے خلا ف کاروائی عمل میں لائی جائے بصورت دیگربھرپورعوامی تحریک چلائی جائیگی عنقریب اس حوالہ سے مدارس کنونشن کاانعقادکیاجارہاہے ان خیالات کااظہار مولانا زبیراحمد صدیقی، ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان، جنوبی پنجاب نے پریس کلب بہاول پورمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پرمولانا مفتی محمد مظہر شاہ اسعدی، مسؤل وفاق المدارس العربیہ پاکستان ضلع بہاول پور، ونائب امیر جمعیت علما اسلام پنجاب 'شیخ الحدیث مولانا مفتی عطا الرحمن، مہتمم جامعہ مدنیہ بہاول پور 'مولانا قاری غلام یاسین صدیقی، صدر جمعیت علما اسلام ضلع بہاول پور'مولانا سیف الرحمن، جنرل سیکرٹری جمعیت علما اسلام ضلع بہاول پوربھی موجودتھے  مولانا زبیراحمد صدیقی نے کہا کہ  وفاق المدارس العربیہ پاکستان ملک میں دینی و عصری تعلیم کی رضاکارانہ اشاعت کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے، جس کے تحت بیس ہزار سے زائد مدارس میں تقریبا تیس لاکھ طلبا وطالبات زیر تعلیم ہیں، وفاق المدارس نے پرائیویٹ سیکٹر میں سب سے زیادہ تعلیمی خدمات سرانجام دی ہیں،اس سے پاکستان کے دینی مدارس نہ صرف آئین پاکستان پر یقین رکھتے ہیں،بلکہ دہشت گردی سمیت ریاست کے خلاف ہر چیلنج کے مقابلہ میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ دینی مدارس کا دہشت گردی کے خلاف کردار بھی کسی سے مخفی نہیں ان اداروں کے فتاوی جات اور عملی اقدامات کی بدولت ہی دہشت گردی کا جن بوتل میں بند ہوا۔انہوں نے کہا کہ  بدقسمتی سے ملک کے ان محسن اداروں کو وفا شعاری اور خدمت وطن کا صلہ دینے کی بجائے،مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے تختہ مشق بنایا جارہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے بعدسے منظم منصوبہ بندی کے تحت علما کرام، دینی مدارس اور مذہبی طبقات کے خلاف طرح طرح کے اقدامات اٹھائے گئے، مدارس کے کردار کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ الحمد للہ تحقیقاتی اداروں کی ہر طرح کی جانچ پڑتال کے بعد بھی کبھی مدارس پر کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اپنی پیش رو حکومت کے مدارس کش اقدامات کو جاری رکھا ہوا ہے، اس سلسلہ میں ضلع بہاول پور میں دینی مدارس اور علما کرام کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے، پورے صوبہ کے برعکس ضلع بہاول پور میں متعصب افسران اور اہلکارکالعدم تنظیموں کی آڑ میں دینی مدارس پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، ضلع بہاول پور اور بہاولنگر میں بطور خاص دینی طبقات کے خلاف جو اقدامات اٹھائے گئے ان میں بے گناہ علما و مشائخ کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنا۔ مختلف اوقات میں متعدد مشائخ و علما کرام کو دفاتر میں بلاکر تذلیل کرنا اور تفتیش کے نام پر پریشان کرنا۔ متعصب اہل کاروں کی جانب سے دینی مدارس کے طلبا کے والدین کو دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے سے منع کرنا۔ مختلف طریقوں سے دینی طبقات میں خوف و ہراس پھیلانا۔ دینی اجتماعات پر پابندی اور دینی مدارس کے سالانہ جلسوں پر قدغن لگانا اکثر مدارس کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی بلاجواز اجازت نہ دینا اورنہ ہی پابندی کی وجہ بتانا افسران بالا کو خوش کرنے اور اپنی کارکردگی دکھانے کے لے بے گناہ علما کرام و مشائخ عظام کے خلاف قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر جھوٹے پرچے درج کر کے گرفتار کرنا شامل ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ  گزشتہ سال متعدد علما کرام کو اسی الزام میں بے گناہ مہینوں جیل میں رکھا گیا، بہت سے حضرات پر جرمانے عائد کئے گئے، امسال عیدالاضحی کے موقع پر ضلع بہاول پورکے بیشتر دینی مدارس کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر کے ان کا معاشی قتل کرنے کی کوشش کی گئی، نیز عیدالاضحی کے روزہی مدرسہ اسلامی مشن بہاول پور کے شیخ الحدیث مولانا عبدالرزاق اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹرحمیداللہ خان جامع العلوم کے مہتمم مولانا محمد عبداللہ کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کئے گئے، جبکہ مدرسہ اصحاب صفہ کے مہتمم مولانا عبدالخالق کو مقدمہ قائم کر کے گرفتار بھی کر لیا گیا۔مذکورہ بالا شخصیات کے خلاف مقدمات، فرضی، بوگس،فرقہ پرست اہل کاروں کی رپوٹوں پر قائم کیے گئے ہیں۔جبکہ واقعہ یہ ہے کہ مدرسہ اسلامی مشن کو قربانی کی کھالوں کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے مدرسہ نے کہیں سے کوئی کھال وصول نہیں کی، اساتذہ و عہدیداران نے صرف اپنی سات کھالیں اجازت شدہ ادارے کو دینے کے لیے رکھی تھیں، ان کا بہانہ بنا کر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ  وفاق المدارس العربیہ پاکستان ان اقدامات کی شدید مذمت کے ساتھ مطالبہ کرتا ہے کہ مقدمات فی الفور واپس لے کر جھوٹے مقدمات کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قانونی کار روائی کی جائے۔ کالعدم تنظیموں کی آڑ میں بہاول پور کے علما و مشائخ کی تذلیل، مدارس کے خلاف اقدامات کو بند کیا جائے اور بہاول پور کی صورت حال کا خصوصی نوٹس لیا جائے، دینی طبقات کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اگر ان جائز مطالبات کی جانب توجہ نہ دی گئی تو پنجاب بھر میں بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ اس سلسلہ میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، علما کرام کے خلاف اقدمات رکوانے کے لیے تحریک کے پہلے مرحلے میں مدارس کنونش کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان، جمعیت علما اسلام پاکستان سمیت تمام مذہبی جماعتوں کی قیادت مدعو ہو گی،کنونش میں ہزاروں علما اور مذہبی کارکن شریک ہو کر ظلم کی بندش کے خلاف آواز اٹھائیں گے، کنونش کی تاریخ کا اعلان وفاق المدارس کی قیادت سے وقت لے کر جلد کر دیا جائے گا۔:پریس کانفرنس میں  مولانا عبدالرزاق مدرسہ اسلامی مشن 'مولانا اسحاق ساقی، مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور' مفتی انوارلحق سابق امیر جے یو آئی ضلع بہاول پور مولانا نزیر احمد وارن  سرپرست جے یو آئی ضلع بہاول پور' مولانا صہیب احمد دارلعلوم مدنیہ' قاری محمد سہیل صدیقی' قاری غلام مصطفی شاہد امیر جے یو آئی سٹی بہاول پور' مولانا راشد محمود انصاری' مولانا محمد عبداللہ جامع العلوم قدسیہ' قاری محمد اسلم ایڈوکیٹ، ضلعی سیکرٹری اطلاعات جے یو آئی ضلع بہاول پور' مولانا محمد شہباز باجوہ صاحب امیر جمعیت علما اسلام تحصیل یزمان'مولانا صدیق طارق  امیر جمیعت علما اسلام تحصیل خیرپور' قاری محمد اسلم امیر جمعیت علما اسلام تحصیل احمد پور شرقیہ 'مولانا عبد الباری گل امیر جمعیت علما اسلام تحصیل حاصل پور'مولانا شبیر احمد عثمانی قائم پور' قاری فیاض احمد مہتمم مدرسہ تیسیرالقرآن بہاول پور' مولانا عبدالخالق مہتمم مدرسہ اصحاب صفہ بہاول پور' مولانا عبدالروف شیخ الحدیث جامعہ صدیقیہ بہاول پور' قاری محمد طاہر مکہ مسجد بہاول پوربھی موجودتھے۔

زبیر صدیقی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -