یوم آزادی منانے کی تیاریاں، جگہ جگہ سٹالز، نوجوانوں، بچوں میں جو ش وخروش 

یوم آزادی منانے کی تیاریاں، جگہ جگہ سٹالز، نوجوانوں، بچوں میں جو ش وخروش 

  

 خانیوال (نمائندہ پاکستان) یوم آزادی 14 اگست کے حوالے سے ملک بھر کی طرح خانیوال میں بھی شہری جوش و خروش سے آزادی کا دن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں (بقیہ نمبر25صفحہ6پر)

بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی گھروں کو سجانے اور جھنڈیا ں لگاکر پاکستان سے والہانیہ محبت کا اظہار کررہے ہیں۔بڑے ہوں یا بچے سب مختلف قسم کے دیدہ زیب اور دلکش بیجز خریدتے نظر آرہے ہیں یوم آزادی کے سلسلہ میں خانیوال میں مختلف مقامات پر سبز ہلالی پرچم،یوم آزادی بیجز کے سمیت دیگر چیزوں کے سٹالز سج چکے ہیں جہاں بچوں سمیت خواتین اور بڑے کی ایک بڑی تعداد خریداری کرتی نظر آرہی ہے۔گزشتہ سالوں میں خانیوال کی مارکیٹ میں یوم آزادی کے کپڑے صرف بچوں کیلئے آتے تھے لیکن اس بار خواتین کے کپڑوں کی بھی بڑی تعداد مارکیٹ میں پہنچ چکی ہے اور خواتین بھی یوم آزادی کے حوالے سے سلے سلائے کپڑوں اور میچنگ سوٹوں کی خریداری کرتی نظر آرہی ہیں جبکہ گزشتہ سالوں میں پاکستان پرچم کے ساتھ شیر کے کے نشان والے بیجز اور قومی پرچم کی خریداری میں خاصہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ سٹالز مالکان نے بتایا کہ بچوں کی کوشش ہے کہ ایک دوسرے سے اچھا بیج خریدیں اس لئے مختلف قسم کی ورائٹی سٹالز پر سجا رکھی ہے لیکن بچوں میں اس سال گزشتہ سالوں کی نسبت وزیر اعظم عمران خان کی تصویر والے بیج زیادہ تعداد میں مانگتے نظر آرہے ہیں اور مارکیٹ میں اس وقت اس طرح کے بیجز نہیں آئے ہیں اور سبز رنگ کی جھنڈیا ں شارٹ ہو گئی شہری اصرار کرتے ہیں لیکن سبز جھنڈیاں فیکٹریز سے ہی نہیں آ رہی ہیں جس کے باعث شہری مجبوری میں دیگر رنگوں کی جھنڈیاں خرید رہے ہیں۔بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں نے بھی یوم آزادی کے سلسلہ میں گھروں اور موٹر سائیکلوں پر پاکستانی پرچم اور پاکستانی پرچم والی جھنڈیاں لگانا شروع کردی ہیں۔شہریوں نے کہا کہ 14 اگست آزادی کا دن ہے اور پاکستان کو حاصل کرنے کیلئے ہمارے بزرگوں نے بیش بہا قربانیوں دیں اور مسلمانوں کیلئے ایک الگ ملک حاصل کیا جہاں آج ہم اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں اور آزادی ہزار نعمت ہے ہمیں اپنے ملک اور آزادی کی قدر کرنے چاہئے اور اپنا قومی تہوار جوش خروش سے منانا چاہئے۔جبکہ شہریوں نے شکوہ ظاہر کیا کہ گھروں پر لگانے کیلئے سبز ہلالی پرچم والی جھڈیاں مارکیٹ میں نہیں مل رہی جس کے باعث ہم مختلف رنگوں کی جھنڈیا ں خرید کر گزارا کررہے ہیں جبکہ دکانداروں کا کہنا تھاکہ سبز جھنڈیا ں وافر مقدار میں موجود تھیں لیکن یکم اگست کو سبز جھنڈیا ں ہاتھوں ہاتھ بک گئیں اس لئے صرف سبز جھنڈیاں کسی ایک کو نہیں دی جاسکتی اس لئے سبز جھنڈیوں کے ساتھ دیگر رنگوں کی جھنڈیا ں ملا کر فروخت کی جارہی ہیں۔

جوش وخروش

مزید :

ملتان صفحہ آخر -