حضرت عثمان غنیؓ ۔۔۔حیات و اقوال

حضرت عثمان غنیؓ ۔۔۔حیات و اقوال

  

تعجب ہے اس پر جو موت کو حق جانتا ہے اور پھر ہنستا ہے۔

تعجب ہے اس پر جو تقدیر کو پہچانتا ہے اور پھر جانے والی چیز کا غم کرتا ہے۔

تعجب ہے اس پر جو حساب کو حق جانتا ہے اور پھر مال جمع کرتا ہے۔

تعجب ہے اس پر جو دوزخ کو حق جانتا ہے اور پھر گناہ کرتا ہے۔

تعجب ہے اس پر جو اللہ تعالیٰ کو حق جانتا ہے اور پھر غیروں کا ذکر کرتا ہے اور پھر ان پر بھروسہ رکھتا ہے۔

تعجب ہے اس پر جو شیطان کو دشمن جانتا ہے، اور پھر اس کی اطاعت کرتا ہے۔

ضائع ہے، وہ عالم جس سے علم کی بات نہ پوچھیں، وہ ہتھیار جس کو استعمال نہ کیا جائے، وہ مال جو کار خیر میں شروع نہ کیا جائے، وہ علم جس پر عمل نہ کیا جائے، وہ مسجد جس میں نماز نہ پڑھی جائے، وہ نماز جو مسجد میں نہ پڑھی جائے، وہ اچھی رائے جس کو قبول نہ کیا جائے، وہ مصحف جس کی تلاوت نہ کی جائے، وہ زاہد جو خواہش دنیا دل میں رکھے، وہ لمبی عمر جس میں آخرت کا توشہ نہ لیا جائے۔

بعض اوقات جرم معاف کرنا مجرم کو زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔

اے انسان! اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے لئے پیدا کیا ہے اور تو دوسروں کا ہونا چاہتا ہے۔

عافیت کے نو حصے لوگوں سے الگ رہنے میں اور ایک حصہ ملنے میں ہے۔

محب اللہ کو تنہائی محبوب ہوتی ہے۔

تواضع کی کثرت نفاق کی نشانی اور عداوت کا پیش خیمہ ہے۔

مت رکھ امید کسی سے مگر اپنے رب سے اور مت ڈر کسی سے مگر اپنے گناہ سے۔

جس نے دنیا کو جس قدر پہچانا، اسی قدر اس سے بے رغبت ہوا۔

باوجود نعمت و عافیت موجود ہونے کے زیادہ طلبی بھی شکوہ ہے۔

علم بغیر عمل کے نفع دیتا ہے اور عمل بغیر علم کے فا ئدہ نہیں بخشتا۔

اپنا بوجھ خلقت میں سے کسی پر نہ رکھ، خواہ کم ہو یا زیادہ۔

ایک پرہیزگار فقیہہ شیطان پر ہزار عابد سے بھاری ہے۔

دنیا وہ ہر کام ہے جس سے آخرت مقصود نہ ہو۔

خاموشی غصے کا بہترین علاج ہے۔

دوسروں کا بوجھ اٹھانا عابدوں کی عزت کا تتمہ ہے۔

دنیا سرائے ہے جو آخرت کے مسافروں کے لئے وقف ہے۔ اپنا توشہ لے اور جو کچھ سرائے میں ہے، اس کا لالچ نہ کر۔

زبان کی لغزش پاؤں کی لغزش سے بہت زیادہ خطرناک ہے۔

فقیر کا ایک درہم صدقہ بہتر ہے غنی کے لاکھ درہم صدقہ سے۔

اگر تو گناہ پر آمادہ ہے تو کوئی ایسا مقام تلاش کر جہاں خدا تعالیٰ نہ ہو۔

بہتر ہے کہ دنیا تجھ کو گنہگار جانے بہ نسبت اس کے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریا کار ہو۔

تونگروں کے ساتھ عالموں اور زاہدوں کی دوستی ریاکاری کی دلیل ہے۔

ظالموں اور ان کے متعلقین سے معاملہ مت کر۔

جس خوشبو کا تجھے حق نہیں ہے۔ اس سے ناک بند کر لے کہ اس کی خوشبو بھی اس کی منفعت ہے۔

اگر آنکھیں روشن ہیں تو ہر روز روزِ حشر ہے۔

اُمرا کی تعریف کرنے سے بچ کہ ظالم کی تعریف سے غضب الٰہی نازل ہوتا ہے۔

ترغیب دلانے کی نیت سے علانیہ صدقہ دینا خفیہ سے بہتر ہے۔

اللہ تعالیٰ کو ہر وقت اپنے ساتھ سمجھنا افضل ترین ایمان ہے۔

جو لوگ اللہ تعالیٰ سے صدق اور خلوص کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں، وہ اس کے ماسوا سے ہرحالت میں نفرت کرتے ہیں۔

جانور اپنے مالک کو پہچانتا ہے، لیکن انسان اپنے رب کو نہیں پہچانتا۔

آپؓ کا قول ہے، حیا کے ساتھ تمام نیکیاں اور بے حیائی کے ساتھ تمام بدیاں وابستہ ہیں۔

بدگو تین آدمیوں کو مجروح کرتا ہے۔ اول اپنے آپ کو، دوم جس کی برائی کرتا ہے، سوم جو اس کی برائی سنتا ہے۔

قضا پر رضا دنیا کی جنت ہے۔

جو اپنی جوتی آپ گانٹھ لیتا ہے، غلام کی عیادت کرتا ہے، اپنے کپڑے دھو لیتا ہے اور ان میں پیوند لگا لیتا ہے۔ وہ غرور اور تکبر سے پاک اور بَری ہے۔

لوگ تمہارے عیبوں کے جاسوس ہیں۔

بندہ حقیقت ایمان کو نہیں پہنچتا جب تک کہ اس کو فقر محبوب نہ ہو جائے غنا سے اور اس کے نزدیک اس کی تعریف اور مذمت کرنے والے برابر نہ ہو جائیں۔

 بہتر صومعہ مردِ مسلمان کا، اس کا گھر ہے جو روکتا ہے اس کی زبان، شرمگاہ اور نظر کو۔

مسلمان کی ذلت اپنے مذہب سے غافل بن جانے میں ہے نہ کہ بے زر ہونے سے۔

ایسی بات مت کہو کہ جو مخاطب کی سمجھ سے باہر ہو۔

حاجت مند غربا کا تمہارے پاس آنا خدائے پاک کا انعام ہے۔

حق پر قائم رہنے والے مقدار میں کم ہوتے ہیں مگر منزلت و اقتدار میں زیادہ۔

جب زبان اصلاح پذیر ہو جاتی ہے، قلب بھی صالح ہو جاتا ہے۔

اگر میں رات کو سو جاؤں اور صبح کو نادم اُٹھوں تو یہ مجھ کو زیادہ پیارا ہے، اس سے کہ  تمام شب بیدار رہوں اور صبح کو معجب اٹھوں۔

حقیر سے حقیر پیشہ اختیار کرنا ہاتھ پھیلانے سے بدرجہا بہتر ہے۔

عمدہ لباس کے حریص کفن کو یاد رکھ، عمدہ مکان کے شیدائی! قبر کا گڑھا مت بھول۔ عمدہ غذاؤں کے دلدادہ! کیڑے مکوڑے کی غذا بننا   یاد رکھ۔

نعمت کا نامناسب جگہ خرچ کیا جانا ناشکری ہے۔

سخاوت پھل ہے مال کا، اعمال پھل ہیں علم کا، خوشنودی اللہ تعالیٰ پھل ہے اخلاص کا۔

اس نے اللہ تعالیٰ کا حق نہیں جانا، جس  نے لوگوں کا حق نہیں پہچانا۔

جس شخص کو سال بھر تک کوئی تکلیف یا ر  نہ پہنچے، پس وہ جان لے کہ مجھ سے میرا رب  ناراض ہے۔

جو شخص التجائے نگاہ کو نہیں سمجھ سکتا، اس کے سامنے اپنی زبان کو شرمندہ نہ کر۔

ایرانیوں کے ساتھ آپ نے ایسا حسن سلوک اختیار کیا کہ وہ بے اختیار آپ کو عربی نوشرواں کہہ کر اپنی عقیدت حقیقی کا اظہار کرنے لگے۔

آغاز بعثت میں جب آپ تجارت سے واپس آئے تو حضرت صدیق اکبر ؓ کی تبلیغ سے فوراً مسلمان ہو گئے۔ نبوت سے پہلے حضور اکرمؐ کی صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ سے آپ کی شادی  ہو گئی تھی۔ جن کا انتقال فتح بدرکے دن ہوا۔ واپسی پر حضور اکرمﷺ نے آپ کا نکاح اپنی دوسری صاحبزادی حضرت اُم کلثوم ؓ سے کر دیا، جس کی وجہ سے آپ کو ذوالنورین کا خطاب  عطا فرمایا۔

آپ ؓ سوائے ایک دو غزوات کے باقی تمام غزوات میں شریک رہے۔ غزوہئ بدر میں چونکہ حضرت رقیہ ؓ بیمار تھیں، اس لئے حضور اکرمؐ نے آپ کو ان کی علالت کی وجہ سے چھوڑ دیا، مگر  ان کا انتقال ہو گیا۔ تجہیز و تکفین سے واپس آ رہے تھے کہ فتح بدر کی خوشخبری ملی۔ دوسرے غزوہ ذات الرقاع اور غطفان میں آپ کو حضور ؐ نے مدینہ طیبہ پر خلیفہ مقرر کر کے چھوڑا تھا۔ حدیبیہ میں آپ حضور ؐ کے سفیر تھے۔ ان کے علاوہ آپ تمام غزوات میں شامل رہے اور بے شمار مالی امداد بھی دیتے رہے۔ غزوہ تبوک میں 300اونٹ مع پالان دیئے۔ خلیفہ اول و دوم کے ہر معاملے میں مشیر رہے اور خاص امور  میں مشورہ کرنے کے لئے آپ کو مجلس شوریٰ کا  اہم رکن تصور کر کے شامل کیا جاتا تھا، عمر کے لحاظ سے آپ رسول اکرمﷺ سے 6سال چھوٹے تھے۔

آپ ؓ کے خاص کارہائے نمایاں یہ ہیں:

٭…… لوگوں کی جاگیریں مقرر فرمائیں۔

٭…… چراگاہیں قائم کیں۔

٭……مساجد میں خوشبوئیں جلائیں۔

جمعہ میں اذان اول کو مقرر کیا۔

٭……موذنوں کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔

٭……پولیس کو قائم کیا۔

٭……مسلمانوں کو قرأت پر متفق کیا۔

٭…… تکبیر کی آواز کو پست کیا۔

٭…… قرآن مجید کو موجودہ  ترتیب پر جمع کیا، اسی لئے آپ کو جامع ا لقرآن بھی کہا جاتا ہے۔

٭…… لوگوں میں لہو و لعب کی عادت پڑ گئی تھی، اس کا انسداد فرمایا۔ آپ کے زمانہ خلافت میں رے اور روم کے قلعے فتح ہوئے۔ سن26ھ میں سابور فتح ہوا، کچھ مکانات خرید کر حرم شریف میں شامل فرمائے۔ سن27ھ میں ارجان فتح ہوا۔ سن28ھ میں معاویہ بن ابی سفیان نے قبرص پر حملہ کیا اور مقبوضات اسلام میں شامل کیا۔ سن29ہجری میں اصطخرا اور قساد فتح ہوئے۔ مسجد نبوی کو وسعت دی۔ سن30ھ میں جور، خراسان نیشا پور، طوس، سرخس، مرو اور طبیق فتح ہوئے۔ اِن فتوحات میں مسلمانوں کو بکثرت مال غنیمت حاصل ہوا۔تاریخ وفات18ذی الحج  35 ھ مدت خلافت قریباً12سال۔٭٭٭

             

مزید :

ایڈیشن 1 -