اولمپکس میڈل ایک خواب بن کر رہ گیا

اولمپکس میڈل ایک خواب بن کر رہ گیا
اولمپکس میڈل ایک خواب بن کر رہ گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ایک دور تھا جب پاکستان اولمپکس میں گولڈ،سلور،برانز میڈل کے ساتھ وطن واپس آتا تھا ہاکی کے علاوہ دیگر کھیلوں میں پاکستان کے اٹھیلیٹس نے خوب مہارت کے ساتھ حریف ٹیموں کو ٹف ٹائم دیا اور ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہوئے اپنے سینوں پر تمغے سجائے۔وطن واپسی پر ان کا شاندار استقبال ہوتا تھا اور عوام اپنے ہیروز کو سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی پاکستان نے اولمپکس میں آخری میڈل تین دہائی قبل حاصل کیا جب ہاکی میں قومی ٹیم نے میڈل کو سینے کی زینت بنایاہاکی،شوٹنگ،جوڈو،ریسلنگ،جیولین تھرو،تائیکوانڈو،سوئمنگ،ریس،سائیکلنگ،فٹ بال،ٹینس سمیت دیگر کھیل ہمارے ملک میں کھیلے جاتے ہیں لیکن برائے نام۔کیونکہ ہمارے ہاں سپورٹس بورڈ کے نام سے نام نہاد ادارہ تو موجود ہے جہاں فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ماہ اعلیٰ عہدوں پر براجمان افسران ہر ماہ گھر بیٹھے بٹھائے تنخواہیں لینے میں مصروف ہیں۔جبکہ کھلاڑی بھی محنت سے عاری نظر آتے ہیں۔سپورٹس کے حوالے سے کام کرنے والے صوبائی اداروں نے اس جانب کبھی توجہ ہی نہیں دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی ہم میڈل حاصل کرنے والوں کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کھلاڑی ہم مدد آپ کے تحت ٹریننگ کرتے،شکوے کرتے دکھائی دیتے ہیں مجال ہے کسی نے ان کی شنوائی کی ہو۔جیولین تھرو میں ارشد ندیم نے تھوڑی بہت امید دکھائی مگر کیا کرتے ہماری امیدوں کے چراغوں میں جتنا تیل تھا چراغ بھی اتنی ہی دیر کے لئے جلے بعد میں ہر طرف اندھیرا او ر مایوسی کے سوا کچھ نا تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیائے ہاکی پر ایک عرصہ تک حکمرانی کرنے والی ہماری قومی ٹیم نے بھی محنت سے ہاتھ کھینچ لیا یا یوں کہہ لیں کہ ان کے کرتا دھرتاؤں نے اس کھیل کو ملک میں اس نہج تک پہنچا دیا جہاں واپسی انتہائی مشکل ترین ہوتی جا رہی ہے۔کسی زمانے میں پہلے نمبر پر آنے والی قومی ہاکی ٹیم اس وقت ٹاپ 15میں بھی شمار نہیں ہوتی۔نجانے وہ کن سے کھلاڑی تھے جنہیں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر خطابوں سے نوازا جاتا تھا۔حلانکہ اس دور میں سہولتوں کا فقدان تھا مگر پھر بھی کھلاڑی ملک و قوم کا نام روشن کر کے آتے تھے۔آج یہ عالم ہے کہ کھلاڑی دوسرے گول پوسٹ کی بجائے اپنے ہی گول پوسٹ پر گول داغنے سے محروم ہیں اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں اس کا علم اس فیڈریشن کے عہدیداران کو ہو گا لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ جو انسان محنت نہیں کرتا اوپر والا کبھی ا س کا پھل نہیں دیتا۔حیران کن طور پر کسی بھی ملک میں سپورٹس بورڈ کو یا اس ادارے کو چلانے والے مرد حضرات زیادہ نظر آتے ہیں کسی بھی کھیل سے وابستہ یا ریٹائرڈ کھلاڑی اس ادارے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں نظام ہی الٹا ہے ہمارے سپورٹس کے اداروں کے لئے وزراء میں شامل ایک خاتون بھی ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان خود ایک سپورٹس پرسن ہیں انہیں یہ عہدہ وفاقی سطح پر بھی اور صوبائی سطح پر بھی کسی سپورٹس سے وابستہ فرد کو سونپنا چاہئے کیونکہ ہم جس گراف کے ساتھ اولمپکس میں گرے ہیں اس سے زیادہ حیران کن بات کیا ہو گی کہ ہمارا 21 رکنی دستہ اولمپکس کی قیادت کر رہا تھا اور ہمارے ملک کی نمائندگی کسی مرد کی بجائے ایک خاتون کر رہی تھی۔دیکھنے میں یہ اچھی بات ہے کہ کسی خاتون کو اتنی عزت سے نوازا گیا لیکن اگر حقائق پر بات کی جائے تو اس دستہ میں شامل ایک خاتون ایسی بھی تھیں جن کو ٹریننگ نا ہونے کے با وجود اس دستہ میں شامل کیا گیا خدارا اس ملک میں ختم ہونے والی سپورٹس کو زندہ کریں اور نام نہاد افسران کی چھٹی کروا کر محنتی اور ملک سے محبت کرنے والے لوگ لے کر آئیں۔

مزید :

رائے -کالم -