حسینؑ سب کا

حسینؑ سب کا
حسینؑ سب کا

  

حسینؑ تیرا

حسینؑ میرا

حسینؑ اُن کا

حسینؑ اِن کا

حسینؑ جگ کا

حسینؑ رب کا

حسینؑ سب کا

وہ مانتے ہیں

یہ جانتے ہیں

حسینؑ سب کا

وہ مصطفےٰؐ کا، وہ مرتضےٰؑ کا

وہ انبیاؑ کا ،وہ اولیا کا

وہ صوفیوں کا، قلندروں کا

وہ خشکیوں کا، سمندروں کا

گل امامت درِ پیمبرؑ

نبیؐ کا پر تو نشانِ حیدرؑ

چراغِ مسجد غلاف کعبہ

وقارِ منبر بنائے سجدہ

شجر ہجر میں گل و قمر میں

وہ برگِ تر میں، ثمر ثمر میں

چمن چمن میں، کلی کلی میں

نگر نگر میں، گلی گلی میں

طبق بھی اس کے ،فلک بھی اس کے

بشر بھی اس کے ،ملک بھی اس کے

نبیؐ بھی اُس کا ،خدا بھی اس کا

ہمارا مشکل کشا بھی اس کا

حسینؑ کون و مکاں کا مالک

حسینؑ دونوں جہاں کامالک

وہ ابتدا میں، وہ انتہا میں

کبھی نبیؐ میں، کبھی خدا میں

رضا کا بندہ، وفا کا بانی

شہیدِ اعظم خلیلِ ثانی

کتاب یزداں کی ترجمانی

نبیؐ کے دیں کی کھری نشانی

وہ مانتے ہیں 

یہ جانتے ہیں

حسینؑ درجات کا مخالف

حسینؑ طبقات کا مخالف

وہ جاہ و حشمت کی بو سے باغی

وہ کجکلاں ہوں کی خو سے باغی

حرم سے نکلا علم اُڑاتا

ملوکیت کے محل گراتا

یزیدیت کے نشاں مٹاتا

ہر ایک آمر کا سر جھکاتا

حسینؑ وہ انقلاب لایا

بقا کی ایسی کتاب لایا

کی جس کا عنوان ہے شہادت

شہید زندہ ہے تاقیامت

جہاں جہاں ظلم کا نشاں ہے

حسینؑ کی خو رواں دواں ہے

حسینؑ کے نقش پا پہ چل کر

جہاں کو رکھ دیجئے بدل کر

حسینؑ عرفان و آگہی ہے

حسینؑ تکمیلِ بندگی ہے

کئے ہیں جس نے دماغ روشن

لہو سے اپنے چراغ روشن

حسینؑ اگر نہ شہید ہوتا

تو آج گھر گھر یزید ہوتا

نبیؐ کی سنت عیاں نہ ہوتی

خدا کے گھر میں اذاں نہ ہوتی

بشر کے سینے پہ زنگ ہوتا

جہاں کا کچھ اور رنگ ہوتا

یزیدیت کے اصول ہوتے

نماز روزہ فضول ہوتے

حسینؑ اسلام کا محافظ

نبیؐ کے پیغام کا محافظ

حسینؑ قرآن کا نگہباں

وہ دین و ایماں کا نگہباں

تپش جو دیکھی کبھی ہوا میں

چھپایا اسلام کو عبا میں

جنابِ زینبؑ کی اس ردا میں

جو لٹ گئی دشتِ کربلا میں

جنابِ اصغرؑ کے اس لہو میں

جو بہہ گیا دیں کی آبرو میں

جنابِ عباسؑ کے علم میں

جو سربکف تھا رہِ ستم میں

مٹے جو چرغ ہدا کے تارے

کٹائے اپنے جگر کے پارے

بہا کے اپنے لہو کے دھارے

لکھے ہیں قرآن کے سپارے

برائے اُمت لٹایا گھر کو

نبیؐ کے دیں پر کٹایا سر کو

وہ مانتے ہیں، یہ جانتے ہیں

حسینؑ اُن کا، حسینؑ اِن کا

نبیؐ کے پیارو  کہاں ہو آﺅ

حسینیت کا علم اٹھاﺅ

رضا کے رہبر کا دن مناﺅ

سب اختلافات بھول جاﺅ

۔

کلام شاعر اہلبیت سید مشیر کاظمی 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -شاعری -سنجیدہ شاعری -