کنٹرول لائن پر دیوار

کنٹرول لائن پر دیوار
کنٹرول لائن پر دیوار

  



ایک خبر کے مطابق بھارت نے کنٹرول لائن پر دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔118دیہاتوں سے گزرنے والی198کلو میٹر طویل دیوار10میٹر بلند اور40میٹر چوڑی ہو گی۔ بھارت کی وزارت داخلہ کی فنڈنگ سے تعمیر ہونے والی اِس دیوار کے ساتھ ایک خندوق بھی تعمیر ہو گی، اِس دیوار میں چوکیاں اور بنکرز بھی بنائے جائیں گے۔ بظاہر بھارت اس معاملے کو اپنا اندرونی معاملہ گردانتے ہوئے در اندازی روکنے کی ایک کاوش قرار دے رہا ہے۔ در حقیقت مسئلہ کشمیرکو ہمیشہ کے لئے سردخانے میں ڈالنے کی ایک سازش ہے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی تنازع سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور دیوار کے اِس پار کا کشمیر بھارتی قبضے میں، جبکہ دیوار کے اُس پار کا کشمیر پاکستان کے ساتھ ہے۔ اس کے برعکس مسئلہ کشمیر کو بھارتی حکومت نے ہمیشہ ایک مسئلے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

 1948ءمیں خود اس کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گئے اور اس پر قرارداد منظور کروائی، جس کی رو سے کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا ہے۔ معاملہ چونکہ اقوام متحدہ میں ہے، اِس لئے یہ اقوام متحدہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو ایسا کرنے سے روکے۔ مقبوضہ کشمیر کی مقامی آبادی تو ظاہر ہے اِس دیوار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے گی، کیونکہ پاکستان کی جانب کشمیر میں اُن کی رشتہ داریاں اور تعلق داریاں ہیں اور وہ ان رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، جنہیں دیوار تعمیر کر کے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے قیام پاکستان کے اوائل سے پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرنے اور اس کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کی جو روش اختیار کی تھی، وہ تاحال اس پر قائم ہے، بلکہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت دکھائی دیتی ہے۔

اس قسم کے اقدامات کر کے بھارت درحقیقت کشمیر پر غاصبانہ کنٹرول کی تکمیل چاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو کسی قسم کے احتجاج کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حتیٰ کہ کشمیریوں کے لئے عیدین کی ادائیگی ناممکن بنا دی گئی ہے اور کئی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جب بھارتی فوج مسلمانوں کے مذہبی اجتماعات کو بھی اپنی فائرنگ اور ظلم و بربریت کے بل بوتے پر منتشر کر دیتی ہے۔

بہرکیف بھارتی حکومت اور اس کی فوج ہر وہ حربہ استعمال کر رہی ہے،جس کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرد خانے میں ڈال دیا جائے اور پھر بھارت جس طرح چاہے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے تسلط میں رکھتے ہوئے ان پر ظلم روا رکھے۔ بھارتی حکومت نے اس گھناﺅنے منصوبے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ یہ قرار داد اب مقبوضہ کشمیر کی پارلیمنٹ سے منظور کروائی جائے ی، جس کے24ارکان پارلیمنٹ کی حمایت ضروری ہے۔ بھارت اس معاملے کی قرارداد کشمیر کی پارلیمنٹ سے منظور کروا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتا ہے، حالانکہ بھارت کے لئے مقبوضہ کشمیر کے اراکین اسمبلی سے کوئی قرارداد منظور کروانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، کیونکہ اس امر کی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے متعدد اراکین بھارتی فوج کے پے رول پر ہیں اور بھارتی فوج ان رہنماﺅں سے اپنی مرضی کے بیانات اور کام کرواتی ہے۔ اب بھارتی فوج کے لئے ان اراکین پارلیمنٹ سے قرارداد منظور کروانا پہلے کون سا مشکل کام ہے۔

 بہر طور بھارت کو چاہئے کہ کنٹرول لائن پر دیوار تعمیر کرنے سے پہلے کم از کم مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کروائے تاکہ اُسے معلوم ہو سکے کہ اُس کے اِن گھناﺅنے عزائم کو کشمیری عوام کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بھارت نے کشمیر کی آزادی سے متعلق تو کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کا حق نہیں دیا، کم از کم دیوار کی تعمیر سے پہلے ہی ان سے عوامی رائے معلوم کر لے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ یہ امر بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ بھارت کو اس بابت معلوم نہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی کو کشمیری عوام اپنے لئے ایک گالی سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ہزاروں کشمیری اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اور سینکڑوں خواتین کی عزلیں پامال ہو چکی ہیں، لیکن پھر بھی کشمیر کی تحریک کی شدت میں کمی نہیں آئی۔ شومئی قسمت سے بھارت دیوار پر لکھا پڑھنے کی بجائے دیوار کی تعمیر میں مسئلے کا حل تلاش کر رہا ہے۔ ٭

مزید : کالم


loading...