تحصیل شکر گڑھ اور تجاوزات

تحصیل شکر گڑھ اور تجاوزات
تحصیل شکر گڑھ اور تجاوزات

  



تحصیل شکر گڑھ ایک بہت ہی پسماندہ علاقہ محنت کشوں اور بہادروں کی تحصیل ضلع نارروال میں شامل ہے۔ تحصیل شکرگڑھ شاید پنجاب کا واحد شہر ہے جو کسی ہندوستان کے ضلع کی تحصیل پاکستان کے حصے میں آئی۔ یہ متحدہ پاک وہند کے ضلع گوررداسپور کی تحصیل ہوتی تھی، جو بعد میں ضلع سیالکوٹ کے ساتھ لگا دی گئی۔ اس تحصیل کو پسماندہ اس لئے لکھا ہے کہ اس میں تمام زمینداروں کے پاس تھوڑی تھوڑی زمینیں ہیں اور تمام تحصیل بارانی علاقوں پرمشتمل ہے۔ اس تحصیل میں بڑے بڑے نامی گرامی سیاست دان، بیورو کریٹ، وکلاءاور جج صاحبان نے جنم لیا، لیکن چند ایک سیاست دانوں کے سوا کسی نے اس تحصیل میں رہنا پسند نہیں کیا، باقی تمام دوسرے لوگ اس تحصیل کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔ بے شمار لوگوں نے اس تحصیل کے نام پر اپنی حالت بدل لی، اپنے کاروباروں میں اضافہ کیا، خوب دولت کمائی، لیکن پچھلے15سال سے اس شہر کو برباد کر دیا، چونکہ آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور شکر گڑھ شہر کے لوگوں نے بہت کوشش کی کہ شہر کو کھلا کیا جائے، لیکن سیاست دانوں اور حکمران طبقے نے کوئی ایسا ترقیاتی منصوبہ نہیں بنایا یا پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا کہ لوگ اِس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

یہاں سابقہ دور میں ایک تحصیل ناظم آیا جو بہت ایماندار اور محنتی تھا، لیکن وہ لندن اور امریکہ کی ہواﺅں سے آیا تھا، اُس نے اِس سے پہلے سیاست میں کبھی حصہ نہیں لیا تھا، لیکن وہ شکر گڑھ کے چالاک اور ہوشیار گرگوں اور کرپشن کے پرانے کھلاڑیوں کے قابو میں چلا گیا، جنہوں نے اُس کو اِس طرح کے منصوبے پیش کئے کہ آج سے چند روز پہلے تک لوگ(عوام) اس کی سزا بھگت رہے تھے۔ ستم ظریفی یہ کہ اُس نے شکر گڑھ میں اربوں روپوں کا سیور سسٹم (گندے پانی کا نکاس) منصوبہ شروع کیا، تمام شہر کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں کو کھنڈرات میں بدل دیا، لیکن پانی باہر نکلنے کی بجائے لوگوں کے گھروں میں جانا شروع ہو گیا، ان کی ناظمی کا دور خدا خدا کر کے ختم ہوا۔ انہوں نے ذاتی طور پر میرے خیال کے مطابق اپنے لئے ایک ٹکے کی کرپشن نہیں کی، لیکن اپنے شہر اور حلقے کا ستیاناس کر دیا۔ تحصیل شکر گڑھ کے دور دراز دیہاتوں اور مختلف علاقوں میں کچھ ترقیاتی کام ہوئے، اس ناظم صاحب کو پلیٹیں لگوانے کا (اپنے نام کی) بہت شوق تھا۔ اگر کوئی اُن کے حلقے میں فوت ہو جاتا، تو وہ جنازے میں شرکت کرتے، اُن کی خواہش ہوتی کہ مرحوم کی قبر پر اُن کے نام کی پلیٹ لگے کہ انہوں نے جنازے میں شرکت کی اور پختہ قبر بنوائی۔

ان کے دور میں ان کے حمائتیوں اور سپورٹروں نے شہر شکر گڑھ کی سڑکوں کو نیلام کر کے ہر طرف تجاوزات کی بھرمار کر دی۔ دوسری ستم ظریفی یہ کہ بڑی بڑی سڑکوں ریلوے روڈ، نور کوٹ روڈ پر دکانوں کے آگے بڑے بڑے پائپ لگوا دیئے، اس میں کسی لوہا فروخت کرنے والی کی چال تھی، چونکہ محترم ناظم صاحب امریکہ سے آئے ہوئے تھے، کوئی اُن کی انگلی پکڑ کر جس طرف لگاتا، وہ چل پڑتے۔ یہ پائپ لگانے کی قطعی ضرورت نہیں تھی،نتیجہ یہ نکلا کہ سو فٹ چوڑی سڑک 15فٹ دو حصوں میں تقسیم کر دی گئی۔ ٹریفک کانظام درہم برہم ہو گیا، آپ شائد جانتے ہوں گے کہ چھوٹے شہروں میں زیادہ ٹریفک ٹانگوں کی ہوتی ہے، اب تو پرائیویٹ کاروں کی بھرمار ہے، مَیں سابقہ ادوار کی بات لکھ رہا ہوں۔ شکر گڑھ شہر میں کوئی ایک بھی سڑک ڈاکٹر نعمت کے دور میں تعمیر نہیں ہو سکی، ترقی کے کاموں کے لئے حکومت پنجاب نے ان کی ڈیمانڈ کے مطابق سرمایہ فراہم کیا، لیکن جو بھی شکر گڑھ شہر کے لئے ترقیاتی کام کرنے کی وہ کوشش کریں وہ کام الٹا ہو جاتا، اس میں ان کے ساتھیوں کی مرضی ہوتی تھی۔

ان کی ایمانداری اور محنت کو دیکھ کر اس وقت کی پنجاب حکومت نے ان کو اگلا ناظم ضلع نارروال بنا یا اور ڈاکٹر نعمت نے اپنا ایک بیٹا میرے مشورے سے امریکہ سے منگوایا، جس کا نام بعد میں معلوم ہوا ڈاکٹر طاہر جاوید تھا، اس کو ڈاکٹر نعمت نے تحصیل شکر گڑھ کے ایک حلقے سے ایم پی اے بھی بنوا لیا۔ اب ضلع کی بدقسمتی بھی شروع ہو جاتی ہے، مَیں تو شکر گڑھ کی لکھ رہا ہوں، لیکن یہ حوالہ بھی ضروری ہے، ضلع ناظم نے تقریباً تمام ترقیاتی فنڈ (زیادہ) اپنے بیٹے کے حلقے میں لگانے شروع کر دیئے اور اپنے گاﺅں میں اردگرد سرمایہ لگانا شروع کر دیا۔ اب ڈاکٹر نعمت کے بعد ان کا مخالف سیاسی ناظم شکر گڑھ میں آ گیا۔ چودھری طارق انیس جو ناظم بنا، وہ بھی بہت پرانا سیاست دان اور وکیل تھا، اُس نے تو شکر گڑھ میں کمال در کمال شروع کر دیا۔اُن کا ایک اپنا حلقہ احباب تھا، ان کا بھی ایک بھائی ایم پی اے بن چکا تھا، اُن کے بھی رشتہ دار شکر گڑھ میں آباد تھے۔ انہوں نے بھی ان کی حالت بدلنی تھی اور ترقیاتی کام کروانے تھے، لیکن وہ بھی شہر شکر گڑھ کو نہ سنوار سکے، ان کا اپنا گاﺅں بھی شکر گڑھ کے حلقے میں آتا تھا۔ انہوں نے اپنے گاﺅں میں ترقیاتی کام کروانے تھے۔

ڈاکٹر نعمت علی اور چودھری طارق انیس کی ناظمی میں سابقہ تمام ناجائز تجاوزات کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، کوئی سڑک نہیں بچ سکی، ہسپتال کے اردگرد کی زمین نہیں بچ سکی۔ شکر گڑھ شہر کی تمام شاملات زمینوں پر تجاوزات قائم کر دی گئیں۔اگر گزشتہ15سال میں کسی بھی سرکاری آفیسر نے ان ناجائز تجاوزات کو ختم کرنے کی کوشش کی تو اس میں سیاسی لوگوں کی سفارشیں اور ناجائز تجاوزات کی ناجائز کمائی رکاوٹ بن جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے شکر گڑھ کے مظلوم اور بے بس لوگوں کی دُعائیں قبول کیں اور تحصیل شکر گڑھ میں اے سی عمرہ خاں تعینات ہو گیا ہے، جس نے شکر گڑھ شہر کے پرانے نقشے منگوائے، شہر کے سچے اور دردِ دل رکھنے والے شہریوں سے ملاقاتیں کیں، چونکہ سارے شہر میں ٹریفک کا نظام بہت بُری طرح خراب ہو چکا تھا، شہر کی سڑکیں کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہی تھیں۔ شکر گڑھ شہر کے بڑے بڑے بازار جو 50، 50 فٹ تھے، صرف8سے10 فٹ رہ گئے تھے۔اے سی صاحب نے تمام شہر سے تجاوزات ختم کرنے کا اعلان کیا، تو چند کرپٹ اور رشوت خور لوگوں نے دوبارہ پرانا حربہ آزمانہ شروع کیا کہ دکانوں سے چندہ کر کے رشوت دی جائے، لیکن اے سی عمرہ خان نے کسی اچھے خاندان میں پرورش پائی ہے اور اچھی ایماندار نیک ماں کا دودھ پیا ہے، اس نے تمام نمائندوں اور دکانداروں سے بلیک میل ہونے سے انکار کر دیا، اُس کی خوش قسمتی ہے کہ شکر گڑھ کی وکلاءبار کونسل نے اے سی عمرہ خان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں نے حکومت پنجاب تک غلط باتیں پہنچائیں،لیکن اے سی عمرہ خان نے تمام ناجائز تجاوزات کو ختم کرنے کا عہد کر کے شکر گڑھ شہر کی اصل حالت میں بحالی پر کام شروع کر دیا۔ شکر گڑھ اور اس تحصیل کے عوام کی اکثریت نے اے سی عمرہ خاں کا شکریہ ادا کیا ہے کہ شکر گڑھ شہر کی سڑکیں اور بازار کشادہ ہو گئے ہیں۔ اے سی عمرہ خاں نے اپنے بچوں کو مندرہ والا ٹاٹ سکول میں داخل کروایا ہے اور تہیہ کیا ہے کہ غریبوں کے ٹاٹ والے سکولوں کی حالت بھی تجاوزات کی طرح ٹھیک کراﺅں گا، انشا اللہ۔

اے سی عمرہ خاں نے جو اپنے بچوں کو ٹاٹ والے سکول مندرہ والا شکر گڑھ میں داخل کروایا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ سکول کی حاضری اور پڑھائی میں بہتری آئی ہے۔ یہ تحصیل کے آفیسر کی نیک اور اچھی خواہش ہے کہ اس کے بچے بھی ٹاٹ والے سکول میں تعلیم حاصل کریں، وہ سرِعام لوگوں کو بتاتا ہے کہ وہ بھی ٹاٹ والے سکول میں پڑھتا تھا۔ خدا کرے کہ شکر گڑھ کے کرپٹ اور رشوت خور ملازم اے سی عمرہ خاں کا تبادلہ کروانے میں کامیاب نہ ہوں، چونکہ اے سی عمرہ خاں کی کوششوں سے شکر گڑھ کی تجاوزات ختم ہونے پر حکومت پنجاب کی عزت ہوئی ہے۔ حکومت پنجاب کی قانونی رٹ مضبوط ہوئی ہے اور وکلاءبار شکر گڑھ کے وہ وکلاءجو اے سی عمرہ خاں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، وہ بھی مبارکبا کے مستحق ہیں۔ یاد رہے یہ تجاوزات کوئی رہڑیاں یا کھوکھے نہیں، بلکہ بڑی بڑی پختہ دکانیں تھیں، جن کو رینجرز کی مدد سے کرینوں اور بلڈوزروں سے گرایا گیا۔ ناجائز تجاوزات قائم کرنے والوں اور کروانے والوں نے شکر گڑھ شہر کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ اے سی عمرہ خاں کا حامی و ناصر ہو۔ ابھی ابھی پتہ چلا ہے کہ نارووال میں بھی ایک خاں اے سی لگ گیا ہے، وہ ناجائز تجاوزات کا کیا کرتا ہے، بے شک ناجائز تجاوزات نے پنجاب کے تمام شہروں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ ناجائز تجاوزات بھی عوام کے لئے بہت بڑی سزا اور بیماری ہے۔ اس کا علاج تو ہونا چاہئے۔ ناجائز تجاوزات کو قائم ر کھنے میں زیادہ تر سیاسی مصلحتیں آڑے آتی ہیں، جن کی وجہ سے شہروں کے بازار اور سڑکیں نیلام ہو جاتی ہیں۔ شکر گڑھ شہر کی صفائی اور حالت دیکھ کر یہ مضمون لکھ رہا ہوں۔ اے سی صاحب سے ابھی ملاقات نہیں ہوئی، اُس کو ضرور ملوں گا اگر ان کا تبادلہ نہ کروا دیا گیا۔ ٭

مزید : کالم


loading...