ادبی اور ثقافتی تقرےبات انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اہم ہےں

ادبی اور ثقافتی تقرےبات انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اہم ہےں
ادبی اور ثقافتی تقرےبات انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اہم ہےں

  



مےرے بچپن مےں ہمارے گھر کے سامنے واقع مےدان مےں ہر سال آتی سردےوں کی رتوں مےں کِسی پےر کے عرس کے نام پر اےک مےلہ لگتا تھا۔ہفتے کی رات کو قوالےاں ہوتےں اور دن مےں تقرےرےںاور لنگڑ بٹتا۔اےسی رونق اےسا مےلہ۔ہم بچے ساری رات جاگتے۔سارا دن کد کڑے لگاتے، کھانے پےنے کی چےزوں پر لوٹ مار کرتے۔مےلے کے انعقاد کی خبر سُنتے ہی ہمارے رگ و پے مےں وہ مسرت دوڑتی کہ زمانے گزر جانے پر آج بھی اس کی سرشاری محسوس ہوتی ہے۔اِس تمہےد کو باندھنے کا مقصدچوتھی عالمی اردو کانفرنس کے بارے میں آپ سے کچھ باتےں کرنا تھےں۔دو ماہ قبل ہی اس کے چرچے شروع ہوگئے تھے۔ بےرونی ممالک سے کون کون آرہے ہےں؟ہندوستان سے کن کن کے نام ہےں؟ٹےلی فونوں اور موبائلوں پر ممکنہ ناموں اور دےگر باتوں پر بحث ہوتی رہی۔

کتا ب کی اہمےت کم ہوتی جا رہی ہے۔اس کا دُکھ بھرا اظہار ہم ادےب ہر محفل مےں کرتے ہےںاور اس پر رائے زنی بھی ہوتی ہے کہ دراصل ہمارے ہاں تعلےم کی چونکہ بہت کمی ہے، کتاب پڑھنے کا رحجان پہلے ہی اتنا زےادہ نہےں تھا، اےسے مےں انٹر نےٹ کے طوفان نے ہم جےسی ہوچھی جٹ قوم کو بے قابو کردےا ہے۔وگرنہ تو علم کے زےورسے رجی بچی قومےں اُسی طرح کتاب اور حرف سے محبت کرتی ہےں۔ان کے ہاتھ آج بھی کتاب کو پکڑے ہوئے ہےں۔بسوں مےں،گاڑےوں مےں،بس سٹاپوں پر ہر جگہ رسالہ کتاب کُھلنا ضروری ہے۔جبکہ ہمارے ہاں اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے ملک مےں اےک ہزار کتاب کا ختم ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ سہ روزہ ادبی و ثقافتی کانفرنس کا پروگرام جب سامنے آےا تو دل خوشی سے باغ باغ ہوگےا کہ ادب، تصوف، آرٹ،تھےڑ اور مےڈےا کو کِس خوبصورتی سے اےک چھت تلے اکٹھا کردےااور ہر شعبے کے ماہرےن کو دعوت دے ڈالی۔

افتتاحی سےشن کی صدارت وزےر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شرےف نے کی۔عطاءالحق قاسمی اور ان کے ساتھی الحمرا مےں جم خانہ طرز کا اےک خوبصورت کلب بنانے کی خواہش کو پالے ہوئے ہےںاور چاہتے ہےں کہ ےہ بڑا کام ان کے ہاتھوں سرانجام   پاجائے۔ دوسرے ادےبوں کی فلاح و بہبود سے متعلق بہت سے پروگرام بھی ان کی ترجےحات مےں ہےں۔ےہ سےشن بڑا بھرپور تھا۔مصر،بنگلہ دےش،برطانےہ، امرےکہ، جرمنی اور ہندوستان سے آنے والے مندوبےن نے باتےں کےں۔وزےر اعظم نے انڈےا ٹائمز کے اےڈےٹر کنگ سُکھ ناگ سے بھی اپنی تقرےر مےں مخاطب کرتے ہوئے دونوں ملکوںکے درمےان امن اور مفاہمت پر زور دےا۔اور ےہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمےان تعلقات کی بحالی مےں مےڈےا کا بہت اہم کردار ہے۔ہندوستان کے کردار کے حوالے سے بھی بات ہوئی کہ وہاں پڑوسےوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کےلئے وہ گرمجوشی نہےں پائی جاتی ہے جس کا اظہار کم و بےش پاکستان مےں ہوتا ہے۔ انہوںنے دہشت گردی کے حوالے سے بھی کافی باتےں کےں۔اگلے دنوں کے سےشن بڑے بھرپور تھے۔ہر سےشن مےں جوانوں اور بوڑھوں کی تعداد دےکھ کر ےوں لگتا تھا جےسے لوگ ترسے ہوئے ہےں،سُننا چاہتے ہےں۔ ہال مےں تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی۔ حتیٰ کے سےڑھےوں پربھی قبضہ ہوتا۔ےہ ےاس اور ناامےدےوں سے بھرے دنوں مےں بڑی خوش آئند اور امےد افزا بات لگتی تھی۔

ہندوستان مےں اردو کی بات ہو ےا پاکستان مےں افسوس تقرےب مےں نہرو ےونےورسٹی کے ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدےن تشرےف نہےں لاسکے۔وہ بہت حد تک ہندوستان مےں اردو کے احوال پر روشنی ڈال سکتے تھے، اُس سے صحیح صورت سامنے آتی۔پر بات تو ےہ ہے کہ پاکستان مےں اردو کا مستقبل کون سا روشن ہے۔ابھی بنگلہ دےش مےں سارک کانفرنس ہورہی تھی۔پتہ چلا کہ انہوںنے اردو لکھارےوں کی بجائے انگرےز ادےبوںکو بلاےا ہے۔ ڈاکٹر جاوےد اقبال نے اسلامی ثقافت کو علامہ اقبال کی تعلےمات کی روشنی مےں واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ثقافت سے علامہ کی مراد آمرےت کی بجائے جمہوری نظام ہے۔ ناہےد صدےقی کے خوبصورت رقص اور محفل موسےقی نے جس طرح ذہنی تواضع کی وہ بھی اپنی جگہ بہت اہم تھا۔کلاسےکل اور جدےد موسےقی کا سےشن دلچسپ ترےن تھا۔ڈاکٹر عمر عادل جےسی ہمہ جہت شخصےت تھی اور بات سے بات نکلنے والی کےفےت۔ علم موسےقی کے سمندر مےں وہ ہاتھ ڈالتے اور گوہر نکال نکال کر سامعےن کی طرف اچھالتے جاتے ۔جی چاہتا تھا کہ وقت تو کہےں تھم جائے۔

مشاعرے مےں پورا لاہور امنڈ آےا تھا۔ہر شاعرکی خواہش تھی کہ اُسے موقع ملے۔بہر حال ستر(70) پچھتر(75) تو نمٹے ہی۔رات کوئی پونے دو بجے تک محفل عروج پہ رہی۔ وزےر اعظم صاحب نے دوکروڑ روپے کی رقم عناےت کی۔ ادےبوںکی فلاح و بہبود سے متعلق بہت سے منصوبے اور کلب اس رقم سے تکمےل پائےںگے۔ وفاقی حکومت کو وفاقی اداروں کی طرف بھی توجہ دےنے کی ضرورت ہے۔اکےڈےمی آف لےٹرز اور مقتدرہ قومی زبان کی طرف وزےر اعظم تھوڑی سی توجہ دے دےں تو بہتوں کا بھلا ہوجائے کہ اِن اداروںکا جو پتلا حال ہوا پڑا ہے۔کمروں پر تالے پڑے ہوئے ہےں۔اور کام کےا ہورہا ہے، کوئی کچھ نہےں جانتا۔

 اس کانفرنس کا دلچسپ ترےن سےشن امن کی آشا اور مےڈےا تھا۔مےڈےا کے سبھی نامور صحافی نجم سےٹھی،مجےب الرحمن شامی سے لے کر اور ےامقبول جان ،سجاد مےر،محمود شام اور ہندوستانی جرنلسٹ بےٹھے تھے۔اورےا مقبول جان اعداد و شمارکے ساتھ مےدان جنگ مےںآستےنےں چڑھا کر اُترے اور افتخار احمد کے دلائل پر کشتوںکے پشتے لگائے۔سلےم صافی نے اورےا جان کو سوالوں کے کٹہرے مےں کھڑا کردےاتھا۔بہرحال بہت لطف آےا۔ہاں جب انڈےا کے معصوم مراد آبادی آئے اور انہوں نے ہندوستان کی تصوےر کھےنچی تو ےار لوگوںسے رہا ہی نہ گےا۔چلائے،ےہ تو گھر سے گھر تک کی تصوےرےں ہےں۔

عطاءالحق قاسمی صاحب! خدا آپ کو صحت اور تندرستی دے آپ نے اےسا خوبصورت مےلہ سجاےا کہ جی خوش ہوا۔بہت کچھ سےکھا۔بہت سے لوگوںسے ملنا ہوا۔جوعام حالات مےں ممکن ہی نہےں۔اےسی صحت مندانہ سرگرمےوںکا انعقادان شاءاللہ ذہنوںکو وسعت دےنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی جےسی خرابےوں کا بھی توڑ ہےں۔  ٭

مزید : کالم


loading...