عدلیہ کی آزادی.... اب ریورس گیئر ممکن نہیں

عدلیہ کی آزادی.... اب ریورس گیئر ممکن نہیں
عدلیہ کی آزادی.... اب ریورس گیئر ممکن نہیں

  



مثبت روایات آگے بڑھ جائیں، تو پھر انہیں ریورس گیئر نہیں لگایا جا سکتا تاہم ہمارے ہاں چونکہ بہت سے انہونے واقعات ہوتے رہے ہیں، اس لئے ہم اس نظریے پر یقین نہیں رکھتے۔ مثلاً سب یہ اندازے لگا رہے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدلیہ اُس طرح متحرک اور بیدار نہیں رہے گی جیسا کہ اُن کے عہد میں نظر آتی رہی ہے۔ اگرچہ اس تاثر کی خود چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نفی کرتے رہے ہیں۔ اُن کا یہ ہمیشہ استدلال رہا ہے کہ عدلیہ نے اپنی آزادی کا جو سفر کیا ہے اب اسے پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا۔ تاہم اُن کی بات چونکہ ایک خاص تناظر میں لی جاتی رہی، اس لئے تاثر یہی بنتا رہا کہ اُن کی رخصتی پرسارا منظر نامہ بدل جائے گا۔ یہ تک کہا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور دیگر اداروں نے اپنے معاملات روک رکھے ہیں، تاکہ جب وہ ریٹائر ہو جائیں، تو پھر اپنے دانت دکھائیں، لیکن یہ بات شاید درست نہ ہو۔ یہ امیدیں شاید پوری نہ ہوں کہ عدلیہ بحیثیت ادارہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے جانے پر معاملات سے آنکھیں بند کر لے۔ سپریم کورٹ کے تمام جج اب اِس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ عوام عدلیہ سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ میرا ذاتی خیال تو یہ ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد اعلیٰ عدلیہ مزید فعال ہو جائے گی تاکہ یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ ایک فعال جج کے جاتے ہی سارا میلہ اُجڑ گیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد عدلیہ کی سربراہی ایک ملتانی سپوت جسٹس تصدق حسین جیلانی کے ہاتھ میں آ رہی ہے۔ تصدق حسین جیلانی کو مَیں عہد ِ جوانی سے جانتا ہوں، جب مَیں ملتان میں ایک وکیل تھا اور صدر بازار کینٹ میں جہاں میری رہائش تھی وہ اکثر شاپنگ کے لئے آتے، ایک خوبصورت اور وجیہہ نوجوان، اُن کے بالوں کی تراش خراش اُس وقت کے مقبول ترین ہیرو وحید مراد سے ملتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ کینٹ میں ایک قدیمی میڈیسن کے ادارے گلزار میڈیکل ہال پر آتے تو نہایت نرم خوئی کے ساتھ بات کرتے۔ اُن کے خاندانی حسب نسب کا اُن کے لب و لہجے سے اندازہ ہوتا تھا۔ پھر ایک روز خبر آئی کہ انہیں ہائی کورٹ کا جج بنا دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جج بننے کے بعد بھی وہ جب ملتان آتے،اُسی طرح صدر بازار میں ایک عام آدمی کی طرح شاپنگ کرتے دکھائی دیتے۔ آج یہی نوجوان ملک کا چیف جسٹس بننے جا رہا ہے۔ ایک عظیم ترین منصب، جو پہلی بار جنوبی پنجاب کے حصے میں آیا ہے۔ تصدق حسین جیلانی کی طبیعت میں یقینا ایک حلیمی اور نرم خوئی ہے، لیکن کیا وہ عدل کے معاملے میں بھی اِسی طبیعت کی وجہ سے عدلیہ کے فعال کردار کو تھوڑا آہستہ اور غیر متحرک کر دیں گے۔یہ سوال اکثر زیر بحث آتا ہے۔ خاص طور پر جو لوگ تصدق حسین جیلانی کو ذاتی طور پر جانتے ہیں یا اُن کے ساتھ کسی مرحلے میں کام کر چکے ہیں۔ وہ جب اُن کی شخصیت کا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی شخصیت کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں، تو انہیں دونوں میں خاصا فرق نظر آتا ہے، مگر میرا دھیان جب چیف جسٹس کے منصب کی پچھلے چند سال میں بننے والی روایات کی طرف جاتا ہے، تو مَیں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ تصدق حسین جیلانی بڑا یوٹرن لیں گے۔

میرے اس خیال کی اُس وقت تائید ہو گئی جب جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اخبار نویسوں سے گفتگو اور اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو اپنے لئے ایک رول ماڈل قرار دیا۔ اُن کا یہ کہنا کہ عوامی مفاد کے مقدمات اُن کا پسندیدہ ترین موضوع ہے، اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ازخود نوٹسز کے حوالے سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جو روایات قائم کی ہیں، اُن پر عمل درآمد جاری رہے گا۔ اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے ازخود نوٹس کے اختیار پر شدید تنقید کی جاتی رہی اور اسے انتظامیہ کے امور میں مداخلت قرار دیا گیا، کچھ دِل جلوں نے، تو اسے غیر آئینی ہونے کا لبادہ بھی پہنا دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس اختیار کی وجہ سے جو آئین نے سپریم کورٹ کو دیا ہے، ہمارے بہت سے معاملات بہتر ہوئے، بہت سی اچھی روایات قائم کرنے میں مدد ملی۔ آپ لاپتہ افراد کیس پر نظر ڈالیں، اسے پہلے شجر ِ ممنوعہ سمجھا جاتا تھا، کسی کی جرا¿ت نہ تھی کہ ایجنسیوں سے پوچھ سکے، انہوں نے بندے کہاں غائب کئے ہیں۔ اس کیس کی سماعت دو سال تک جاری رہی اور دو سال تک یہ معاملہ قوم کے سامنے آتا رہا۔ ہر سماعت نے حقائق کے کچھ نئے در وا کئے اور قانون سے ماورا اقدامات کرنے والوں پر کچھ مزید دباﺅ پڑا۔ بالآخر وہ دن بھی آیا جب لاپتہ افراد میں سے کچھ کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرتے ہی بنی۔ اِسی از خود نوٹس اختیار کے باعث قومی خزانے میں اربوں روپے واپس آئے۔ رینٹل پاور کیس جیسے لوٹ مار کے دروازے بند ہوئے۔ وزیراعظم کے عہدے پر بیٹھے افراد کی غیر آئینی کوششیں گرفت میں آئیں۔ راجہ پرویز اشرف نے اپنی چار روز کی وزارت عظمیٰ کے دوران اربوں روپے کی جو بندر بانٹ کی اُس کا راستہ بھی روکا گیا، کئی مظلوموں کو بھی اسی راستے سے انصاف مِلا اور طاقت وروں کے سامنے سرنگوں کرنے والی انتظامی مشینری اور پولیس مظلوم کو انصاف دینے پر مجبور ہو گئی۔

کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ سپریم کورٹ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے جانے پر اپنی یہ تمام روایات ترک کردے، کم از مجھے تصدق حسین جیلانی سے اس کی توقع نہیں۔ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بااعتماد ساتھی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وکلاءنے آزاد عدلیہ کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں اور وہ کسی طاقت کو ان آزادیوں کے راستے کی دیوار نہیںبننے دیں گے۔ یو ٹرن صرف اُسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب روایات ابھی خام ہوں اور راستے ہی سے واپس لوٹنا ہو۔ عدلیہ ایک مضبوط ادارے کے طور پر اپنی شناخت بنا چکی ہے۔ اب اس شناخت سے دستبردار ہونا ممکن نہیں۔ عدلیہ کی آزادی ہی میں جمہوری سسٹم کی بقا و استحکام ہے۔ مثلاً اب کسی طالع آزما کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ جمہوریت پر شب خون مارے اور عدلیہ اُس کے شب خون کو قانون کی چھتری پہنا دے۔ اب پی سی او کی قبولیت کا دور بھی گزر چکا ہے، کیونکہ خود عدلیہ بطور ادارہ یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرنی، جو کہ ماضی میں نظریہ ¿ ضرورت کی چادر اوڑھا کر کی جاتی رہی، اس لئے اب اگر کوئی یہ توقع رکھتا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے جاتے ہی سب کچھ بدل جائے گا، تو شاید وہ پلوں کے نیچے سے گزرنے والے پانی کی رفتار اور شدت سے آگاہ نہیں ہے۔

عدلیہ نے بے شک بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے وجود کو ایک طاقتور آئینی ادارے کے طور پر منوایا ہے، مگر یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عدلیہ نچلی سطح پر انصاف کی ضمانت نہیں بن سکی۔ آج بھی زیریں عدلیہ کرپشن اور ناانصافی کی آماج گاہ بنی ہوئی ہے۔ ایک عام آدمی جس کا زیادہ تر واسطہ ضلعی و تحصیل سطح کی عدالتوں سے پڑتا ہے، انصاف کے لئے بھٹک رہا ہے۔ اگرچہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے نچلی عدالتوں کے لئے ایک جوڈیشل پالیسی وضع کی، مگر اس پر عمل درآمد نہ کرایا جا سکا۔ مقدمات سالہا سال تک لٹکانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلع کچہریاں لوٹ مار اور رشوت ستانی کا گڑھ بنی ہوئی ہیں، ایسے میں نئے چیف جسٹس سے یہ درخواست کرنا بے جا نہیں ہو گا کہ آپ نچلی سطح پر عدلیہ کی بہتری اور فعالیت کے لئے بھی ٹھوس اور دور رس اقدامات اٹھائیں۔ عوام کو حقیقی معنوں میں سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کے لئے ایسا قانونی و عدالتی نظام وضع کیا جائے، جو عوام کو اس بے رحمانہ سسٹم سے نجات دلائے، جو انصاف صرف پیسے اور اختیار والے لوگوں کو دیتا ہے۔ اگر تصدق حسین جیلانی اس حوالے سے تبدیلی لانے میں کامیاب رہتے ہیں تو جس طرح چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا نام ایک عہد ساز چیف جسٹس کے طور پر یاد رہے گا، اُسی طرح اُن کا نام بھی عدلیہ کی کایا کلپ کرنے اور اسے عوامی توقعات کا مظہر بنانے والے معماروں میں لیا جائے گا۔ ہم یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ ملتان کے یہ عظیم سپوت اپنے عہد کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ٭

مزید : کالم


loading...