ڈرون حملوں کے ہولناک اثرات

ڈرون حملوں کے ہولناک اثرات
ڈرون حملوں کے ہولناک اثرات

  



کسی بھی قانون میں نہتے اور بے گناہ شہریوں بشمول خواتین، بچے اور بوڑھے انسانوں کا قتل، انسانیت کے خلاف ایک عظیم جرم ہے۔ ہمارے ہاں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں میں صرف 3 فیصد دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 97 فیصد بے گناہ شہری مارے گئے۔ امریکا کے اپنے تحقیقی اداروں کی 6 سے زیادہ رپورٹوں کے مطابق ڈرون حملوں سے ہلاک ہونے والے 3 سے 4 ہزار افراد میں سے 400 سے 900 تک سویلین ہیں اور ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد 300 سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ڈرون حملوں سے ہونے والی تباہی پر لاہور سے تعلق رکھنے والی سائنس کی طالبہ جو گزشتہ 11 سال سے لندن میں مقیم ہے ، نے ایک ڈاکومنٹری فلم بنائی ۔ وہ شعرو ادب کا ذوق بھی رکھتی ہیں۔2007 میں پہلے شعری مجموعے ”جہاں پر لفظ رکتے ہیں“ میں شاعری کا موضوع بھی ڈرون حملے ہیں۔ عائشہ غازی شادی شدہ اور ایک بیٹے کی ماں ہیں ۔ ڈرون حملوں کے ہولناک نتائج دیکھ کر انہوںنے ایک ڈاکومنٹری فلم بنانے کا فیصلہ کیا اور اتنا بڑا کام انہوںنے تن تنہا بغیر کسی بیرونی وسائل کے کیا۔ سکرپٹ بھی خود لکھا اور ایڈیٹنگ بھی خود کی۔ لاہور میں یونیفائیڈ میڈیا کلب کے زیر اہتمام یہ فلم دکھائی گئی۔ اس موقع پر عتیق احمد خان چیف ایگزیکٹو غنی گلوبل گروپ ، برگیڈیئر (ر)فاروق حمید خان ، بشیر طاہر خان، روف طاہر ، اختر عباس (ایڈیٹر اردو ڈائجسٹ)، فیصل بن نصیر سمیت الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے سرکردہ افراد موجود تھے ۔

ڈاکومنٹری فلم میں ان علاقوں کی تصاویر و مناظر دکھائے گئے جہاں ڈرون گرائے گئے۔ فلم کے پس منظر میں عائشہ کی پرسوز آواز بھی تھی جو ان تصاویر اور مناظر کی وضاحت کر رہی تھی۔ ان مناظر میں لوگ ملبے میں سے اپنے پیاروں کو زندہ یا مردہ حالت میں ڈھونڈ رہے تھے۔ رنگین کپڑوں میں لپٹے ہوئے بے جان جسم ۔جن کے پیارے چشم زدن میں گوشت کے لوتھڑے بن گئے۔ نتیجتاً بچ جانے والے انتقاماً خود کش حملہ آور بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایک تیرہ سالہ لڑکی جس کے گھر کے تمام لوگ ماں باپ ، بہن بھائی ڈرون کا شکار ہوگئے ، اس کےلئے زندگی کی کیا اہمیت ہے۔ ایسے ہی بچے خود کش بمبار بنتے ہیںاور دہشت گردوں کے ہاتھوں وطن عزیز کے پرامن علاقوں میں بدامنی پھیلانے کے کام آتے ہیں۔ شمالی علاقہ جات کے پٹھان جب ڈرون حملوں سے جاں بحق ہوتے ہیں تو اپنے ورثاءکیلئے صرف ایک وصیت چھوڑ جاتے ہیں اور وہ ہے انتقام۔ ویسے بھی پٹھان کا انتقام ضرب المثل ہے۔ ملالہ نے اپنی کتاب میں بھی باجوڑ کے ایک مدرسے پر ڈرون حملے کا حال لکھا ہے کہ حملے میں شہید ہونےو الے والوں کی اکثریت قرآن پڑھتے ہوئے بچوں کی تھی۔ ان میں مولوی فضل اللہ کے دو بھتیجے بھی تھے اور قرآن کی تعلیم دینے والا اس کا بھائی تھا۔ جن کی ہلاکت کے بعد مولوی فضل اللہ کا انتقام سب کے سامنے ہے۔

ڈرون حملوں سے جہاں انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے وہاں ان علاقوں میں خطرناک بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ پورے علاقے میں ایک ہولناک ماحولیاتی تبدیلی بھی جنم لے رہی ہے جس کے اثرات بتدریج ظاہر ہو رہے ہیں۔علاقے میں امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں خطرناک جلدی امراض پھیل چکے ہیں جبکہ متاثرہ آبادی پہلے ہی شدید نوعیت کے نفسیاتی عوارض کا شکار ہے۔ یہ میزائل حملے کم و بیش سات برس سے جاری ہیں، شمالی اور جنوبی وزیرستان کی ایجنسیاں اس تباہی سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔جلدی امراض کا شکار سینکڑوں مرد و خواتین اور بچے پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک سے لے کر اسلام آباد اور کراچی تک کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ پھیلنے والے جلدی امراض میں معمولی خارش سے لے کر جلد کا کینسر تک شامل ہے۔ شمالی وزیرستان میں شائد ہی کوئی فرد خارش کا شکار نہ ہو۔ان امراض کے علاوہ میزائل وارہیڈز کے مہلک کیمیائی اثرات کی وجہ سے درخت سوکھ رہے ہیں، پھلدار درختوں کے باغات اجڑ گئے ہیں، زمین کی زرخیزی متاثر ہوئی ہے اور فصلیں بھی مضر کیمیائی اثرات کی حامل ہیں۔میزائل حملوں سے پھیلنے والی تباہی کی بدولت باغات میں انگور کی بیلیں خشک ہو گئی ہیں۔ سیب اور آڑو کے درخت بے ثمر ہو چکے ہیں۔

 پاکستان میں امریکی ڈرون حملے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی جامع رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حملے امریکہ نے اپنے مطلوبہ افراد کو نشانہ بنانے کیلئے شروع کئے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور مطلوبہ افراد کی نسبت بیگناہ عام شہری جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے ان حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ ماسوائے چند ایک کامیابیوں کے یہ حملے زیادہ موثر نتائج نہ دے سکے اور ان حملوں کے جواب میں سارا ملبہ پاکستان پر گرایاجاتا ہے اور طالبان امریکہ کا اتحادی ہونے کے ناطے جوابی کارروائی کے طورپر پاکستان میں خودکش حملے اور بم دھماکے کرتے ہیں جس سے پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 سابق صدر پرویز مشرف اور اس کے بعد زرداری حکومت نے امریکی جنگ کو اپنی جنگ بنا کر اپنے آپ کو غیروں کی جنگ میں جھونک دیا۔ اس دور میں ڈرون حملے روز کا معمول بن گئے تھے۔ وکی لیکس کے مطابق سابق وزیر اعظم گیلانی نے امریکیوں سے کہا تھا کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں ہم زبانی احتجاج کرتے رہیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بڑی سنجیدگی سے یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم کسی صورت نیٹو سپلائی نہیں چلنے دیں گے جب تک ڈرون حملے نہیں روکے جاتے ۔ اس ضمن میں جماعت اسلامی کے امیر منور حسن بھی عمران خان کے ساتھ تحریک چلانے پر رضا مند ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے بھی کہا ہے کہ ڈرون حملے کر کے امریکہ نے بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔یہ امریکہ کی جنگ ہے ، ہماری نہیں۔ ہم اپنے آپ کو امریکی غلامی میں اس جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں۔ دوستی اور غلامی میں بہت فرق ہے، حکمران امریکہ سے دوستی نہیں بلکہ اس کی غلامی کررہے ہیں ۔ہم اس وقت تک نیٹو سپلائی نہیں گزرنے دیں گے جب تک ڈرون حملے بند کرنے کی یقین دہانی نہیں کرادی جاتی۔

کچھ عرصہ سے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اسکے خلاف آواز بلند کرتی چلی آرہی ہے مگر امریکہ پر کوئی اثر نہیں ہورہا۔اب ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس جیسی موقر تنظیموں کی اس رپورٹ کے بعد عالمی برادری اور خود امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی چاہئے کہ وہ امریکی حکومت پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ غیر قانونی حملے بند کرے بصورت دیگر اس کیخلاف جنگی جرائم کا مقدمہ درج کیاجائے۔ڈرون حملوں کا مسئلہ پوری پاکستانی قوم اور ملک کی آزادی، خودمختاری، سلامتی اور عزت و وقار کا مسئلہ ہے۔ یہ پاکستان کی علاقائی حاکمیت اور خودمختاری پر حملہ ہیں۔ پاکستان میں امریکی ڈرون کے ذریعے ہلاکتیں جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ، امریکی کانگریس معاملہ کی نہ صرف انکوائری کرائے بلکہ ذمہ داروں کو سزا دلوائے۔ ٭

مزید : کالم


loading...