صابر و شاکر بندہ

صابر و شاکر بندہ
صابر و شاکر بندہ

  



[بچوں کے لیے لکھی گئی کہانی جس میں بڑوں کے لئے بھی دعوتِ فکر ہے، اس لیے وہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔]

بچو! آپ نے ایک ناشکرے انسان کا حال پچھلی کہانی میں پڑھا تھا۔وہ کیسا بد نصیب تھا جس نے اپنے پاﺅں پر خود کلہاڑا مارا۔ اس کے برعکس صابر و شاکر بندے کا کردار اور انعاماتِ ربّانی بھی دیکھئے.... میاں حامد محمود بااصول انسان تھے۔ چڑھتے سورج کی پوجا ان کا وطیرہ اور مسلک نہیں تھا۔ وہ غلط کو ہمیشہ غلط ہی کہتے تھے اور سچ کا ساتھ بغیر کسی لالچ و ہوس کے دیا کرتے تھے۔ کوئی ان پر احسان کرتا تو اس کو یاد رکھتے تھے اور کوئی نمک حرامی کرتا تو اسے نظر انداز کر دیتے تھے۔ یہ اللہ کے نیک بندوں اور عظیم انسانوں کی صفات ہوتی ہیں۔ ایسے نیک انسانوں پر بھی ابتلا و امتحان کا وقت آجاتا ہے ،مگر اللہ انہیں بے یارومددگار نہیں چھوڑتا۔ وہ آزمایش سے سرخرو ہو کر نکلتے ہیں۔

فضل داد کے ساتھ انہوں نے اللہ کی خاطر نیکی کی تھی۔ جب اس نے ان کی مصیبت میں ان کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا اور ان کو اس کا علم ہوا تو کئی ہمدردوں کے اس موقع پر سخت ریمارکس پر وہ یہی کہتے کہ بھئی مَیں نے اس کے ساتھ اس لئے احسان نہیں کیا تھا کہ مجھے جواب میں وہ کوئی نفع پہنچائے،مَیں نے اللہ کی رضا کے لئے نیکی کی تھی۔ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ اس کی اصل پہچانی گئی ہے۔

میاں صاحب پر ایک سخت آزمائش آگئی۔ ان کے علاقے سے منتخب ہونے والے حکومتی پارٹی کے ایم پی اے نے سیاسی مخالفت کی وجہ سے ان کے بیٹوں پر قتل کا جھوٹا پرچہ کرا دیا اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ سے اس مقدمے کے لئے کئی جھوٹے گواہ بھی تیار کرلئے۔ میاں حامد کے تینوں بیٹوں کے خلاف قتل کا مقدمہ بناتو ان کے حلقہ¿ تعارف میں مخلص دوستوں اور ابن الوقت مفاد پرستوں کا پتا چل گیا۔ میاں صاحب کے پاس ان مشکل لمحات میں اللہ کا وہی فرشتہ انسانی صورت میں آیا جو فضل داد کے پاس آیا تھا۔ اس نے ان کو تسلی دی کہ یہ دورِ ابتلا جلد گزر جائے گا۔ اس نے کہا: ”میاں صاحب آپ کے علاقے میں ایرپورٹ بننے والا ہے۔ آپ کی زمینوں کی قیمت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ آپ کا مخالف ایم پی اے عنقریب زوال کا شکار ہونے والا ہے اور اس کے گماشتے میاں مرغوب احمد کے اصلی قاتل بہت جلد پکڑے جانے والے ہیں۔ وہ اصل حقائق بتادیں گے۔ آپ کے بیٹے جلد باعزت بری ہو کر جیل سے باہر آجائیں گے۔“

میاں صاحب نے اجنبی مہمان کا شکریہ ادا کیا اور اس سے اس کا تعارف پوچھا ،مگر اس نے محض اتنا کہا: ”میں ایک مسکین شخص ہوں۔ میرا کیا تعارف ہونا ہے۔ مَیں آپ کے بھلے وقتوں میں پھر حاضر ہوں گا“.... میاں صاحب قدرے حیران تھے کہ یہ شخص اپنا آپ ظاہر کرنے سے کیوں ہچکچاتا ہے مگر انہیں وہ کھرا اور بھلا انسان لگ رہاتھا۔ وہ زیادہ رکے بغیر چل دیا تو میاں صاحب نے کہا: ”بھلے مانس چائے اور پانی آرہا ہے، وہ تو پیتے جاﺅ“۔ مہمان نے کہا :”میاں صاحب آپ کا بہت شکریہ، میرا روزہ ہے، اس لئے مَیں اجازت چاہتا ہوں۔ مجھے غروب آفتاب سے پہلے بہت سفر کرنا ہے“.... یہ کہہ کر مسافر چلا گیا۔

میاں صاحب سوچ میں پڑ گئے کہ یہ تھا کون؟ پھر سوچا کہ چلو جو بھی تھا، مجھ سے بے چارا کیا لے گیا ہے۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ حالات میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ میاں صاحب کو وہ مہمان شدت سے یاد آنے لگا۔ ملک تنویر حسین ایم پی اے کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ اس پر منشیات کا ایک کیس بنا ،جس میں ہیروئن کی کافی مقدار پکڑی گئی۔ ان کے ساتھ ان کے فرنٹ مین نور دین عرف نورا، عالم خاں عرف عالمہ لوہار اور خیرات علی عرف کھیرا بھی پکڑے گئے۔ سی آئی اے اور اینٹی نارکوٹکس کے عملے نے تفتیش کی تو تینوں فرنٹ مین اعتراف پر مجبور ہوگئے کہ میاں مرغوب کو انہوں نے ملک صاحب کے حکم پر قتل کیا تھا، پھر ملک صاحب نے مقتول کے خاندان کو مجبور کرکے الٹا ایف آئی آر میاں حامد کے تینوں بیٹوں کے خلاف کٹوا دی تھی۔ قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد ہوگیا اور ملزمان کے خلاف دیگر کئی شواہدبھی دریافت ہوگئے۔ اب حالات کا نقشہ ہی بدل گیا تھا۔ میاں حامد محمود کے تینوں بیٹے جیل سے باعزت بری ہوگئے۔ مقتول کے ورثا نے میاں صاحب سے آکر معافی مانگی تو انہوںنے خوش دلی سے ان کو معاف کر دیا۔ میاں صاحب سوچتے کہ ان کا وہ نیک نہاد اجنبی مہمان کبھی آجائے تو بہت اچھا ہو، مگر وہ مڑ کے نہ آیا۔

کچھ عرصہ گزارا تو میاں صاحب کے علاقے میں ایرپورٹ کا کام شروع ہوگیا۔ ان کی کچھ زمین ایرپورٹ میں آگئی۔ اس کی بہت پُرکشش قیمت ان کو مل گئی۔ باقی زمین کی قیمتیں بھی بہت اونچی چلی گئیں۔ میاں صاحب نے بعض دوستوں کے مشورے سے ایرپورٹ کے قریب ایک پلازہ تعمیر کیا اور کئی ایک سٹور گھر بھی بنا دئیے۔ ان عمارتوں سے ان کو لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ آنے لگا۔ خوش حالی جو بدحالی میں بدل گئی تھی، پھر واپس پلٹی تو میاں حامد اللہ کا شکر ادا کرتے اور پھر دعا کرتے کہ اے اللہ دولت کو میرے لئے فتنہ نہ بنادینا۔ یہ سب تیری ہی عطا ہے یا اس نیک بندے کی دعا جو مجھ سے ملا تھا اور پھر اسے دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں۔ مجھے تو نے جوکچھ دیا ہے، یہ تیرا فضل ہے۔ میرا کوئی استحقاق نہ تھا۔ اے اللہ تو نے مال و دولت دیا ہے تو شکر گزاری کی توفیق بھی عطا فرمانا اور اگر تو یہ نعمت واپس لے لے تو صبر کی دولت سے مالا مال کر دینا....“

 شب و روز گزر رہے تھے کہ ایک روز اچانک وہی مہمان میاں صاحب کے ڈیرے پر آیا۔ اس وقت بھی اتفاق سے میاں صاحب اکیلے ہی تھے۔ اسے مل کر بہت خوش ہوئے اور اسے اپنے ساتھ لے کر گھر میں اپنی بیٹھک میں آگئے۔ پھر گھر کے اندر پیغام بھیجا کہ جو کچھ بھی ماحضر ہے، لے آﺅ۔ مہمان نے بصد ادب و محبت کہا: ”میاں صاحب آج یوم عرفات ہے، میرا روزہ ہے۔ اللہ آپ کے مال و دولت میں برکت عطا فرمائے۔ مَیں آج قدرے جلدی میں بھی ہوں۔ آپ کے پاس ایک بہت ضروری اور نیکی کے کام کے لیے بھیجا گیا ہوں....“

میاں صاحب حیران ہوئے: ”بھیجا گیا ہوں، کس نے بھیجاہے؟“ انہوں نے تعجب سے پوچھا۔ مہمان نے مختصر جواب دیا: ”پہلے میری معروضات تو سن لیں، تھوڑے سے توقف کے بعد اس نے سرگوشی کے انداز میں کہا: ”آپ کے دل میں میاں مرغوب مرحوم کے بچوں اور فیملی کے بارے میں کدورت تھی، مگر اللہ کا شکر ہے کہ اب آپ کا دل تو صاف ہے، مگر وہ بے چارے بھی حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہیں۔ سخت مالی بحران میں مبتلا ہیں۔ ان کو پیشہ ور قاتلوں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان یتیم بچوں اور ان کی بیوہ ماں پر کیا گزر رہی ہے“....

میاں صاحب نے پوچھا: ”تو آپ کیا چاہتے ہیں“؟مہمان نے کہا: ”آپ سے بات کرتے ہوئے ذرا جھجک رہا ہوں کیونکہ معاملہ کچھ ویسا ہی ہے، جیسا فضل داد کا تھا.... ان بے چاروں کو اپنی جان اور عزت بچانے کے لیے بیرونِ ملک جانا ہے۔ دو بھائیوں کے ویزے ناروے سے آچکے ہیں ،مگر ان کے پاس وسائل نہیں“.... میاں صاحب نے کہا: ”بھلے انسان، فضل داد کا حوالہ نہ دو۔ یہ بتاﺅ کہ ان کو کتنی رقم درکار ہے؟ مَیں قرض نہیں دوں گا، ان کی امداد کردوں گا۔“

مہمان میاں صاحب کے جواب سے بہت خوش ہوا اور اس نے کہا: ”وہ لڑکے خود آپ کے پاس حاضر ہوں گے، آپ ان کی سرپرستی فرمائیے گا۔ میرا کام مکمل ہوگیا ہے۔ مجھے اجازت دیجیے، مجھے بہت دور جانا ہے۔ مَیں پھرکبھی آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا ،مگر میری حاضری اسی وقت ممکن ہوتی ہے، جب مجھے حکم یا کم از کم اجازت مل جائے“.... یہ کہہ کر مہمان تیزی سے آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔

میاں مرغوب کے بیٹے اگلے روز میاں حامد صاحب کے پاس آئے تو انھوں نے ان سے شفقت بھرے لہجے میں آمد کا مقصد پوچھا: انہوں نے اپنی مشکل اور ضرورت بیان کی تو میاں صاحب نے کہا: ”بیٹا کل آکے پوری رقم لے لیں۔ اللہ تمہاری مشکلات کو آسان فرمائے“۔ ان لڑکوں کو میاں صاحب کے اس خوب صورت جواب سے خوشی بھی ہوئی اور قدرے حیرت بھی۔ انہوں نے سوچا کہ ہم نے تو ایم پی اے کے کہنے پر میاں صاحب کے بیٹوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا تھا، مگر میاں صاحب ہیں کہ ہمیں ایک لفظ کہے بغیر رقم دینے کا وعدہ کرلیا ہے۔ ان کے دل میں یہ بھی خیال گزرتا کہ کہیں ہمارے ساتھ کوئی دھوکہ تو نہیں کیا جارہا، مگر پھر آپس میں ایک دوسرے کو کہتے کہ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ میاں حامد کی پوری زندگی نیکی اور خیر کی گواہ ہے۔ خیر وہ حسب وعدہ میاں صاحب کی خدمت میں اگلے روز حاضر ہوئے۔ بچو !اللہ کے شکر گزار بندے اور ناشکرے لوگ اسی زمین پر رہتے ہیں۔ ایک ہی طرح کا گوشت پوست، ہاتھ پاﺅں اور دیگر اعضاءہوتے ہیں، مگر دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اللہ سے ہمیشہ دعا کیا کرو کہ وہ شکر گزار بننے کی توفیق دے۔ یہی اصل انسانیت ہے اور اسی کا دنیا و آخرت میں نفع ملتا ہے۔ جب میاں صاحب نے رقم ان کے حوالے کی تو انھوں نے کہا: ”انکل آپ رسید لکھوالیں“۔ میاں صاحب نے کہا: ”برخوردار لکھنے لکھانے کی ضرورت نہیں، یہ تمہاری رقم ہے، میرے پاس تو محض امانت ہے۔ اس کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم بھی جب خوشحال ہوجاﺅ تو اللہ کے محتاج بندوں کی دست گیری اور سرپرستی کرنا.... اللہ کا شکر ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ اللہ شکر گزار بندوں کو ان کے استحقاق سے بھی زیادہ دیتا ہے“۔  ٭

مزید : کالم