پاکستان سے شرارتیں

پاکستان سے شرارتیں
پاکستان سے شرارتیں

  



خفیہ ہاتھ پاکستان سے شرارتیں کر رہے ہیں ، بھرپور شرارتیں، جیسے کسی گول مٹول بچے کی ہر کوئی گالیں کھینچنے میں لگا رہتا ہے اِسی طرح خفیہ ہاتھ پاکستان سے پے درپے شرارتوں میں مصروف ہیں، کبھی پاکستان کی جانب سے شروع کئے جانے والے امن مذاکرات کو ڈرون کیا جاتا ہے تو کبھی شیعہ سنی فساد برپا کرنے کے لئے ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے، کبھی بلیک واٹر کو متحرک کردیاجاتا ہے تو کبھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے ہمارے لتے لئے جاتے ہیں، کبھی انڈیا اور افغانستان کا گٹھ جوڑ کروادیا جاتا ہے، تو کبھی میڈیا کا ایک سیکشن مقامی مسائل کے مقامی حل پر سیخ پا ہوجاتا ہے اور ڈراتا ہے کہ امریکہ نے اگر حملہ کردیا تو ہماری اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی، گویا کہ ان دنوں پاکستان کا وہی حال ہے جس کا نقشہ کبھی منیر نیازی نے کھینچا تھا کہ !

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

مَیں ایک دریا کے پار اترا تو مَیں نے دیکھا

بلکہ بابا عبیر ابوذری کا یہ شعر تو پاکستان کی حالت زار کے عین مطابق ہے کہ !

کانٹے کی طرح ہوں میں رقیبوں کی نظر میں

رہتے ہیں مری گھات میں چھے سات مسلسل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو جان بوجھ کر تنگ کیا جا رہا ہے، اس کا چیزہ لیا جارہا ہے، اسے بے وقوف بنایا جا رہا ہے اور یوں ہر طرف سے پاکستان کی شامت آئی ہوئی ہے، اس کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے اور اسے پٹخنیاں دی جا رہی ہیں، اس کی ہمت کو آزمایا جارہا ہے، اسے مسائل کے حل کے لئے مربوط کوشش نہیں کرنے دی جا رہی ہے، اسے تاریخ کے بدترین توانائی کے بحران سے دوچار کیا ہوا ہے ، پانچ دریاﺅں کی دھرتی کو پانی سے سستی بجلی نہیں پیدا کرنے دی جارہی ہے ، ہم نے کالا باغ چھوڑ کر دیامیر بھاشاڈیم کی داغ بیل ڈالی تھی، لیکن ابھی تک اس کی سدھ پٹھ کا بھی پتہ نہیں چل رہا ہے ، ہمیں اپنے مسائل حل نہیں کرنے دیئے جارہے، اس کی بجائے ہمیں ایسی بھول بھلیوں میں الجھایا جارہا ہے جن سے دوچار ہو کر بالآخر ہم ہتھل ہوجائیں گے اور چاروں شانے چت جا گریں گے!

خدا کا شکر ہے کہ ہماری سیاسی ، مذہبی اور عسکری قیادت خفیہ ہاتھوں کی چالبازیوں کو سمجھ رہی ہے اور باہم کشت و خون سے گریز کررہی ہے، عوام کی اکثریت بھی اس بات کو سمجھ رہی ہے اور برداشت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے Resilienceدکھا رہی ہے،مگر کب تک!

کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ خفیہ ہاتھ ہم سے اس قدر خوف کیوں محسوس کرتے ہیں،جو ہمیں ایک پل بھی چین نہیں لینے دیتے،وہ ہمارے باہمی تعصبات کو ہوا دے رہے ہیںاور ان تعصبات کی آڑ میں ہمیں الجھانے کی کوشش میں ہیں، آخر ان خفیہ ہاتھوں کا مقصد کیا ہے، کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ایسی شرارتوں سے، ان کا مطمح نظر کیا ہے، جس صورت حال سے ہم دوچار ہیں اس کا پس منظر کیا تھا، پیش منظر کیا ہے اور مستقبل کیا ہو گا؟ ان سوالوں کے جواب ندارد ہیں، ایک بہت بڑا نامعلوم ہمارے سامنے ہمارا راستہ روکے کھڑا ہے، یہ نامعلوم کی کیفیت مشکل ترین اور پریشان کن ہے، تذبذب بڑھتا جارہا ہے ، باتیں ہو رہی ہیں کہ پاکستان کو لبنان، لیبیا اور شام بنانے کی چال چلی جا رہی ہے، ایسا کرنے والے کامیاب ہوگئے تو کیا ہو گا؟اور اگر ناکام رہے تو کیا ہو گا؟

لوگوں نے وزیراعظم نواز شریف کو گونگا پہلوان کہنا شروع کر دیا ہے ، ان کا خیال ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پاکستان کی سیکیورٹی اور امن و امان کے قیام میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر سکتے، وہ صرف ترقی اور معاشی خوشحالی کا پروگرام دے سکتے ہیں، جبکہ حالات ایسے کسی پروگرام کے لئے سازگار نہیں ہیں، اس کے لئے جس امن و امان کا ہونا شرط ہے نواز شریف اس کے حصول کی خاطر خواہ اہلیت نہیں رکھتے ، انتخابات سے قبل جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ امریکہ بہادر کو وہ کیسے قائل کریں گے وہ ڈرون حملے نہ کرے تو وہ کہتے تھے کہ انہیں حکومت کا تجربہ ہے، جسے بروئے کار لاتے ہوئے وہ امریکہ کو قائل کرلیں گے کہ وہ ڈرون حملے نہ کرے ، لیکن جب سے انہوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے تب سے امریکہ ہی انہیں قائل کئے ہوئے ہے، یہی وجہ ہے کہ عمومی تاثر بنتا جارہا ہے کہ پاکستان کو سوائے ناکام ہونے کے اور کوئی کام نہیں آتا، کیونکہ یہاںجمہوریت ہی نہیں آمریت بھی ناکام ہو چکی ہے، حکومت ہی نہیں معیشت بھی زبوں حالی کا شکار ہے!

اس میں شک نہیں کہ پاکستان سے شرارتیں کرنے والوں کے ہاتھ لمبے ہیں اور ان کے مقابلے میں پاکستان کے آپشنز محدود ہیں ، اس لئے پاکستان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے، سانحہ راولپنڈی پر قائم جسٹس مامون کمیشن کا فیصلہ جلد سامنے آنا چاہئے۔ ٭

مزید : کالم


loading...