قومی اثاثے بیچنے کی بجائے ان میں اضافے کی فکر کی جائے

قومی اثاثے بیچنے کی بجائے ان میں اضافے کی فکر کی جائے

  



وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم ایسا نظام لائیں گے، جس سے آئندہ کوئی کرپشن کرنے کا سوچ بھی نہیں سکے گا۔ قرض سکیم نوجوانوں کے دُکھ درد دیکھ کر تیار کی ہے۔ میرٹ پر قرضے ملیں گے۔ قرضہ سیکم میں میری سفارش بھی نہیں چلے گی۔ وہ نوجوانوں کو قرضے دینے کی سکیم کا افتتاح کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کو دیکھ کر اندر سے دل دکھی ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن پالیسی سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا اور سرمایہ کاروں کی دل شکنی ہوئی۔ اس کا خمیازہ آج بھی بھگت رہے ہیں۔ نیشنلائزیشن نہ ہوتی تو آج خطے میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والا ملک پاکستان ہوتا۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کو نجی تحویل میں دیں گے۔ پی آئی اے سمیت متعدد اداروں پر نظر ہے۔ عوام کے دُکھ درد کو سامنے رکھ کر وعدے کئے تھے۔ دس لاکھ 80ہزار نوجوانوں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ناانصافی ہوتی رہی ہے، جو ادارے پرائیویٹائز نہیں ہوئے انہیںپرائیویٹائز کرنے جا رہے ہیں، جن اداروں کی نج کاری کی گئی ٹھیک جا رہے ہیں۔ اب بھی کئی اداروں کا نقصان حکومت برداشت کر رہی ہے۔ فیکٹریاں اور کارخانے چلانا حکومت کا کام نہیں۔ وہی ادارے جو اربوں روپے کے نقصان کا سبب بن رہے تھے آج نجکاری کے بعد اربوں روپے کا نفع دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ۔ اللہ سے مدد کی دُعا کرتا ہوں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی مہنگائی کی لہر آئی ہے۔ ہمیں تھوڑا موقع دیں نئے قوانین بنا رہے ہیں۔ مسائل سے غافل نہیں ہیں۔

وزیراعظم کی طرف سے کرپشن فری نظام لانے کی بات ناقابل یقین حد تک خوشگوار ہے۔ کرپشن نے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر کے رکھ دی ہیں۔ حکمرانوں کی طرف سے ہر سودے اور ہر ترقیاتی منصوبے میں اپنے کک بیکس اور کمیشن کو پیش نظر رکھا جاتا رہا ہے، کسی منصوبے کی ملک و قوم کی ضرورتوں، ترجیحات اور معروضی حالات سے مطابقت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ نوجوان ہماری آبادی کا اہم ترین حصہ ہیں اور ان سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں اور نئی فکر سے فائدہ اٹھایا جانا اور ان کو مایوسی سے بچایا جانا ضروری ہے۔ ان کے لئے قرضے جاری کرنے اور دوسری سہولتیں فراہم کرنے کے لئے میرٹ اور استحقاق کی سختی سے پابندی کرنے کی بات بھی باعث اطمینان ہے،لیکن ایسے پروگراموں کے لئے ایک کھرب روپے کی رقم تفویض کرنے پر بہت سے حلقوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ملک کی بہت سی دوسری اہم ضرورتوں کے لئے بجٹ میں مناسب فنڈز تفویض نہیں کئے جا سکے تھے،لیکن بجٹ کے باہر سے اب یہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آ گئی ہے؟ یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کے لئے نئے نوٹ چھاپے جائیں گے، جن کے مارکیٹ میں آنے کا لازمی نتیجہ افراطِ زراورمزید مہنگائی کی صورت میں سامنے آئے گا، جس کے بعد نوجوانوں کو قرضے ملنے سے بھی قوم کا مجموعی طور پر کوئی خاص فائدہ نہیں ہو سکے گا۔ تاہم نوجوانوں کو ملنے والے قرضوں سے موثر انداز میں اقتصادی سرگرمیاں شروع ہو جائیں تو اس سے کسی طرح کی مہنگائی کے منفی اثرات قوم کو برداشت نہیں کرنے پڑیں گے۔ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم ہونے سے ملکی پیداوار اور برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا۔ قرضوں کے ساتھ ساتھ اگر نوجوانوں کو کاروبار کے لئے مناسب تربیت کا انتظام بھی کیا جائے، انہیں صحیح سمت دے دی جائے، تو قرضوں کی یہ سہولت ملک میں اقتصادی انقلاب لانے کا باعث ہو گی۔

وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی سے ملکی معیشت کو ہونے والے نقصانات کا بجا طور پر ذکر کیا گیا، جب یہ پالیسی آئی اس سے پہلے ملک تیزی سے صنعت و تجارت میں ترقی کر رہا تھا، لیکن صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے کی پالیسی کے بعد سرمایہ کاروں نے پاکستان میں صنعتیں لگانے سے ہاتھ روک لیا اور کاروباری لوگوں میں مایوسی پھیلی، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی فلاحی مملکت کا قیام پاکستانی قوم کا شروع دن سے خواب رہا ہے اور اس کے لئے قوم ہر طرح سے محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتی رہی ہے۔ فلاحی مملکت کے لئے مخلوط معیشت کو اہم سمجھا جاتا ہے جس میں ایئر سروسز، ریلوے، شپنگ ، کان کنی، بنکنگ اور کمیونیکیشن جیسے تمام بڑے ادارے قومی ملکیت میں رہتے ہیں اور ان کے علاوہ باقی تمام کاروبار اور صنعتیں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرتی ہیں۔ اس طرح آمدنی کے ان بڑے ذرائع کی بناپر حکومت اس پوزیشن میں ہوتی ہے کہ بوڑھوں بیروزگاروں اور معذوروں کو وظائف اور ریٹائر ہونے والوں کو معقول پنشن دے سکے اور دوسرے ہر طرح کے فلاحی کاموں کے لئے فنڈز مہیا کر سکے۔ مخلوط معیشت کے اس نظام کی بدولت معاشرے میں ایک مڈل کلاس تو وجود میں آتی ہے،لیکن معاشرہ بے حد امیر لوگوں اور بے حد غریب لوگوں کے دو طبقوں میں بٹ کر نہیں رہ جاتا۔ ہمارے ریلوے، سٹیل ملز اور پی آئی اے جیسے ادارے اگر اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری کے بعد بھی اربوںروپے کا خسارہ دکھاتے رہے ہیں، تو اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں رہی کہ اُن کی کرپٹ اور نااہل انتظامیہ ان کے اربوں روپے کے منافع کو اپنی جیب میں ڈالنے کے بعد الٹا اربوں روپے کا خسارہ دکھا کر قومی خزانے کو لوٹتی رہی ہے۔ آخر وہ حکومتیں ملک کو چلانے کے معاملات میں کامیابی کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہیں، جو ایسے مضبوط اور کامیابی کے لئے ضروری تمام تراسباب کی موجودگی میں بھی ان قومی اداروں کو کامیابی سے نہیں چلا سکتیں۔

ہم نے اپنے قومی پروگرام اسلامی فلاحی مملکت اور مخلوط معیشت کے پروگرام سے انحراف اس وقت شروع کیا جب امریکہ نے اپنے نیو ورلڈ آرڈر کے پروگرام کے تحت اپنے زیر اثر ملکوں کی حکومتوں پر پرائیویٹائزیشن کے لئے زور دینا شروع کیا۔ بڑے قومی ادارے قوم کا فخر اور قیمتی سرمایہ ہیں، جن پر قوم کی ملکیت کے بجائے چند خاندانوں کا تسلط و قبضہ قومی اعتماد اور قومی امنگوں کے خلاف ہو گا۔ آج اگر ہر پاکستانی سینہ پھلا کر یہ کہہ سکتا ہے (اگر حاکم ان کا انتظام درست کر لیں) ”ہماری سٹیل ملز، ہماری ریلوے ، اور ہماری پی آئی اے“ تو ان کے پرائیویٹ سیٹھوںکے ہاتھوں میں چلے جانے کے بعدکس طرح اپنے ملک پر فخر کر سکیں گے؟ آج اگر پرائیویٹائزیشن کے سلسلے میںریفرنڈم کرا لیا جائے ۔ قوم سے یہ پوچھا جائے کہ کیا ہمیں یہ قومی ادارے پرائیویٹائز کرنے چاہئیں یا ان کا انتظام بہتر بنا کر انہیں قومی ملکیت میں رکھنا چاہئے تو عوام کی بھاری اکثریت انہیں قومی ملکیت ہی میں رکھنے کی حمایت کرے گی۔ ان اداروں میں سیاسی بنیادوں پر ٹھونسے گئے لاکھوں زائد از ضرورت ملازمین سے انہیں نجات دلا دی جائے، اُن کا انتظام ٹیکنو کریٹس اور دیانتدار لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے تو انہیں نفع آور بنانا دور کی بات نہیں۔ قومی ادارے قوم سے نہ چھینے جائیں اور حکومتیں قوم کی اجتماعی دولت لوٹنے اور عوام پر زیادہ سے زیادہ قرضوں کا بوجھ لادنے کے بجائے انہیں اپنے بیش بہا ادروں کی ملکیت ان کے پاس ہونے کا احساس دِلا سکیں، تو اس سے ہر کوئی اپنے ملک و قوم اور حکومتوں پر فخر کر سکے گا۔ یہ کہاں کی درست پالیسی ہے کہ جو بھی حکومت آئے نئے سے نئے قرضوں کا طوق قوم کے گلے میں ڈالے اور قوم کے تمام اثاثوں کو ایک کے بعد ایک بیچ ڈالا جائے ۔ قوم یہ چاہتی ہے کہ اس کا کچھ تو اس کے پاس رہنے دیا جائے، جس طرح قومی اداروں کو ماضی میں غیر شفاف طریقے سے بیچنے اور حاکموں کی تجوریاں بھرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اس سب کچھ کے بعد اس قوم کے غریب اور بے بس عوام ایک بار پھر ان ارادوں کے پیچھے بُرے عزائم کی بو سونگھ رہے ہیں۔

مہنگائی کے سلسلے میں وزیراعظم نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھنے کا ذکر کیا اور یہ کہا کہ ان کی حکومت کو کچھ وقت دیا جائے۔ ان کو قوم نے پانچ سال کے لئے وقت دیا ہے، لیکن لوگوں کی حالت بگڑتے بگڑتے نوبت فاقوں تک آ جائے تو پھر عوام کی طرف سے کس طرح کا رد عمل ظاہر کیا جا سکتا ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ وزیراعظم اور حکومت کی طرف سے مہنگائی اور کرپشن کے خاتمے کے لئے بہت کچھ کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن عوام مختلف پالیسیوں اور ان پر عمل درآمد کے سلسلے میں شفافیت اور ان پالیسوں کے نتائج کے بعد ہی حکومت کے کاموں کی تائید و حمایت کرنے کے عادی ہیں۔ حاکموں سے خوف خدا اور درست کام کرنے کی توقع کے ساتھ پاکستانی عوام ان سے ایسے تدبر اور مہارت کی توقع رکھتے ہیں جس سے ان کے مسائل جلد سے جلد حل ہوں۔ مشکل حالات میں قومی اداروں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کے بجائے یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ سٹیل ملز اور پی آئی اے جیسے اداروں کو فی الحال ٹھیکے پر دے دیا جائے۔ اس کے لئے شفاف اور درست نیلام عام کا طریقہ اپنایا جائے تو یہ بھی اس قوم کو مزید صدموں سے دوچار نہ کرنے اور قومی بے بسی سے فائدہ نہ اٹھانے والی بات سمجھی جائے گی۔

کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کی پالیسیوں کے علاوہ ہم اپنے قومی اداروں کو اونے پونے پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے پر اس لئے بھی تلے ہوئے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت نے کبھی اسلامی فلاحی مملکت کے قومی نصب العین کو سامنے ہی نہیں رکھا۔ قوم کی امانت کو امانت ہی نہیں سمجھا ۔ سیاسی قیادت کے ایسے اقدامات کی تحسین آخر کیوں کر ہوسکتی ہے جن کا مقصد قوم کے اثاثہ جات کو بڑھانے کے بجائے انہیں گھٹانا ہو۔ کیا ہمارے حاکم اس پہلو پر غور نہیں کرتے کہ آج جب وہ آئے ہیں اور قوم کے جو اثاثہ جات اس وقت موجود ہیں وہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر کے جاتے وقت ان میں کیا اضافہ کرکے جائیں گے؟

مزید : اداریہ


loading...