ہیر ا نگر حملہ،عسکرےہیر ا نگر حملہ،عسکرےت پسند بین الاقوامی سرحد سے داخل نہیں ہوئے

ہیر ا نگر حملہ،عسکرےہیر ا نگر حملہ،عسکرےت پسند بین الاقوامی سرحد سے داخل ...

  



سری نگر (کے پی آئی) سرحدی حفاظتی فورس نے 26ستمبر کو ہیرا نگر میں ہوئے پے درپے فدائین حملوں کے بارے میں اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کو خارج ازامکان قرار دیا ہے کہ حملے میں حصہ لینے والے عسکرےت پسند بین الاقوامی سرحد عبور کرکے اِس پار داخل ہوئے تھے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی راجوری میں کی گئی اور تینوں عسکرےت پسندجو راجوری سے ہی ہیرا نگر آئے تھے۔ 26ستمبر کے روز عسکرےت پسند نے ہیرا نگر سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے نزدیک واقع ایک علاقے میں پہلے پولیس اسٹیشن اور بعد میں وہاں سے دوری پر واقع ایک فوجی کیمپ پر حملہ کردیا۔ فدائین طرز کے ان حملوں میں مجموعی طور پر 13افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ایک لیفٹنٹ کرنل سمیت فوج کے 4اہلکار ،پولیس کے 4اہلکار،2عام شہری اور تینوں فدائین شامل ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے ابتدائی طور پر اس بات کا انکشاف کیا کہ تینوں فدائین جنگجو بین الاقوامی سرحد عبور کرنے کے بعد اِس پار داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے تاہم مرکزی وزارت داخلہ نے معاملے کی تحقیقات عمل میں لانے کا فیصلہ کرلیا اور اس مقصد کے لئے سپیشل ڈائریکٹر بی ایس ایف کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے ان حملوں کے بارے میں مکمل چھان بین عمل میں لائی ۔ اس سلسلے میں بی ایس ایف نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ نئی دلی میں فورس کے ہیڈ کوارٹر اور مرکزی وزارت داخلہ کوبھیج دی ہے۔ رپورٹ میں اس امکان کو یکسر خارج کردیا گیا ہے کہ فدائین جنگجو دراندازی کرکے ہیرا نگر علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

مزید : عالمی منظر


loading...