سید علی گیلانی کو انکے گھر میں نظر بند کر دےا گےا‘ ملےن مارچ ملتوی

سید علی گیلانی کو انکے گھر میں نظر بند کر دےا گےا‘ ملےن مارچ ملتوی

  



سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حرےت کانفرنس گ کے چےرمےن سید علی گیلانی کو انکے گھر میں نظر بند کر دےا گےا ہے جبکہ ان کے ساتھےوں اور کارکنوں کی گرفتارےوں کا سلسلہ شروع کر دےا گےا ہے ۔ بھارتی رکاوٹون کے باعث اتوار کو سری نگر مےں ملےن مارچ ملتوی کر دےا گےا ہے ۔ حرےت ترجمان نے اےک بیان میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملین مارچ پر قدغن لگانے کی ریاستی دہشت گردی پر صبروتحمل سے کام لیں اور 8دسمبر اتوار کو سرینگر کی طرف مارچ کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں۔ بیان کے مطابق حیدرپورہ دفاتر پر تحریک حریت کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ترال اور بانڈی پورہ کے بعد سرینگر کے مجوزہ عوامی جلسے پر پابندی لگائے جانے کی حکومتی کارروائی اور اس سے پیدا شدہ صورتحال پر غوروخوض ہوا اور آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ چیرمین سید علی گیلانی کی صدارت میں منعقد اس میٹنگ میں کہا گیا کہ تین سال کی نظربندی کے بعد گیلانی کو اگرچہ عارضی طور پر چند دنوں کے لیے رہا کیا گیا تھا، البتہ عوام کی طرف سے جو پزیرائی نہیں ملی اور لوگوں نے اپنے جذبہ آزادی اور ولولے کا جس طرح سے اظہار کیا، ا±س سے دہلی سے سرینگر تک حکمرانوں کی نیندیں حرام ہوگئیں اور انہیں پاﺅں تلے سے زمین سرکتے نظر آگئی، لہٰذا گیلانی کو دوبارہ زبردستی اپنے گھر میں محصور کرلیا گیا اور ان کے پ±رامن عوامی جلسوں پر پابندی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ تحریک حریت کے اہتمام سے منعقد ہورہے عوامی جلسوں پر قدغن لگانے کا اگرچہ کوئی آئینی یا اخلاقی جواز موجود نہیں تھا۔ البتہ ریاست میں عملاً مارشل لاء نافذ ہے اور یہاں قانون کی عملداری کو بالفعل معطل رکھا گیا ہے۔

 ریاستی دہشت گردی کا ننگا ناچ جاری ہے اور لوگوں کے اظہار رائے کے حق پر پہرے بٹھا دئے گئے ہیں۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ گیلانی صاحب کو چونکہ مسلسل اپنے گھر میں نظربند رکھا گیا ہے، پیر سیف اور تحریک حریت کے دیگر ذمہ داروں کے گھروں پر چھاپے ڈالے جارہے ہیں اور پوسٹر آویزان کرنے والے نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، لہٰذا سرینگر کے مجوزہ جلسے کو فی الحال ملتوی کیا جائے گا اور گیلانی صاحب کی نظربندی ختم ہونے کی صورت میں سرینگر، ترال، بانڈی پورہ، بانہال، پلہالن اور اسلام آباد(اننت ناگ) کے مجوزہ عوامی جلسوں کے لیے نئے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی روئیے اور ریاستی دہشت گردی کے تمام پہلوﺅں پر کافی غوروخوض کے بعد تمام اضلاع کے ذمہ داروں اور حریت پسند عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اس غیر متوقع اور ناخوشگوار صورتحال پر نظم وضبط اور ڈسپلن کا مظاہرہ کریں اور وسیع تر تحریکی مفاد کو پیش نظر رکھ کر صبروتحمل سے کام لیں اور 8دسمبر اتوار کو سرینگر کی طرف مارچ کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں۔ میٹنگ میں مزید کہا گیا کہ اس ساری صورتحال میں آزادی پسند قیادت کو اخلاقی اور سیاسی سطح پر فتح حاصل ہوگئی ہے اور یہ حقیقت دو اور دو چار کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ کشمیری قوم جدوجہدِ آزادی کے حوالے سے کسی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کی شکار نہیں ہوگئی ہے، بلکہ لوگوں کا جذبہ آزادی اور جوش اور ولولہ اور زیادہ مضبوط اور توانا ہوگیا ہے-

مزید : عالمی منظر