سخت مانیٹرنگ اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی مستقل تنزلی کا سبب بنی

سخت مانیٹرنگ اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی مستقل تنزلی کا سبب بنی

  



کراچی(آن لائن) وزارتِ خزانہکی حکمت عملی اور متعلقہ اداروں کی سخت مانیٹرنگ اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی مستقل تنزلی کا سبب بن گئی ہے جس کے نتیجے میں جمعہ کو اوپن کرنسی مارکیٹ ڈالر کی قدرمزید30 پیسے گھٹ کر 108.40 روپے کی سطح پر آگئی جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 14 پیسے کی کمی سے108.39 روپے پرآگیا، اس طرح سے طویل وقفے کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر بہتری کی جانب گامزن ہوئی ہے تاہم اوپن مارکیٹ میں ہونے والی کمی کے باوجود شہر کی بعض ایکس چینج کمپنیوں میں خریداروں کو ڈالر109 روپے میں فروخت کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمدبوستان نے ’میڈیا کو بتایا کہ تجارتی بینکوں کی جانب سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی100 فیصد سپلائی بحال ہونے کے روپے پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ڈالر کی قدر میں گزشتہ 2 روز ہونے والی کمی کے سبب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی ڈیمانڈ60 فیصد گھٹ گئی ہے، ڈالر کے خریدار غائب جبکہ فروخت کنندگان کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وزارت خزانہ کی جانب سے اگر مذکورہ اقدامات ایک ماہ قبل ہی کرلیے جاتے تو بے لگام انداز میں امریکی ڈالر کی قدر نہ بڑھتی۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں گزشتہ 2 روز کے دوران ہونے والی کمی کے باوجود انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کی متعلقہ ریگولیٹرز کو سخت مانیٹرنگ جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی زرمبادلہ کے محدود ذخائر سے واقفیت کی بنا پر مفاد پرست عناصر فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو کسی بھی وقت ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کرکے پاکستانی روپے کی قدر کو سنگین نوعیت کی تنزلی سے دوچار کرسکتے ہیں۔

مزید : کامرس


loading...