”پٹواری بنام وزیراعلیٰ “

”پٹواری بنام وزیراعلیٰ “

  



جناب وزیراعلیٰ پنجاب شہبا زشریف ۔ سلاما الیکم۔ انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں، حکومت کا بہت ہی اہم کل پرزہ ،اک پٹواری ہوں ۔میں نے ٹیلی و ژن پر دیکھا کہ آپ لینڈ ریکارڈز مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم کے تحت صوبے بھر کی اٹھانوے تحصیلوں کا لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بعد،افتتاح کرتے ہوئے ،اپنے اس وعدے کو دہرا رہے تھے کہ اگلے برس کے ختم ہونے سے پہلے پہلے صوبے کی تمام ایک سو چھتیس تحصیلوں کا لینڈ ریکارڈ ہمارے بستوں سے نکالتے ہوئے کمپیوٹر پر چڑھا دیا جائے گا۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ وہاں بڑے بڑے صحافی بھی موجود تھے اور وہ آپ کوا س خطرناک کام سے روکنے کی بجائے ایل آر ایم آئی ایس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر عرفان الٰہی کی باتوں پر واہ واہ کر رہے تھے۔ نجانے ہمارے صحافیوں، اینکروں، کالم اور تجزیہ نگاروں کو کیا ہو گیا ہے جنہوں نے آپ کو یہ سمجھانے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آپ ڈھیر سارے لوگوں کے پیٹ پر لات ہی نہیں ماررہے بلکہ صرف پٹواریوں سمیت دیگربہت سارے شعبوں میں بے روزگاری پھیلانے کے ساتھ ساتھ صوبے بھر میں انتظامی معاملات چلانے کے لئے ایک بحران پیدا کررہے ہیں۔کیا آپ جیسے تجربہ کار وزیراعلیٰ کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہماری سوسائٹی میں پٹواری کی کیا تاریخی، سیاسی اورمعاشرتی اہمیت ہے؟

آہ ! آپ کو کسی نے بتایا ہی نہیں کہ اگر پٹواری ہی نہیں ہو گا تو یہ معاشرہ ویہلا ویہلا پھرے گا۔ پٹواری ہمارے لوگوں کو کسی تھانے دار سے بھی زیادہ مصروف رکھتا ہے اوراگر لوگوں کے پاس زمینوں کی فردیں نکلوانے اور انتقال چڑھوانے جیسی سالہا سال لمبی مصروفیات بھی نہ رہیں تو پھر وہ الٹے سیدھے مطالبات کر کے حکومت کے لئے ہی پریشانی کا باعث بنا کریں گے، یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ سوشل میڈیا جوائن کر لیں اور اپنے وقت کے ساتھ ساتھ بجلی بھی ضائع کریں۔حضور پٹواری اس نظام کی گاڑی کاوہ پہیہ ہے جو اتار دیا جائے گا تو نظام ہی چلنا بند ہو جائے گا، ہاں یہ درست ہے کہ اس کے بستے میں لٹھے پر درج پر انتقال واقعی بہت سارے لوگوں کے حقیقی انتقال کروا دیتے ہیں مگر آپ یہ بھی تو دیکھیںکہ ہماری کچہریوں میں رونق اور کاروباربھی تو پٹواریوں اورتحصیلداروں کی وجہ سے ہی ہے۔ اگر پٹواری اپنے روایتی حربوں کے ساتھ موجو د نہیں ہو گا توہزاروں وکیل بھی بے روزگار ہوجائیں گے اور ان ججوں کے پاس بھی کرنے والا کوئی کام نہیں رہے گا جو اپنی پوری مدت ملازمت ایک ہی دیوانی مقدمہ سننے میں گزار دیتے ہیں مگر کوئی فیصلہ نہیں دیتے۔میاں صاحب ، میں آپ کو ایک سچے اور پکے ہم درد کے طور پر بتا رہا ہوں کہ ویہلے وکیل کسی بھی حکومت کے لئے بہت خوف ناک ثابت ہو سکتے ہیں، اگر ان کے پاس کلائنٹ نہیںہوں گے تو پھر ان کے پاس سڑکوں پر نکل کر احتجاجی تحریکیں چلانے اور حکومتیں گرانے کے سوا کوئی مصروفیت نہیں ہو گی۔

میاں صاحب ! جب ہم پٹواری آپ کو جلسوں میں حبیب جالب کے شعر جھوم جھوم کے پڑھتے ہوئے دیکھا کرتے تھے تو ہمارا خیال تھا کہ آپ غریب دوست ہیں مگر آپ نے تو بالکل ہی اس کے الٹ فیصلے کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ جہاں جہاں مشینیں آتی جاتی ہیں وہاں وہاں لوگوں کے روزگار کے مواقعے کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ سڑک جو ایک سو مزدور کئی ہفتوں کی محنت کے بعد ہموار کرتے تھے، بلڈوزر آیا تو ایک دن میں ایک ڈرائیور کے ذریعے ہموار ہونے لگی اور مزدور بے روزگار ہو گئے۔ آپ نے تو علامہ اقبال کی فکر کی بھی نفی کی ہے، انہوں نے فرمایا تھا” ہے دل کے موت مشینوں کی حکومت، احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات“، اب آپ خود ذرا سوچئے کہ اگر آپ کسی پٹواری اوراس کے بستے کی جگہ کمپیوٹر نام کی مشین لے آئیں گے تو اقبال کے شعر اور فکر کی نفی ہی تو ہو گی۔ واقعی اس آلے نے تو مروت کو بھی کچل دیا ہے، مشینوں کو لاتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا جا رہا ہے کہ حکومتی ذمہ داریاں سرانجام دینے کے لئے ہر کمشنر اور ڈی سی او کاآزمودہ اور وفادار پٹواری کہاں جائے گا۔تجربے اور گر کی بات بتانا چاہ رہا ہوں کہ جس طرح ایک رینکر پُلس افسر کی جگہ پبلک سروس کمیشن سے بھرتی ہونے والے نازک نازک منڈے پُلس نہیں بن سکتے ، اسی طرح پٹواری اور تحصیلدار کی جگہ پر ایم فل کرکے آنے والی لڑکی بھی فیل پٹواری کی قومی ذمہ داریاں سرانجام نہیں دے پائے گی۔ میاں صاحب، اپنے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سے پوچھیں کہ پٹواری کی جگہ کوئی ممی ڈیڈی کلاس نہیںلے سکتی۔ ہم ہی ہوتے ہیں جو وڈھے وڈھے افسروں کے ہمارے اضلاع میںآنے پر ہر قسم کی عیاشیوںاور بدمعاشیوں کا بھی بندوبست کرتے ہیں، ہم ہی ہوتے ہیں جو جلسوں ، جلوسوں اور میٹنگوں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ اگر ہم نہ ہوں تو افسر شاہی بے دست و پا ہو کے رہ جائے اور آپ کے سرکاری خزانے پر خرچ اتنا بڑھ جائے کہ انتظامی معاملات کے لئے آپ کو بجٹ میں کم از کم اربوں روپوں کا اضافہ کرنا پڑے۔ حال ہی میں دیکھئے کہ یوم عاشور پرہونے والے سانحے کے تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ راولپندی کے آر پی او جس ہیلی کاپٹر پر گوجر خان کی سیر کر رہے تھے،اس ہیلی کاپٹر کے لئے ایک لاکھ تیس ہزار روپے کے پٹرول کا انتظام پٹواریوں نے ہی کیا تھا ۔ گوجر خان میں تو ہیلی کاپٹر کا پٹرول نہیں ملتا، یہ دور کے شہروں سے خصوصی طور پر منگوایا گیا، اسی سے آپ ہماری اہمیت اور کارکردگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

میاں صاحب ! آٹھ ، دس ہزار روپلی تنخواہ میں ، اپنے خرچے پر اپنا ہی نہیں سرکار کے اور بھی بہت سارے دفتر اور معاملات چلاتے ہوئے ہم حکومت سے کیا مانگ رہے تھے کہ آپ نے ہم پر کلہاڑا چلا دیا ۔ ہم نے تو ہمیشہ سیاستدانوں کی برادری کو اکاموڈیٹ ہی کیا ہے ، اب زمینوں پر قبضوں کے لئے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں ہیرا پھیری کتنی مشکل ہو گی اور بہت سارے تو ایسے ہوں گے جو کمائی کا یہ دروازہ بند ہونے پر الیکشن لڑنے کا مہنگا کھیل ، کھیلنا ہی بند کر دیںگے۔ دوسری طرف میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ پٹوار خانے کی سترہ سال کی نوکری سے میں نے جو اربوں روپے کمائے ہیں اب ان سے کاروبار ہی شروع کر دوں کیونکہ اب اس کام میں دن رات محنت کا کوئی فائدہ نہیں رہ گیا۔ جو فرد لوگ ہم سے مہینہ مہینہ خواری کے بعد ہنس کر لاکھ ، لاکھ روپے میں لے جاتے تھے اب وہ آپ پچاس ، پچاس روپوںمیں تیس منٹو ں دیں گے، وہ انتقال جو چار ، چار سال بھی میچور نہیں ہوتے تھے اب ایک گھنٹے میں ہوجایا کرے گا۔ میرے امریکہ پلٹ بیٹے کے خیال میں تو اب آپ کو روکنے اورسمجھانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں کہ تئیس اضلاع منڈی بہاو¿الدین، جہلم ، نارووال، سیالکوٹ، چکوال، اٹک، جھنگ، ننکانہ صاحب، گوجرانوالہ ، ملتان ، لیہ، اوکاڑہ، بہاولپور، شیخوپورہ ، رحیم یار خان، قصور، راولپنڈی، گجرات ، سرگودھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور مظفر گڑھ میں تو آپ یہ تباہ کن کام سو فیصد مکمل کر چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہاں تین کروڑ صفحات کی سکیننگ ہو چکی ہو، زمینوں کے تین کروڑ پچاسی لاکھ مالکان کا ڈیٹا اپ لوڈ ہو چکا ہو تو وہاں اب باقی بارہ تیرہ اضلاع میں کام رکنے والاتو نہیں،ہم توبددعائیں ہی کر سکتے ہیں کہ عرفان الٰہی کے تمام کمپیوٹروں میں کیڑے پڑیں ، مجھے امید ہے کہ بہت جلد ان کی طرف سے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والا ممی ڈیڈی عملہ ہمارے گھروں پر حاضریاں دے گا اور ہم سے اس بہت ہی ٹیکنیکل کام کے گر سیکھے گا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ پٹواری کلچر کے اس قتل عام کے باوجود وہ دن دور نہیں جب ہمارا دور واپس آئے گا کیونکہ کوئی کمپیوٹر اتنی مہارت سے وہ گوناگوں خدمات سرانجام نہیں دے سکتا جتنی مہارت اور ذمہ داری سے ایک پٹواری دیاکرتا تھا۔

میاں صاحب! بلاشبہ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے اک نئے دور کا آغاز ہو گا، عوام کو بہت ریلیف ملے گا،زمینوںکے جھگڑوں، فراڈوں اور عدالتوں میں مقدمات کابوجھ ختم ہوجاے گامگراس کے ساتھ ہی سیاستدانوںمیں سے کچھ اور بیوروکریٹوں میں سے بہت سارے فارغ ہو جائیں گے۔ حکومت کا پورا انتظامی ڈھانچہ بیٹھ جائے گا بلکہ عین ممکن ہے کہ آپ کے کمشنر اور ڈی سی اوز تو ہڑتال پر چلے جائیں لہذا میرا مشورہ تو یہی ہے کہ اس کام کو فوری طور پر روک دیں ورنہ حالات کے خراب ہونے کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف آپ پر ہو گی ۔ والسلام ۔ آ پ کا خیرخواہ ایک پٹواری ۔

مزید : کالم


loading...