چاروں صوبوں سے لاپتہ افراد اورزیرالتواءمقدمات کی تفصیلات طلب، بلوچ روٹی کیلئے ہاتھ نہیں پھیلائے گا، قومی مفاد کے نام پر غیرقانونی کام نہیں ہوسکتا: سپریم کورٹ

چاروں صوبوں سے لاپتہ افراد اورزیرالتواءمقدمات کی تفصیلات طلب، بلوچ روٹی ...

جبری گمشدگی سنگین جرم ہے ، کیسز کسی اور ملک کے ہوتے تو وزیراعظم کو نیند نہ آتی ، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہوئی ، جس کو ایف سی کی کمان ملی ہے ، اُسے پیش کریں : عدالت عظمیٰ

چاروں صوبوں سے لاپتہ افراد اورزیرالتواءمقدمات کی تفصیلات طلب، بلوچ روٹی کیلئے ہاتھ نہیں پھیلائے گا، قومی مفاد کے نام پر غیرقانونی کام نہیں ہوسکتا: سپریم کورٹ

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں سے لاپتہ افراداوراُن کے مقدمات سے متعلق معلومات طلب کرلی ہیں اورحکم نامے میں کہاہے کہ حکومت جتنی مرضی کوشش کرلے ، بلوچ روٹی کے لیے ہاتھ نہیں پھیلائے گا، یہ ایک سنگین جرم ہے ، فیصلہ دینے سے ہچکچارہے تھے ، وزیردفاع نے دس دسمبرتک افراد کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن کسی نے اُن کی اشک شوئی تک نہیں کی ۔ عدالت نے ایک بار پھر آئی جی ایف سی بلوچستان کو طلب کرلیاہے اور اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ ایف سی کے موجودہ کمانڈر کی حاضری یقینی بنائیں ،عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ اداروں کا موقف بھی غلط ہے ،مالاکنڈ حراستی مرکز کے سپریٹنڈنٹ نے ثابت کردیاکہ اب کوئی گنجائش نہیں ، افرادکو جبری گمشدہ کرنے کا کوئی قانون موجودنہیں ، قومی مفاد کے نام پر کوئی غیرقانونی کام نہیں ہوسکتا،یہ ایک سنگین جرم ہے ،حکومت بتائے کہ اُس کے راستے میں کیا چیز رکاوٹ ہے ، گریز کرناچاہتے تھے لیکن ہمیں مجبور کیاگیا، مقدمے کوجلد نمٹادیں گے ، پھر حکومت جانے اوراُس کا کام ۔عدالت عظمیٰ نے قراردیاہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا،عدالتی ریکارڈ کے مطابق 700سے زائد افراد لاپتہ ہیں، وزیراعظم نواز شریف چاہتے تولاپتہ افراد کا معاملہ چوبیس گھنٹوں میں حل ہوسکتاتھاجبکہ وزارت دفاع نے اعتراف کیاکہ 26نومبرکے بعد لاپتہ افراد کے معاملے پر کام شروع کیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل بینچ لاپتہ افراد کیس کی سماعت کررہاہے ۔ دوران سماعت وزیردفاع اور اٹارنی جنرل پیش ہوئے تاہم کسی بھی لاپتہ شخص کو عدالت میں پیش نہیں کیاجاسکاجس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ خواجہ صاحب ،ا ٓپ سے توقع کررہے تھے کہ آپ عدالتی حکم پر عمل کریں گے ، واضح طورپر چودہ افراد کو پیش کرنے کاحکم دیاتھاجن میں سے صرف سات کی شناخت کرائی گئی ، لاپتہ افراد کا معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں ہے ،انسانی حقوق کے معاملے پر نوٹس لیناچاہتے تھا،عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا۔آپ نے چودہ افرادلانے کاوعدہ کیاتھا، وہ بھی پورا نہیں کیا، عدالت میں غلط کہانیاں پیش کرنے کی کیسے جرات کی گئی؟وزیردفاع خواجہ آصف کاکہناتھاکہ عدالتی فیصلوں پر پہلے بھی عمل کرتے رہے ، اب بھی من وعن عمل کریں گے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ من وعن نہیں لیت ولعل کا لفظ استعمال ہوناچاہیے ،ایسے فیصلے بتاسکتاہوں جہاں لیت ولعل سے کام لیاجارہاہے،نیت اعمال سے ظاہرہوتی ہے،لاپتہ افراد کامعاملہ انسانیت کیخلاف جرم ہے ۔خواجہ آصف نے کہاکہ کل مزید دوافراد کو لے کر آئیں گے،وفات پاجانیوالے دو افراد کے ورثاءکو بھی بند کمرے میں پیش کرسکتے ہیں لیکن آج امریکی وزیردفاع سے ملاقات ہے ، جانے کی اجازت دی جائے اور ملاقات کے بعد وہ واپس آجائیںگے جس پر سپریم کورٹ نے اُنہیں جانے کی اجازت دیتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم آپ کے پیچھے نہیں بھاگیں گے ، آپ نے کیامذاق بنایاہواہے ، جہاں جاناہے ، جائیں، فیصلہ دے دیں گے ، پھر آپ جانے اور آپ کا کام ۔سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں سے لاپتہ افراد اور اس حوالے سے زیرالتواءمقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں اور موجودہ معلومات اٹارنی جنرل منیر ا ے ملک کو فراہم کردیں ۔ عدالت کاکہناتھاکہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ جلد اپنے انجام کو پہنچے ، مقدمے میں تین مرتبہ متضاد موقف اپنایاگیا، اداروں کا موقف بھی غلط ہے ،مالاکنڈ حراستی مرکز کے سپریٹنڈنٹ نے ثابت کردیاکہ اب کوئی گنجائش نہیں ، قومی مفاد کے نام پر کوئی غیرقانونی کام نہیں ہوسکتا، معاملہ حساس ہے لیکن اسے اہمیت نہیں دی گئی اورآج مقدمات کو نمٹادیں گے۔قائم مقام سیکریٹری دفاع نے بتایاکہ باقی افراد وزارت دفاع کے پاس نہیں تھے ،مزید معلومات کے لیے کچھ وقت دے دیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت صرف وقت لے رہی ہے ، چودہ افرادکو چیمبراور باقی کو آج پیش کرناتھالیکن کچھ نہ ہوا،یہ کیس بچوں کا کھیل نہیں کہ باربار وقت دیں ۔سیکریٹری دفاع عارف نذیر نے اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ”سچ پوچھیں تو چھبیس نومبر کے بعد ہی کام کیاہے ، اس سے پہلے کچھ نہیں ہوا، لاپتہ افراد سے متعلق مختلف درجہ بندیاں کی گئی ہیں ، یہ لوگ مختلف علاقوں میں چلے گئے تھے “۔اُنہوں نے بتایاجو افراد چیمبر میں پیش کیے گئے تھے ، اُنہیں گھروں سے لائے تھے جبکہ مزید دوافراد کو کل پیش کردیں گے ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیاکہ جن کو پیش نہیں کیاگیا، اُن کے بارے میں کیاکہتے ہیں ؟سیکریٹری دفاع نے بتایاکہ پانچ افراد کو شبعون اور راجگون حراستی مرکز میں رکھاگیا، دوکا پتہ چل گیا، اُنہیں نہ لانے کے بارے میں ان کیمرہ بتاسکتاہوں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ یہ بتادیں کہ اُنہیں کس قانون کے تحت اُٹھایاگیا؟ جبری گمشدگی کے خلاف عالمی معاہدے اورڈکلیئریشن موجود ہیں ، افرادکو جبری گمشدہ کرنے کا کوئی قانون موجودنہیں ۔اٹارنی جنرل نے بتایاکہ زیراعظم نے وزارت دفاع کو عدالت سے تعاون کا حکم دیاتھا، اٹارنی ،پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں قانون سازی کی جائے گی جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ پارلیمنٹ کو آئے چھ ماہ ہوگئے ہیں ، قانون سازی میں اتنا وقت نہیں لگتا،یاسین شاہ کا بھائی روز آتاہے ، سچ پوچھیں تو مجھے توشر م آتی ہے ، محبت شاہ کو بتادیاجاتاکہ اُس کا بھائی کہاں ہے تو عدالت مداخلت نہ کرتی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ روز کہتے ہیں کہ آئین پر عمل کرنا حکومت کا کام ہے ، ایک ایک بندے کو گھرلائیں ،لاپتہ افراد پاکستانی شہری ہیں ۔عدالت نے حکومت بلوچستان کے وکیل شاہد حامد سے استفسار کیاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کوئی پیش رفت ہوئی جس کا جواب نفی میں ملا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ ایف سی یا کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی ، روز کہتے ہیں کہ آئین پر عمل درآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو صورتحال کا علم ہے لیکنلاپتہ افراد کامعاملہ پھر بھی حل نہیں ہورہا۔فاضل عدالت آئین کے تحت پاکستانیوں کے حقوق اُن تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ، معلوم نہیں کہ توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے سے معاملہ حل ہوگایانہیں، وزیردفاع نے کہاتھاکہ دس دسمبرتک معاملہ حل ہوگا۔بتایاجائے کہ حکومت کے راستے میں کیا چیز رکاوٹ ہے ؟ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق سات سوپندرہ افراد لاپتہ ہیں، عدالت گریز کرناچاہ رہی تھی لیکن ہمیں مجبورکیاگیا،بلوچستان کے بچے اپنے پیاروں کی تلاش میں پید ل کراچی آئے۔آئی جی ایف سی کے وکیل عرفا ن قادر عدالت میں پیش ہوئے اور شاہد اعجاز کا بیماری کی وجہ سے رخصت کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے عرفان قادر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہم آئی جی کی موجودگی کی بات کررہے ہیں ، کیا آپ لڑنے آئے ہیں ، جس کو کمان ملی ہے ، اُس کو بلائیں ۔ عرفان قادر نے کہاکہ آپ تحریری حکم جاری کریں تو ہم جائزہ لیں گے جس پر عدالت کاکہناتھاکہ تحریری حکم ضرور جاری کریں گے ۔سپریم کورٹ کاکہناتھاکہ اِدھر اُدھر کی باتیں کی جارہی ہیں ، یہ کیسز کسی اورملک کے ہوتے تو وزیراعظم کو نیند نہ آتی ، یہ تو اسلامی ملک ہے ، خلفائے راشدین کی مثالیں موجود ہیں ، چیف ایگزیکٹوسمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کے معاملے پر نوٹس نہیں لے رہا۔چیف سیکریٹری بلوچستان نے موقف اپنایاکہ بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے وہ مصروف رہے ، بلدیاتی انتخابات کا کامیاب انعقادہوگیاہے اور اب لاپتہ افراد کی بازیابی اُن کی پہلی ترجیح ہوگی ۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی احسان نہیں ، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ،عدالت کو بتایاجائے کہ فرنٹیئرکانسٹیبلری کا آئی جی کون ہے ؟ جو بھی ایف سی کی کمانڈ کررہاہے ، منگل کو عدالت میں پیش ہوں ، اٹارنی جنرل آئی جی ایف سی کی حاضری یقینی بنائیں ،دیگر صوبے بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں ۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں