انسانوں نےتمباکو نوشی کب اور کیسے شروع کی

انسانوں نےتمباکو نوشی کب اور کیسے شروع کی
انسانوں نےتمباکو نوشی کب اور کیسے شروع کی

  



لاہور (نیوز ڈیسک) آج دنیا کا کوئی ایسا ملک اور کسی ملک کی کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تمباکو نوشی کی لت عام نہ پائی جاتی ہو۔ ساری دنیا کو لپیٹ میں لینے والی اس مصیبت کا آغاز کہاں سے ہوا، یہ ا یک دلچسپ کہانی ہے۔ مصنف جارڈن گڈمین اپنی کتاب ”ٹوبیکو ان ہسٹری“ میں لکھتے ہیں کہ تمباکو کے ابتدائی شواہد براعظم امریکہ کے ممالک میکسیکو اور برازیل میں ملتے ہیں جہاں اسے اہم تہواروں پر کچھ اوراجزاءکے ساتھ ملا کر موج مستی کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔

وہ وقت جس کا انتظار تھاآ گیا ،چین نے امریکا سے حکمرانی چھین لی

ان وقتوں میں اسے بکثرت استعمال کرنے کا رواج نہ تھا۔ جب کرسٹوفر کولمبس ان  علاقوں میں پہنچا تو اس نے پہلی دفعہ یہ عجیب و غریب چیز دیکھی۔ وہ اپنے سیاحتی سفر کے دوران 35 سال بعد تمباکو کے خشک پتے لے کر سپین پہنچا۔ اس کے بعد سپین نے براعظم امریکہ سے بڑی مقدار میں تمباکو کی درآمد شروع کی اور آہستہ آہستہ یہ پورے یورپ میں پھیل گیا۔

پیسے جمع کرنے کے لیے یمنی باغیوں کا سعودی عرب میں انوکھا ترین منصوبہ

بادشاہ جان رالف کی قدیم بھارتی شہزادی یوکاہونتاس کے ساتھ شادی کے بعد تمباکو ایشیائی ممالک میں بھی پہنچ گیا۔ سن 1820ءتک تمباکو کو موجود سگریٹ کی شکل میں نہیں پیا جاتا تھا بلکہ اسے چبایا جاتا تھا یا اسے جلا کر اس کا دھواں سونگھا جاتا تھا۔ امریکی ریاست ورجینیا میں تمباکو کو کاغذ میں لپیٹ کر سگریٹ کی شکل دی گئی اور ورجینیا ٹوبیکو کا شمار آج بھی تمباکو کی صنعت کے نمایاں ترین ناموں میں ہوتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...