تمباکو نوشی ترک نہ کرنے کی بڑی وجہ سائنس نے بتا دی

تمباکو نوشی ترک نہ کرنے کی بڑی وجہ سائنس نے بتا دی
تمباکو نوشی ترک نہ کرنے کی بڑی وجہ سائنس نے بتا دی

  


سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک)سگریٹ نوشی چھوڑنے کا ارادہ تو بہت لوگ کرتے ہیں اور اس کے لیے سخت کوشش بھی کرتے ہیں لیکن ان میں اکثر کچھ دن بعد دوبارہ فضامیں دھوئیں کے مرغولے چھوڑتے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔ سائنسدانوں نے پہلی دفعہ اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہاکون سگریٹ چھوڑ سکتاہے اورکس کے لیے سگریٹ نوشی ترک کرنے کے عہد پر قائم رہنا بہت مشکل ہے۔

شادی کی تقریب میں ’بھابھی‘ کے بوسے نے ’دیور‘ کو مشکل میں ڈال دیا

پنسلوانیا یونیورسٹی کے ماہرین نے 18سے 65سال عمر کے سگریٹ نوشوں پر ایک تحقیق کی ۔یہ افراد روزانہ 10یا اس سے زیادہ سگریٹ پینے کے عادی تھے ۔انہیں تجربے کے دوران سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑنے کا عزم کرنا تھا۔آخری سگریٹ پینے کے بعد ان کے دماغ ٹیسٹ کئے گئے اور پھر ایک ہفتہ بعد دوبارہ ٹیسٹ کئے گئے ۔نتائج سے معلو م ہو ا کہ جو لوگ ایک ہفتے تک سگریٹ سے پرہیزکرنے میں کامیاب ہو گئے ان میں سے اکثر اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے جبکہ جنہوں نے نہیں چھوڑنا تھی وہ ایک ہفتے کے دوران ہی دو بارہ پینا شروع ہو گئے ۔

دوران پرواز جہاز کا ایندھن ختم لیکن پائلٹوں کی دانش مندی نے درجنوں جانیں بچا لیں

دماغوں کے ٹیسٹ سے معلوم ہو اکہ سگریٹ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کا فیصلہ دماغ کے حصے ورکنگ میموری میں ہوتاہے ۔یہ وہ حصہ ہے جو توجہ برقرار رکھنے اور فیصلہ سازی اورثابت قدمی جیسے رویے کے لیے استعمال ہوتاہے جو لوگ دوبارہ سگریٹ نوشی کی طرف مائل ہوئے ان کے دماغ کے اس حصہ میں سگریٹ چھوڑنے کے بعد سرگرمیاں سست ہوتی پائی گئیں جبکہ جن کی ورکنگ میموری کو سیگریٹ چھوڑنے سے کوئی فرق نہ پڑا وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے ۔ماہرین کا کہناہے کہ اس تحقیق کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ سگریٹ چھوڑنے میں کامیابی یا ناکامی کا دارومدار دماغی ساخت پر ہے ۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...