آشیانہ ہاؤسنگ سکیم ۔۔۔ ہر سر پہ چھت

آشیانہ ہاؤسنگ سکیم ۔۔۔ ہر سر پہ چھت
آشیانہ ہاؤسنگ سکیم ۔۔۔ ہر سر پہ چھت

  


اپنا اور اپنے بال بچوں کا سر چھپانے کے لئے اپنا گھر اور اپنی چھت ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہی نہیں اس کا انسانی حق بھی ہے ۔ وراثتی مکانوں میں جگہ کی قلت کے باعث بہت سے افراد اور ان کی اولادوں کا اکٹھے گزارا کرنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت مشکل تر ہو تا جا تا ہے ، اسی طرح شدید مہنگائی کے اس دور میں جب قلیل آمدنی والے لوگوں کے لئے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنا دشوار ہے ، ہر ماہ مکان کا کرایہ ادا کرنا اور بروقت ادائیگی نہ کر نے پر مکان زبردستی خالی کروانے کا منظر شدید مالی و نفسیاتی الجھنوں کا باعث بنتا ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ خاندان بھی پھیلتے اور پھلتے پھولتے ہیں ‘ان کی رہائشی ضروریات پورا کرنے کا چیلنج درپیش ہوتا ہے ۔ اس معاشی دباؤ میں کسی بھی شہری کا اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنا ناممکن ہے چنانچہ بے شمار افراد اپنے گھر اور اپنی چھت کا خواب آنکھوں میں بسائے دنیاسے ہی رخصت ہو جاتے ہیں ۔

حکومت پنجاب نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے نام سے کم آمدنی والے افراد کو ان کا اپنا گھر فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور صوبے بھر میں ہزاروں سستے فلیٹ تعمیر کر کے 50ہزار روپے سے کم ماہانہ مشترکہ آمدنی والے بے گھر خاندانوں کو آسان ترین شرائط پر شفاف طریقے سے یہ فلیٹ الاٹ کرنے کااعلان کیا ہے ۔یہ ملکی تاریخ کا اہم ترین فلاحی منصوبہ ہے جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کواپنی چھت نصیب ہو رہی ہے ۔ اس کا آغاز لاہور سے کیا جا رہا ہے اوراس مقصد کے لئے بہترین قطعہ اراضی کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ لاہور ایئرپورٹ ‘ڈی ایچ اے اور رنگ روڈ کی قریب ترین لوکیشنبرکی روڈ سے 2.5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہزاروں فلیٹس کی تعمیر کے لئے31سوکنال اراضی مختص کی گئی ہے ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور شہر میں میگا پراجیکٹس کی تیز رفتاری سے شفاف طور پر تکمیل کے ریکارڈ کو پیش نظر رکھتے ہوئے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احد خان چیمہ کی صلاحیتوں پر ایک بار پھر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہا ر کیا ہے اور انہیں آشیانہ اقبال کے نام سے لاہور میں ہزاروں فلیٹوں کی تعمیر کا ٹاسک سونپ دیا ہے ۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کی طرف سے پنجاب پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ایکٹ 2014ء کے تحتBuild-Transfer(BT)کی بنیاد پر کم آمدنی والے افراد کے لئے گراؤنڈ پلس تھری عمارتوں میں 500‘600اور700مربع فٹ کے سستے اور کم قیمت فلیٹ تعمیر کروانے کے لئے خواہشمند پارٹیوں سے یکم جنوری 2015ء تک تجاویز طلب کر لی ہیں ۔ پرائیویٹ پار ٹنرمختص اراضی کے ایک حصے میں سستے اور کم قیمت رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے منصوبے کا ڈیزائن بنانے‘ ان کے لئے سرمایہ مہیا کرنے اور انہیں تعمیر کروانے جبکہ دوسرے حصے میں پلاٹ بنانے کے لئے منصوبہ بندی ‘ سرمائے کی فراہمی اور پلاٹوں کی تیاری کا ذمہ دار ہو گا۔پرائیوٹ پارٹنر کو اس کا سرمایہ واپس کرنے کے لئے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی اسے سکیم کے اضافی حصہ میں بنائے جانے والے کمرشل ‘ رہائشی اور مفاد عامہ کی عمارتوں کے لئے مختص پلاٹوں کے تمام ملکیتی حقوق منتقل کر دے گی

آشیانہ اقبال منصوبے پر چار منزلہ بلاکوں میں 500‘600اور 700مربع فٹ کے ہزاروں فلیٹ تعمیر کئے جائیں گے جو ایک اور دو بیڈ رومز پر مشتمل ہوں گے ۔ایک بیڈ روم کا فلیٹ5سومربع فٹ پر محیط ہوگا۔ا سکی کل قیمت 11لاکھ 99ہزار روپے ‘ڈاؤن پے منٹ2لاکھ39ہزار 8سو روپے‘ 10 سال تک ماہانہ اقساط7ہزار 9سو 93روپے جبکہ درخواست جمع کروانے کی فیس 8سو روپے ہے ۔دوبیڈ روم کا فلیٹ6سو مر بع فٹ پر تعمیر کیا جائے گا ۔اس کی کل قیمت 13لاکھ 99ہزار روپے ‘ڈاؤن پے منٹ 2لاکھ79ہزار 8سو روپے ‘10 سال تک ماہانہ اقساط9ہزار 3سو27روپے جبکہ درخواست جمع کروانے کی فیس 9 سوروپے ہے ۔دوبیڈ روم کا فلیٹ 7سو مربع فٹ پر بھی تعمیر کیا جائے گا ‘اس کی کل قیمت15لاکھ99ہزار روپے ‘ڈاؤن پے منٹ 3لاکھ 19ہزار 8سو روپے ‘10 سال تک ماہا نہ اقساط10ہزار 6سو 60روپے جبکہ درخواست جمع کروانے کی فیس ایک ہزار روپے ہے ۔

درخواست میں درج کوائف کی تصدیق کے بعد 30دن کے اندر 20 فیصد ڈاؤن پے منٹ کی ادائیگی لازمی ہو گی ۔ کم آمدنی والا کوئی بھی شخص مذکورہ رقم جمع کرواکر فلیٹ کی بکنگ کروا سکے گا ۔ ان فلیٹوں کی قیمت دس سال کی آسان اور بلاسود اقساط میں وصول کی جائے گی کیونکہ سود کی رقم حکومت پنجاب ادا کرے گی ۔ ماہانہ قسط کسی بھی مکان کے ماہانہ کرائے سے بھی کم ہے ۔چنانچہ ہر کرایہ دار بھی اس سکیم کے تحت اپنے مکان کا مالک بن سکتا ہے ۔ اس طرح مکان لوگوں کے تعمیر ہوں گے مگر آدھا خرچ حکومت پنجاب برداشت کرے گی تا ہم رجسٹری مکمل ادائیگی کے بعد دی جائے گی۔ان فلیٹو ں کا قبضہ ڈیڑھ سے چار سال کے اندر کسی بھی وقت دیا جائے گا ۔

درخواست گزار کے لئے صوبہ پنجاب کے شناختی کار ڈ کا حامل ہونا ضروری ہے‘ اس کی عمر 55سال سے زائد نہیں ہونی چاہئے ۔وہ کسی ذاتی مکان یا پلاٹ کی ملکیت نہ رکھتا ہو ۔ا سکے علاوہ حکومت پنجاب کی طر ف سے اسے پہلے سے کوئی پلاٹ یا مکان الاٹ نہ کیا گیا ہو۔ایک درخواست گزار صرف ایک درخواست جمع کر وا سکتاہے۔ تاہم زیادہ درخواستوں کی صورت میں الاٹمنٹ بذریعہ قر عہ اندازی کی جائے گی۔اپارٹمنٹ کے فلور ‘بلاک اور لوکیشن کی الاٹمنٹ بذریعہ قر عہ اندازی کی جائے گی اور فیصلہ حتمی ہو گا۔الاٹی ا پارٹمنٹ کو پانچ سال کے بعد گروی ‘ فروخت یا کرایہ پر دے سکتا ہے ‘ بشر ط کہ بقایا رقم کی مکمل ادائیگی ہو چکی ہو ۔ خریدار کو پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے وقتاََ فوقتاََ جاری کر دہ قوانین کا پابند رہنا ہو گا۔شرائط وضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں الاٹمنٹ کینسل کر دی جائے گی۔

حکومت پنجاب سکیم کا بیرونی انفراسٹراکچر مثلا برکی روڈ سے 150فٹ چوڑی مین روڈ اور چرڑ ڈرین تک ٹرنک سیور تعمیر کرے گی ۔یہاں بجلی ‘پانی ‘سیوریج سڑکیں ‘سکول ،پارکس ، کمرشل ایریا، کمیونٹی سنٹر اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولیات مہیا کر کے فلیٹس میں رہائش کو سستی اور پر آسائش بنا دیا جائے گا ۔ درخواست فارم بینک آف پنجاب کی تمام برانچوں پر دستیاب ہیں۔درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 22دسمبر2014ء ہے ۔ درخواستیں جمع کروانے کے خواہشمند جلد ی کریں کہیں دیر نہ ہوجائے۔

مزید : کالم


loading...