نئے چیف الیکشن کمشنر اور عوامی توقعات

نئے چیف الیکشن کمشنر اور عوامی توقعات
نئے چیف الیکشن کمشنر اور عوامی توقعات

  



نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ قابل اطمینان بات یہ ہے کہ عمومی طور پر ان کی تقرری کو سراہا گیا ہے۔ اگر کسی نے اعتراض بھی کیا ہے تو ان کی شخصیت پر نہیں بلکہ طریقہ کار پر کیا ہے کہ اُن سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اب یہ اعتراض البتہ اُٹھ رہا ہے کہ چار صوبائی الیکشن کمشنروں کے ہوتے کیا صرف چیف الیکشن کمشنر کوئی بہت بڑی تبدیلی لا سکیں گے؟ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان تو واضح کر چکے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے تمام ارکان بشمول چیف الیکشن کمشنر چونکہ برابر اہمیت رکھتے ہیں، اس لئے چار صوبائی الیکشن کمشنروں کی موجودگی میں انتخابات کے عمل کو شفاف نہیں بنایا جا سکتا۔ اُنہوں نے چاروں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ مگر لگتا نہیں کہ وہ مستعفی ہوں گے کیونکہ حکومت بھی نہیں چاہتی کہ وہ استعفے دیں۔ گویا چیف الیکشن کمشنر کی غیر متنازعہ تقرری کے باوجود ایک تنازعہ موجود رہے گا جو کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں۔ ایک آئیڈیل صورت تو یہ ہے کہ چاروں صوبائی الیکشن کمشنر ملک و قوم کے مفاد میں مستعفی ہو جائیں، کیونکہ 2013ء کے انتخابات کی شفافیت پر بہت زیادہ سوالات اُٹھائے گئے ہیں مگر ایسا ہو گا نہیں کیونکہ پاکستان میں کوئی بھی عہدہ نہیں چھوڑتا تا وقتیکہ اُسے مجبور نہ کر دیا جائے۔

پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کو انتخابات نے جنم دیا ہے۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ الیکشن کمشن نے نہ صرف انتخابات کے انعقاد میں خامیاں چھوڑیں بلکہ جب انتخابی عذر داریوں کی سماعت کا مرحلہ آیا تو انصاف کو بروقت یقینی بنانے کی کوشش نہیں کی۔ جس کے باعث ٹربیونلز میں مقدمات لٹکتے چلے گئے اور آج تحریک انصاف کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کی زیر نگرانی پورے انتخابی عمل کی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ اگر سخت ایکشن نہ لیتی تو شاید چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ مزید کئی سال تک لٹکا رہتا۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر وہ فیصلے نہیں کر سکتا جو ایک مستقل چیف الیکشن کمشنر کرتا ہے۔ سو اس لئے معاملات گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتے چلے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے اس عزم کا اظہار کیاہے کہ وہ الیکشن کمیشن پر عوام کا اعتماد بحال کرانے کی کوشش کریں گے۔ ظاہر ہے یہ کام عملی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔ عمران خان کے کچھ مطالبات حکومت سے ہیں تو کچھ الیکشن کمیشن سے ہیں۔ وہ فارم16 کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کے ذریعے ووٹوں کے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں صرف اسی فارم کے آڈٹ سے انتخابات کی صحت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسے منظرِ عام پر نہیں لایا جا رہا۔ مَیں اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ہمارا موجودہ انتخابی نظام بالکل ہی ناکارہ ہے۔ اگر اس کے ضابطوں پر مکمل عمل کیا جائے اور ریکارڈ محفوظ کرنے کے لئے تمام کارروائی مکمل کر دی جائے تو شاید دھاندلی کی اتنی شکایات سامنے نہ آئیں۔ اب تک جو حلقے کھلے ہیں اور انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ ہوا ہے۔ اُن سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انتخابی عملے اور ریٹرننگ افسروں نے اپنے فرائض دیانتداری سے ادا نہیں کئے۔ اب تک کتنے حلقوں کے نتائج بدل چکے ہیں اور کئی جیتنے والے دوبارہ گنتی میں ہار گئے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں صرف یہی کافی نہیں کہ الیکشن کمیشن ہارنے اور جیتنے والوں کا نوٹی فیکشن جاری کرتا رہے بلکہ اُسے ایسے عملے کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرنی چاہئے، جس نے اپنے فرائض سے غفلت برتی اور انتخابی قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال دیا۔

میں الیکشن کے لئے نئے قوانین اور اصلاحات کی بات نہیں کر رہا۔ میں تو چیف الیکشن کمشنر صاحب کو صرف یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ آئندہ ہونے والے ہر ضمنی انتخابات اور عام انتخابات میں اُن قوانین اور ضابطوں کے نفاذ کو پوری طرح یقینی بنائیں جو الیکشن کمیشن کے قوانین کا حصہ ہیں۔ اصل خرابی ہی یہ ہے کہ قوانین پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ 62-63 کی شقوں سے لے کر انتخابی اخراجات اور پولنگ کے دن نافذ ہونے والے ضوابط پر اگر پوری تندہی سے عمل کرایا جائے تو میں سمجھتا ہوں دھاندلی کے امکانات بڑی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ جعلی ووٹ ہمیشہ جعلی ہی رہتا ہے۔ خالی پرچیوں پر مہریں لگا کر بیلٹ بکسوں میں ڈالنے سے کوئی نہیں جیت سکتا، کیونکہ اس کے لئے ووٹر کا انگوٹھا چاہئے، شناختی کارڈ نمبر کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر انتخابی حلقے میں اُس کا نام بھی ہونا چاہئے۔ اگر کوئی پریزائیڈنگ افسر یاریٹرننگ افسران قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کراتا تو اس کا مطلب ہے سب کچھ اُس کی منشاء پر اور منظوری سے ہوا ہے۔ اس لئے اُسے بھی قانون کے کٹہرے میں لانا چاہئے۔ مَیں خود کئی بار انتخابات میں بطور پریذائیڈنگ افسر ڈیوٹی دے چکا ہوں۔ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ پولنگ اسٹیشن کی حد تک دھاندلی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ جب سے انتخابی فہرستوں پر تصویر چھاپنے کا عمل شروع ہوا ہے، جعلی ووٹ عملے کی ملی بھگت کے بغیر ڈالنا ناممکن ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر جعلی ووٹ بھگتائے بھی جاتے ہیں تو اُن کی فوراً نادرا سے شناخت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انگوٹھے کا نشان ووٹر کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے انتخابی قوانین اور ووٹنگ کا نظام اتنا بُرا نہیں، البتہ اُن کا نفاذ نہیں کیا جاتا اور بے قاعدگیوں سے صرفِ نظرکرنے کی روایت پڑ چکی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان منجھے ہوئے اور سینئر ترین جج رہے ہیں۔ اُنہیں اس بات کا یقیناً ادراک ہوگاکہ جب قوانین اور قواعد وضوابط پر عملدرآمد کرایا جاتا ہے تو حسب منشاء نتائج سامنے آتے ہیں جس طرح عدالتی نظام میں قانون سے اِدھر اُدھر ہٹنے کی گنجائش نہیں ہوتی اُسی طرح اگر الیکشن کمیشن میں بھی اس رجحان کو متعارف کرا دیا جائے اور ارکان الیکشن کمشن سیاسی دباؤ پر قانون اور ضوابط کو معطل نہ کریں تو ہم اس نظام سے بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ چرچل جیسے شخص کو یہ کہنا پڑا تھا کہ قانون سے زیادہ اُس پر عملدرآمد کی اہمیت ہوتی ہے۔ کمزور قانون بھی اگر مؤثر عملدرآمد سے گزرے تو اپنی خامیوں پر قابو پا لیتا ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہمیشہ اُلٹا ہوتا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی کے مرحلے سے لے کر اخراجات اور پولنگ ڈے تک بے قاعدگیوں اور قانون شکنی سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس صورتِ حال میں شفافیت کہاں برقرار رہ سکتی ہے۔ اس رویئے کی موجودگی میں کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ اگر انتخابی اصلاحات ہو جائیں تو انتخابات شفاف ہو جائیں گے۔ اصل مسئلہ تو قانون پر عملدرآمد کا ہے۔ ایک آئیڈیل قانون بھی عملدرآمد کے بغیر کاغذ کا پرزہ ثابت ہوتا ہے۔ قوانین پر عملدرآمد کے لئے جرأت اور غیر جانبداری کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے الیکشن کمشن کی تاریخ اس حوالے سے کچھ زیادہ شاندار نہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور چاروں الیکشن کمشنروں کا انتخاب سیاسی بنیادوں پر ہوتا رہا ہے جس طرح عدلیہ آزاد ہوتی ہے، اُسی طرح الیکشن کمشن کو بھی آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور چاروں صوبائی الیکشن کمشنر بھی مدتِ ملازمت کا آئینی تحفظ رکھتے ہیں، اس لئے اُنہیں وقت سے پہلے ہٹایا نہیں جا سکتا تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان ریٹائرڈ ججز کا رویہ حاضر سروس ججوں جیسا نہیں رہتا اور یہ قدم قدم پر مصلحت سے کام لیتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں نئے چیف الیکشن کمشنر پر جو سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ الیکشن قوانین کا نفاذ ہے کیونکہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ قوانین موجود ہیں مگر عملدرآمد ندارد ہے۔ جس کا فائدہ اُٹھا کر نہ صرف الیکشن میں دھاندلی کی جاتی ہے، بلکہ عذر داریوں کی سماعت کے دوران بھی ایسے چور دروازے تلاش کر لئے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے کئی سال تک فیصلے ہی نہیں ہوتے۔ الیکشن کمیشن اگر ریکارڈ کی فراہمی اور عذرداریوں کی سماعت کو مقررہ مدت کے اندر پایۂ تکمیل تک پہنچانے کو ہی یقینی بنا دے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اُمید ہے کہ یہ نئے چیف الیکشن کمشنر اور عوامی توقعات

نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ قابل اطمینان بات یہ ہے کہ عمومی طور پر ان کی تقرری کو سراہا گیا ہے۔ اگر کسی نے اعتراض بھی کیا ہے تو ان کی شخصیت پر نہیں بلکہ طریقہ کار پر کیا ہے کہ اُن سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اب یہ اعتراض البتہ اُٹھ رہا ہے کہ چار صوبائی الیکشن کمشنروں کے ہوتے کیا صرف چیف الیکشن کمشنر کوئی بہت بڑی تبدیلی لا سکیں گے؟ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان تو واضح کر چکے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے تمام ارکان بشمول چیف الیکشن کمشنر چونکہ برابر اہمیت رکھتے ہیں، اس لئے چار صوبائی الیکشن کمشنروں کی موجودگی میں انتخابات کے عمل کو شفاف نہیں بنایا جا سکتا۔ اُنہوں نے چاروں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ مگر لگتا نہیں کہ وہ مستعفی ہوں گے کیونکہ حکومت بھی نہیں چاہتی کہ وہ استعفے دیں۔ گویا چیف الیکشن کمشنر کی غیر متنازعہ تقرری کے باوجود ایک تنازعہ موجود رہے گا جو کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں۔ ایک آئیڈیل صورت تو یہ ہے کہ چاروں صوبائی الیکشن کمشنر ملک و قوم کے مفاد میں مستعفی ہو جائیں، کیونکہ 2013ء کے انتخابات کی شفافیت پر بہت زیادہ سوالات اُٹھائے گئے ہیں مگر ایسا ہو گا نہیں کیونکہ پاکستان میں کوئی بھی عہدہ نہیں چھوڑتا تا وقتیکہ اُسے مجبور نہ کر دیا جائے۔

پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کو انتخابات نے جنم دیا ہے۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ الیکشن کمشن نے نہ صرف انتخابات کے انعقاد میں خامیاں چھوڑیں بلکہ جب انتخابی عذر داریوں کی سماعت کا مرحلہ آیا تو انصاف کو بروقت یقینی بنانے کی کوشش نہیں کی۔ جس کے باعث ٹربیونلز میں مقدمات لٹکتے چلے گئے اور آج تحریک انصاف کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کی زیر نگرانی پورے انتخابی عمل کی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ اگر سخت ایکشن نہ لیتی تو شاید چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ مزید کئی سال تک لٹکا رہتا۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر وہ فیصلے نہیں کر سکتا جو ایک مستقل چیف الیکشن کمشنر کرتا ہے۔ سو اس لئے معاملات گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتے چلے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے اس عزم کا اظہار کیاہے کہ وہ الیکشن کمیشن پر عوام کا اعتماد بحال کرانے کی کوشش کریں گے۔ ظاہر ہے یہ کام عملی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔ عمران خان کے کچھ مطالبات حکومت سے ہیں تو کچھ الیکشن کمیشن سے ہیں۔ وہ فارم16 کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کے ذریعے ووٹوں کے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں صرف اسی فارم کے آڈٹ سے انتخابات کی صحت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسے منظرِ عام پر نہیں لایا جا رہا۔ مَیں اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ہمارا موجودہ انتخابی نظام بالکل ہی ناکارہ ہے۔ اگر اس کے ضابطوں پر مکمل عمل کیا جائے اور ریکارڈ محفوظ کرنے کے لئے تمام کارروائی مکمل کر دی جائے تو شاید دھاندلی کی اتنی شکایات سامنے نہ آئیں۔ اب تک جو حلقے کھلے ہیں اور انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ ہوا ہے۔ اُن سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انتخابی عملے اور ریٹرننگ افسروں نے اپنے فرائض دیانتداری سے ادا نہیں کئے۔ اب تک کتنے حلقوں کے نتائج بدل چکے ہیں اور کئی جیتنے والے دوبارہ گنتی میں ہار گئے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں صرف یہی کافی نہیں کہ الیکشن کمیشن ہارنے اور جیتنے والوں کا نوٹی فیکشن جاری کرتا رہے بلکہ اُسے ایسے عملے کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرنی چاہئے، جس نے اپنے فرائض سے غفلت برتی اور انتخابی قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال دیا۔

میں الیکشن کے لئے نئے قوانین اور اصلاحات کی بات نہیں کر رہا۔ میں تو چیف الیکشن کمشنر صاحب کو صرف یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ آئندہ ہونے والے ہر ضمنی انتخابات اور عام انتخابات میں اُن قوانین اور ضابطوں کے نفاذ کو پوری طرح یقینی بنائیں جو الیکشن کمیشن کے قوانین کا حصہ ہیں۔ اصل خرابی ہی یہ ہے کہ قوانین پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ 62-63 کی شقوں سے لے کر انتخابی اخراجات اور پولنگ کے دن نافذ ہونے والے ضوابط پر اگر پوری تندہی سے عمل کرایا جائے تو میں سمجھتا ہوں دھاندلی کے امکانات بڑی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ جعلی ووٹ ہمیشہ جعلی ہی رہتا ہے۔ خالی پرچیوں پر مہریں لگا کر بیلٹ بکسوں میں ڈالنے سے کوئی نہیں جیت سکتا، کیونکہ اس کے لئے ووٹر کا انگوٹھا چاہئے، شناختی کارڈ نمبر کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر انتخابی حلقے میں اُس کا نام بھی ہونا چاہئے۔ اگر کوئی پریزائیڈنگ افسر یاریٹرننگ افسران قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کراتا تو اس کا مطلب ہے سب کچھ اُس کی منشاء پر اور منظوری سے ہوا ہے۔ اس لئے اُسے بھی قانون کے کٹہرے میں لانا چاہئے۔ مَیں خود کئی بار انتخابات میں بطور پریذائیڈنگ افسر ڈیوٹی دے چکا ہوں۔ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ پولنگ اسٹیشن کی حد تک دھاندلی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ جب سے انتخابی فہرستوں پر تصویر چھاپنے کا عمل شروع ہوا ہے، جعلی ووٹ عملے کی ملی بھگت کے بغیر ڈالنا ناممکن ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر جعلی ووٹ بھگتائے بھی جاتے ہیں تو اُن کی فوراً نادرا سے شناخت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انگوٹھے کا نشان ووٹر کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے انتخابی قوانین اور ووٹنگ کا نظام اتنا بُرا نہیں، البتہ اُن کا نفاذ نہیں کیا جاتا اور بے قاعدگیوں سے صرفِ نظرکرنے کی روایت پڑ چکی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان منجھے ہوئے اور سینئر ترین جج رہے ہیں۔ اُنہیں اس بات کا یقیناً ادراک ہوگاکہ جب قوانین اور قواعد وضوابط پر عملدرآمد کرایا جاتا ہے تو حسب منشاء نتائج سامنے آتے ہیں جس طرح عدالتی نظام میں قانون سے اِدھر اُدھر ہٹنے کی گنجائش نہیں ہوتی اُسی طرح اگر الیکشن کمیشن میں بھی اس رجحان کو متعارف کرا دیا جائے اور ارکان الیکشن کمشن سیاسی دباؤ پر قانون اور ضوابط کو معطل نہ کریں تو ہم اس نظام سے بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ چرچل جیسے شخص کو یہ کہنا پڑا تھا کہ قانون سے زیادہ اُس پر عملدرآمد کی اہمیت ہوتی ہے۔ کمزور قانون بھی اگر مؤثر عملدرآمد سے گزرے تو اپنی خامیوں پر قابو پا لیتا ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہمیشہ اُلٹا ہوتا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی کے مرحلے سے لے کر اخراجات اور پولنگ ڈے تک بے قاعدگیوں اور قانون شکنی سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس صورتِ حال میں شفافیت کہاں برقرار رہ سکتی ہے۔ اس رویئے کی موجودگی میں کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ اگر انتخابی اصلاحات ہو جائیں تو انتخابات شفاف ہو جائیں گے۔ اصل مسئلہ تو قانون پر عملدرآمد کا ہے۔ ایک آئیڈیل قانون بھی عملدرآمد کے بغیر کاغذ کا پرزہ ثابت ہوتا ہے۔ قوانین پر عملدرآمد کے لئے جرأت اور غیر جانبداری کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے الیکشن کمشن کی تاریخ اس حوالے سے کچھ زیادہ شاندار نہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور چاروں الیکشن کمشنروں کا انتخاب سیاسی بنیادوں پر ہوتا رہا ہے جس طرح عدلیہ آزاد ہوتی ہے، اُسی طرح الیکشن کمشن کو بھی آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور چاروں صوبائی الیکشن کمشنر بھی مدتِ ملازمت کا آئینی تحفظ رکھتے ہیں، اس لئے اُنہیں وقت سے پہلے ہٹایا نہیں جا سکتا تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان ریٹائرڈ ججز کا رویہ حاضر سروس ججوں جیسا نہیں رہتا اور یہ قدم قدم پر مصلحت سے کام لیتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں نئے چیف الیکشن کمشنر پر جو سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ الیکشن قوانین کا نفاذ ہے کیونکہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ قوانین موجود ہیں مگر عملدرآمد ندارد ہے۔ جس کا فائدہ اُٹھا کر نہ صرف الیکشن میں دھاندلی کی جاتی ہے، بلکہ عذر داریوں کی سماعت کے دوران بھی ایسے چور دروازے تلاش کر لئے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے کئی سال تک فیصلے ہی نہیں ہوتے۔ الیکشن کمیشن اگر ریکارڈ کی فراہمی اور عذرداریوں کی سماعت کو مقررہ مدت کے اندر پایۂ تکمیل تک پہنچانے کو ہی یقینی بنا دے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اُمید ہے کہ یہ سب معاملات نئے چیف الیکشن کمشنر سے ڈھکے چھپے نہیں ہوں گے اور اُن کی جہاں دیدہ شخصیت اِن تک ضرور پہنچے گی۔ سپریم کورٹ نے پچھلے دنوں دھاندلی کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ شفاف انتخابات جمہوریت اور قومی سلامتی کے لئے ضروری ہیں۔ خود تمام سیاسی جماعتیں بھی یہ سمجھتی ہیں کہ انتخابات میں شفافیت لائے بغیر ہم ملک میں سیاسی استحکام حاصل نہیں کر سکتے۔ جب سب اس نکتے پر متفق ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہ بنیادی کام خامیوں سے مبرأ نہیں ہو پا رہا۔ چیف الیکشن کمشنر کے آنے سے اُمید بندھی ہے کہ اس حوالے سے دور رس فیصلے ہوں گے اور الیکشن کمشنر اپنی غیر جانبداری اور شفافیت کو منوانے میں کامیاب رہے گا۔ اللہ کرے یہ توقع پہلے کی طرح ریت کی دیوار ثابت نہ ہو۔

سب معاملات نئے چیف الیکشن کمشنر سے ڈھکے چھپے نہیں ہوں گے اور اُن کی جہاں دیدہ شخصیت اِن تک ضرور پہنچے گی۔ سپریم کورٹ نے پچھلے دنوں دھاندلی کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ شفاف انتخابات جمہوریت اور قومی سلامتی کے لئے ضروری ہیں۔ خود تمام سیاسی جماعتیں بھی یہ سمجھتی ہیں کہ انتخابات میں شفافیت لائے بغیر ہم ملک میں سیاسی استحکام حاصل نہیں کر سکتے۔ جب سب اس نکتے پر متفق ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہ بنیادی کام خامیوں سے مبرأ نہیں ہو پا رہا۔ چیف الیکشن کمشنر کے آنے سے اُمید بندھی ہے کہ اس حوالے سے دور رس فیصلے ہوں گے اور الیکشن کمشنر اپنی غیر جانبداری اور شفافیت کو منوانے میں کامیاب رہے گا۔ اللہ کرے یہ توقع پہلے کی طرح ریت کی دیوار ثابت نہ ہو۔

مزید : کالم