بینائی

بینائی
بینائی

  



اچھی حکومت وہی ہے جو عوام پر کم سے کم کی جائے۔فیصل آباد میں حکومت کی حکمتِ عملی ناکام ہوئی۔ایک بات تو آج ثابت ہوئی کہ عمران خان اقتدار کے اس کھیل کو ہموار ہر گز رہنے نہیں دے گا۔ اس کے درست اور نادرست ہونے کی بحث اب غیر متعلق ہوتی جارہی ہے۔ شریف برادران اقتدار کے ایک ایسے تصور سے آشنا ہیں جو کسی بھی جواب دہی کے بغیر ہموار اور استوار ہو۔ عسکری حلقوں سے اُن کی ناراضی جمہوریت کے کسی تصور پر ایمان کی وجہ سے نہ تھی۔وہ اس کے شکار ہوئے تھے۔ بے رحم حالات اُن پر نرم ہوئے تھے اور گردشِ ایّام نے اُنہیں پھر اقتدار سے نواز دیا۔ مگر تاریخ سے وہ کوئی سبق لینے کو تیار نہیں ہوئے۔ اُنہوں نے اپنی صبحوں کو اُسی پرانی طرز پر شام کرنا چاہا۔ موقع ہے اُن کے پاس ،اب بھی ایک آخری موقع ہے۔ شاید کہ وہ سنبھل جائیں۔مگر ہر گزرتا دن ان حکمرانوں کی عقلوں پر ماتم کرتا گزرتا ہے۔فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کے حالات سے واضح ہے کہ حکومت ایک معمولی منصوبہ تک بنانے سے عاجز ہے۔

حکومت کو صرف ایک کام کرنا تھا کہ وہ کوئی کام نہ کرتی۔اپنی غیر فعالیت کو برقرار ہی رکھتی۔ احتجاج کے ہنگام اقتدار جب ’’طاقت‘‘ پر ایمان کا مظاہرہ کرتاہے تو اُس کا ’’اختیار‘‘ سکڑتا جاتا ہے۔ اُس کے پاس کھینچنے کی رسیاں کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہیں۔مسلم لیگ نون کی حکومت کا ماجرا بھی یہی ہے۔ فیصل آباد میں ابھی عمران خان کاجلوس آنا ہے مگر اُس سے پہلے ایک لاش گر چکی ہے اور حکومت کو اُس کا جواب ایک بار پھر دینا پڑے گا۔ابھی وہاں حالات نئی کروٹ لے رہے ہیں ۔ ذرا اُسے یہ کروٹ لینے دیں۔لاہور چلتے ہیں اور اُس منفرد آہنگ کے شاعراقبال عظیم کو یاد کرتے ہیں جو اس سماج سے شاکی اُٹھااور جس نے کہاتھاکہ

ملال مجھ کو نہیں اپنی کم نگاہی کا

جو دیدہ ور ہیں اُنہیں بھی نظر نہیں آتا

یہ دن بھی دیکھنے باقی رہ گئے تھے۔ اس آسمان کے نیچے کھلی آنکھوں سے مظالم کی کون کون سی شکلیں ہیں جو دیکھی نہیں جا سکتیں۔ کیا گزشتہ ہفتے کا واقعہ ہمیں آئندہ ہفتوں میں یاد بھی رہے گا؟ جب سفید چھڑی کو لاہور کی ڈیوس روڈ پر رُسوا کردیا گیا۔ جب ڈنڈا ڈولی کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے اپنا باطن ظاہر کر دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے روز پیش آیا جو دنیا بھر میں اُن سے ہی منسوب ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ ہماری ریاست رواداری اور رحم دلی کا ایک دن بھی مصنوعی طور پر نہیں گزار سکتی۔ اُس کی اخلاقیات کی تمام مثالیں اعلیٰ درجے کی بناوٹ اور ریاکاری پر مبنی ہیں۔ یہ وہی حکومت ہے جو عمران خان کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کو تب بھی تیار نہیں ہوئی تھی جب پولیس افسر کو اُن کے بلوائیوں نے دھر لیاتھا۔ کیسا صبر تھاجس میں طاہر القادری اور عمران خان کی تمام قانون شکن سرگرمیوں کا تماشا شاہراہِ دستور پر دیکھا گیا۔ پی ٹی وی کا صدر دفتر ہی نہیں، عدالتِ عظمیٰ کی دیواروں اور قانون ساز ادارے کے مرکزی حصوں کی بے توقیری تک کو گوارا کر لیا گیا۔ مگر سفید چھڑی تھامے چند نہتے انسانوں کو ڈنڈوں پر لے لیا گیا۔

اِس واقعے کا ایک سبق تو یہ ہے کہ قانون اپاہجوں کے خلاف اپنی ’’طاقت‘‘ کے استعمال میں بے رحم ہو جاتا ہے۔ مگر یہی’’ قانون ‘‘آنکھیں دکھانے والوں کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے۔ طاقت پر کھڑے اس بے رحم معاشرے کی مکروہ ترین نفسیات کا عکاس یہ واقعہ ایک کھلا آئینہ ہے جو مظلوموں کو یہ سمجھاتا ہے کہ وہ اس معاشرے میں اپنی زندگی کا سامان تب ہی کرسکتے ہیں جب وہ خودکو خطرناک بنا لیں۔ یہ دراصل ظاہر کرتا ہے کہ قانون صرف اُنہیں ہی کچل سکتا ہے جو اس کی گردن پر ہاتھ رکھنے کے قابل نہیں۔ اگر آپ ظالم ہیں تو قانون آپ کا مددگار ہے اور اگر مظلوم تو قانون کا عتاب آپ کی راہ دیکھ رہا ہے۔ یہ کبھی بھی اور کہیں بھی آپ کو دھر سکتا ہے۔ وہ حکومتیں کمزور نہیں دراصل ظالم کہلائے جانے کی مستحق ہوتی ہیں جو اپنے طاقتوروں کو نظر انداز اور اپنے کمزوروں کو پیسنے میں لگی رہتی ہیں۔لاہور میں نابیناؤں کے احتجاج پر پولیس کی جانب سے تشدد دراصل پولیس میں موجود خامیوں کے جائزے کا موضوع ہر گز نہیں ۔ یہ دراصل ایک بڑے تناظر میں ملک میں رائج تصورِ حکومت کی سچی تشریح ہے۔

پولیس ہی نہیں تمام ہی سرکاری اداروں کی کج روی کے ذمہ دار دراصل حکمران ہوتے ہیں۔ وہ جس طرح کا اُسلوبِ اقتدار متعارف کراتے ہیں،سرکاری ادارے اُسی کی ہوبہو تصویر بنتے چلے جاتے ہیں۔ نظمِ حکومت کی عمیق فکر کی حامل ایک قدیم تعریف کے مطابق ’’نظامِ حکومت تمام اچھے ہوتے ہیں، خامیاں اُن کے چلانے والوں میں ہوتی ہیں۔‘‘ پولیس ہی کیا جس بھی ادارے میں جو بھی خامیاں ہیں اُس کے ذمہ دار شریف برادران ہیں۔جو اقتدار کو ناقابل تقسیم اکائی کے طور پر اپنے گرد مرتکز رکھتے ہیں۔ جو اپنی جماعت کے ارکان سے ہی نہیں ریاستی اداروں سے بھی غیر مشروط وفاداری کے خواست گار رہتے ہیں۔ اور جنہیں اختلاف کی ہر آواز دراصل دشمنی کی گونج لگتی ہے۔ جو بدلے ہوئے پاکستان کی فضاؤں میں اپنی پُرانی عادتوں کے ساتھ ابھی تک بروئے کار ہیں اوراُن سے حسنِ ظن رکھنے والوں کو ایک ایک کرکے مایوس کرنے پر تُلے ہیں۔

شریف برادران کی سمجھ میں نہ جانے کیوںیہ بات نہیں آرہی ہے کہ جمہوریت کوئی اتنا بڑا راگ نہیں ہے جس کی کشش میں لوگ خود پر مظالم بھی برداشت کر لیں۔ اور اپنی محرومیوں اور نارسائیوں کو جمہوریت کا چورن چاٹ کر گوارا کرتے جائیں ۔حکومت کے جدید تصور میں وہی حکومت ایک اچھی حکومت ہوتی ہے جو عوام پر کم سے کم کی جائے۔ عوام پر زیادہ سے زیادہ کی جانے والی حکومت دراصل ایک ناپسندیدہ اور غیر مقبول حکومت بنتی چلی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے شریف برادران کا تصور حکومت یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ حکومت کر کے خو دکو مملکت کے لئے ناگزیر باور کرایا جائے۔یہ ایک غلط بینی ہے۔ موجودہ پاکستان کسی کا منتظر نہیں اور کسی کی محبت میں کئی دہائیوں تک مسلسل گرفتار رہنے کی مجبوری میں مبتلابھی نہیں۔

شریف برادران اس پر غورکیوں نہیں کرتے کہ وہ عمران خان کے تمام ناقص دعووں کے باوجود آخر کیوں اس کے خلاف کامیاب نہیں ہوپارہے؟ فیصل آباد میں تحریکِ انصاف کاغلط اُسلوب میں کیا جانے والا احتجاج بھی کیوں حکومت کی ناکامی بن کر ظاہر ہوا؟شریف برادران نے دراصل حکومت کا جو انداز متعارف کرایا ہے ، وہ کوئی ادارہ جاتی نہیں، بلکہ کسی آمر کی طرح ہی شخصی ہے۔ کسی مظلوم کی دادرسی تک کے لئے جب تک وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف بروئے کار نہ آئیں، حکومت کی گاڑی نہیں چلتی۔ ناقص تصورِ حکمرانی کی انتہا دیکھئے کہ اِسے بھی یہ ’’برادران‘‘ اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔چنانچہ میاں صاحب کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز نے نابیناؤں پر ہونے والے تشدد کے دوران بے اختیار طور پر جو تاسف انگیز تبصرہ کیا، وہ دراصل اس حکومت کے غلط طرزِ حکمرانی کا اصل ماجرا ہے۔ اگر یہ دونوں بھائی ملک میں موجود نہ ہوں تو پھر مملکت کی گاڑی کا اللہ ہی حافظ ہے۔ محترمہ مریم نواز کے یہ الفاظ کہ اُن کے والد اور چچا اگر ہوتے تو یہ واقعات نہ ہوتے ،دراصل اِن دونوں کی حکومتوں کے خلاف سب سے بڑی فردِجرم کے مصداق ہیں۔ موجودہ حکومت ایک قبائلی مزاج کی حامل اور چند مقربین سے چلائی جارہی ہے۔ جس میں تمام بڑے فیصلوں کا انداز ’’شخصی‘‘ ہے۔ غیر ادارہ جاتی فیصلوں کی یہ روش برقرار رکھ کر جمہوریت کا گیت اپنا مضحکہ آپ ہی اڑائے گا۔ محترمہ مریم نواز کے الفاظ میں شریف برادران کی کامیابی نہیں ، ناکامی کی داستان چُھپی ہے۔ اگر اب بھی میاں صاحب جمہوریت کو اُس کی روح اور حکومت کو اشرافیہ کے بجائے عوام کے لئے مفید نہیں بناتے تو پھر ضروری نہیں کہ وہ آئندہ کسی بحران سے اُسی طرح اُبھر سکیں جس طرح وہ پچھلے بحرانوں سے ماضی میں اُبھرتے آئے ہیں۔خوش قسمتی ہمیشہ کسی کا ساتھ نہیں دیتی۔میاں صاحب اُس احتجاج کو نہ دیکھیں جو فیصل آباد سے لاہور تک عمران خان کر رہے ہیں بلکہ اُس احتجاج کو اپنے حدِ ادراک میں لائیں جولوگ نہیں کر رہے۔ مگر اُس احتجاج کے کرب میں مبتلا ہیں۔ یاد رہے کہ اچھی حکومت وہی ہوتی ہے جو عوام پر کم سے کم کی جائے۔

مزید : کالم