کمرشل امپورٹرز کوآڈٹ سے استثنیٰ دیاجائے: پی سی ڈی ایم اے

کمرشل امپورٹرز کوآڈٹ سے استثنیٰ دیاجائے: پی سی ڈی ایم اے

  



کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن(پی سی ڈی ایم اے) نے چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ سے کمرشل امپورٹرز کوآڈٹ سے استثنیٰ کی سہولت بحال کرنے اور سیلز ٹیکس ریٹرن 2013کے فارم کے تحت بھرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئر مین ہارون نثارنمبر دارنے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کمرشل امپورٹرز کو درپیش مسائل کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہاکہ فنانس ایکٹ2012کے تحت سیلز ٹیکس کے خصوصی ضابطے58ای(2)شق واپس لینے کے نتیجے میں کمرشل امپورٹرزکو آڈٹ کا سامنا کرنا پڑ رہاہے حالانکہ وہ پہلے ہی درآمدی سطح پر3فیصدسیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں جس سے ابہام پیدا ہو گیاہے۔چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے خط میں مزید کہا ہے کہ ایک جانب توکمرشل امپورٹرز کو3فیصد ویلیو ایڈڈٹیکس کی ادائیگی کا پابند کیاجاتا ہے تو دوسری جانب ان کا آڈٹ بھی کیاجارہاہے جوکہ ویلیو ایڈڈسیلز ٹیکس اسکیم کے بنیادی قواعد کے برخلاف ہے کیونکہ کمرشل امپورٹرز نے مشاورت کے بعد زائد شرح پر ایڈوانس سیلز ٹیکس ادا کرنے پر اسی صورت میں رضامندی ظاہر کی تھی جب انہیں آڈٹ سے مستثنیٰ رکھا جائے۔انہوںنے کہاکہ 17فیصد سیلز ٹیکس جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے اس کے باجود درآمد کنندگان نے صرف آڈٹ کے استثنیٰ کی سہولت سے مستفید ہونے کے لیے 3فیصدایڈوانس سیلز ٹیکس کی ادائیگی پر آمادگی ظاہر کی تھی جو کہ اصل ویلیو ایڈیشن سے کہیں زیادہ ہے ۔

تاہم پھربھی ایف بی آر آڈٹ کا ارادہ کرتا ہے تو متعلقہ قانون میں ترمیم کرنی چاہیے تاکہ اصل ویلیو ایڈیشن کے3فیصد نیچے آنے کے بعد اصل ٹیکس برقرار رکھنے کی صورت میں درآمدکنندگان ریفنڈکلیم کرنے کے علاوہ آڈٹ ریجم سے نکلنے کا حق رکھ سکیں۔ہارون نثار نمبر دار نے چیئرمین ایف بی آر کو بھیجے گئے خط میں مو¿دبانہ درخواست کی کہ وہ متعلقہ حکام کوسیلز ٹیکس کے خصوصی ضابطے58ای(2)شق واپس بحال کرنے اور کمرشل امپورٹرز کو آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دینے کی ہدایات جاری کریں جودرآمدی سطح پرایڈوانس میں3فیصد ویلیو ایڈڈسیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں۔انہوںنے کمرشل امپورٹرز کو جولائی 2012کے بعد جاری کیے گئے نوٹسز واپس لینے کی بھی درخواست کی اور کہاکہ صرف ان کمرشل امپورٹرز کا آڈٹ کیاجائے تو اسکیم سے باہر ہیں۔چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے ای فائلنگ کے پیچیدہ طریقہ کار اور آئی آر آئی ایس سسٹم کی خامیوںکی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ پی سی ڈی ایم اے کے کئی ممبران نے شکایت کی ہے کہ وہ نہ تو ٹیکس ریٹرن اپ لوڈ کرپارہے ہیں اور نہ ہی مکمل کر پارہے ہیں جس کی وجہ ریٹرن مکمل کرنے کے لیے سسٹم میں کئی دفعات کاشامل نہ ہونا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نئے سسٹم کے خلاف نہیں لیکن سسٹم کوصارف دوست بنانے کے بعد ہی متعارف کراناچاہیے ۔ہارون نثار نمبردار نے چیئرمین ایف بی آر کو تجویزدیتے ہوئے کہاکہ جب تک نیا سسٹم مکمل طور پرفعال نہ ہوجائے اس وقت تک اسے معطل رکھا جائے نیزایف بی آر کو ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لیے 2013میں استعمال ہونے والے پرانے ای فارم کے ذریعے ریٹرنز جمع کرانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ غیر ضروری جرمانوں سے بچ سکیں۔

مزید : کامرس


loading...