زرداری کی مشکل

زرداری کی مشکل
زرداری کی مشکل

  



بے نظیر بھٹو کی زندگی میں سابق صدر آصف علی زرداری کی سیاست نہ ہونے کے برابر تھی، وہ پی پی پی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس وقت نمایاں ہو جایا کرتے تھے۔جب پی پی مخالف حکومت انہیں کسی نہ کسی کیس میں جیل ڈال دیا کرتی تھی، یہی جیل یاترا ان کے لئے عظمت کا نشان بن گئی، وہ جب بھی جیل گئے،کرپشن کے کیس میں گئے۔ چند کیسز قتل کے شبے میں تھے، بزرگ مرحوم صحافی مجید نظامی نے انہیں ’’مرد حُر‘‘ قرار دیتے ہوئے پوری قوم کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ ملک کے سینئر صحافی کی طرف سے آصف علی زرداری کے لئے ’’مرد حُر‘‘ کا خطاب کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔

’’جلاوطنی‘‘ ختم کرنے کے فیصلے کے بعد بے نظیر شہید نے جہاں نوازشریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا وہاں اپنے شوہر آصف علی زرداری کے ساتھ معاہدہ کیا کہ اب وہ سیاست سے دور رہتے ہوئے صرف بچوں کی نگرانی کریں گے اور پھر بے نظیر شہید واپس پاکستان آ گئیں۔آصف علی زرداری ملک سے باہر تھے۔ بی بی نے پاکستان میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔اس دوران ان کے اور نوازشریف کے درمیان سیاسی رابطے مزید مضبوط ہو گئے، مگر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انہیں شہید کر دیا گیا،بی بی کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نمایاں ہو گئے۔ انہوں نے بڑی آسانی کے ساتھ پی پی پی کو اپنے قابو میں کر لیا۔پارٹی کے اندر بہت سے لوگوں نے آصف علی زرداری کے ساتھ اختلاف کیا۔ ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی نمایاں نظر آئے، یہ دونوں میاں بیوی بے نظیر شہید کے بہت وفادار اور قریبی ساتھی تھے، انہیں سیاسی کے ساتھ ساتھ خاندانی معاملات کے بارے میں بھی پوری آگاہی تھی ، دونوں میاں بیوی نے پارٹی کی قیادت کے حوالے سے بہت احتجاج کیا، چند دنوں تک سینیٹر اعتزازاحسن بھی ان کے ہمنوا رہے، مگر پھر بعد میں ’’سینیٹر‘‘ کے عوض وفادار ہو گئے۔ پارٹی کی قیادت حاصل کرنے اور نوازشریف کی حمایت کے بعد آصف علی زرداری نے پہلے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنوایا اور پھر خود صدر بن گئے، اس دوران پی پی پی کے رہنماؤں کی طرف سے نعرہ لگایا گیا’’ اک زرداری، سب پہ بھاری‘‘ اور پھر یہ بھی کہا جانے لگا کہ آصف علی زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ حالانکہ بے نظیر شہید کی شہادت کے بعد اگر کسی پہلی کے طالب علم سے بھی پوچھا جاتا تو وہ بتا دیتا کہ بی بی کی شہادت کے بعد حکومت پی پی کے ہی نصیب میں لکھ دی گئی ہے۔ صدرآصف علی زرداری کے پانچ سال پورے کرنے پر بھی بہت داد دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اعلیٰ سیاسی ذہانت کے ساتھ اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کئے ہیں، حالانکہ یہ پانچ سال پورے کرنے کی ایک وجہ نوازشریف بھی تھے، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پی پی کی جاتی ہوئی حکومت کو سنبھالا دیا۔ گزشتہ انتخابات میں پی پی پی کی سیاسی پوزیشن آپ کے سامنے ہے، پانچ سال پورے کرنے کے باوجود پی پی پی بطور جماعت سندھ تک محدود ہو گئی اور حالات بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بطور جماعت پی پی پی مزید سکڑے گی، ایک ملک گیر سیاسی جماعت کو ’’بلاول ہاؤس‘‘ تک محدود کر دینا اگر سیاسی ’’مہارت‘‘ ہے تو پھر آصف علی زرداری کی سیاسی عظمت کو سلام، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سابق صدر نے پی پی پی کو بطور جماعت ان پانچ سالوں میں اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ اتنا نقصان جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف جیسے لوگ بھی نہیں پہنچا سکے۔

پیپلزپارٹی اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر ہے، آصف علی زرداری بھی اس وقت سولہ آنے سیاسی پریشانی میں مبتلا ہیں، ان کے فرزند بلاول بھٹو زرداری سیاسی طورپر ناکام نظر آتے ہیں، ان کی تقریروں میں ان کے نانا بھٹو اور والدہ بے نظیر شہید کی جھلک دیکھنے والوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔وہ پارٹی کا وزن اٹھانے سے قاصر ہیں، پاکستان بھر میں بکھرے ہوئے اپنے کارکنوں کو ایک بار پھر میدان میں لانے کے لئے نہ ان کے پاس ذہن ہے، نہ پروگرام ہے اور نہ ہی وقت ہے۔ وہ ابھی نوجوان ہیں، ان کے پاس زندگی کو انجوائے کرنے کا بہت سا سامان موجود ہے، وہ اپنی جوانی اور وقت کو پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں سڑکوں پر گزارنے کی بجائے زیادہ وقت لندن اور امریکہ کے دوستوں کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے سیاست سے کہیں زیادہ قیمتی چیز ان کی اپنی زندگی ہے، جسے وہ ہر قیمت پر اپنی مرضی سے گزارنا چاہتے ہیں، ان کی مرضی ہی درحقیقت ان کے والد کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے، ان کے والد کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اگر ’’پارٹی‘‘ کو سنبھالتے ہیں تو ’’بیٹا‘‘ جاتا ہے اور اگر بیٹے کو سنبھالتے ہیں تو پھر ’’پارٹی‘‘ جاتی ہے۔ دونوں کے درمیان زندگی اور سیاست کے معاملات پر اختلاف ہیں۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنے ’’قابو‘‘ میں رکھیں، مگر بیٹے کی خواہش ہے کہ وہ اپنی ’’ماں‘‘ کے ساتھیوں کے ساتھ بھی رابطہ بڑھائے، بلاول کی اس سوچ کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ اپنے باپ کے سیاسی فلسفے کے ساتھ نہیں چل سکتا، یہی وجہ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے ایک بار پھر پنجاب کا رخ کیا ہے، مگر بلاول زرداری نے لندن سے واپس آنے سے انکار کر دیا ہے، آصف علی زرداری نے لاہور میں کہا کہ بلاول اگر لاہور آ جاتا تو وہ یہاں بھی کئی لوگوں کو ناراض کر دیتا، ان کے اس بیان کا مطلب یہ ہوا کہ بلاول کی الطاف حسین کے بارے میں کی جانے والی تقریر اور بیانات کا آصف علی زرداری کو بھی دکھ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ لاہور میں بلاول زیادہ سے زیادہ کیا کرتا؟

1۔ وہ نوازشریف اور شہباز شریف کے خلاف بیان بازی کرتا اور ان کی حکومت پر تنقید کرتا تو اس سے کیا قیامت آجاتی، آخر عمران خان بھی تو گزشتہ تین ماہ سے نوازشریف کے خلاف محاذ لگائے بیٹھا ہے تو کیا اس سے نوازشریف کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے؟

2۔ بلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت کو تبدیل کر سکتا تھا اور اگر وہ پنجاب کی قیادت کو تبدیل کر دیتا تو اس سے پارٹی کو فائدہ ہوتا، کیونکہ میاں منظور وٹو کے ہونے یا نہ ہونے سے پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ موصوف خاموش کردار کے آدمی ہیں، ان جیسا شخص جوڑ توڑ کے ذریعے سازش تو کر سکتا ہے، کسی سیاسی جماعت کو عوامی سطح پر مضبوط بنانا ان جیسے سیاستدانوں کے بس کا روگ نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری لاہور میں آنے کے بعد اور کیا کرسکتے تھے، زیادہ سے زیادہ یہی دوکام کر سکتے تھے، مگر آخر الذکر کام کرنے سے پنجاب میں پیپلزپارٹی کی زندگی کے آثار نظر آنا شروع ہو جاتے، عوامی سطح پر پی پی پی کا کارکن حرکت میں نظر آتا، مگر شاید آصف علی زرداری کا سیاسی پروگرام مختلف ہے۔ وہ اپنے پروگرام کے ساتھ پنجاب تشریف لائے، ایک دو جگہ تقریریں فرمائیں اور پھر واپس کراچی روانہ ہو گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری کو پنجاب میں اپنی سیاسی زندگی کے آثار کہیں بھی نظر نہیں آئے، وہ ذہنی طور پر تسلیم کر چکے ہیں کہ پنجاب میں اب صرف مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہی میدان لگ سکتا ہے۔ پی پی پی اب پنجاب کے سیاسی میدانوں میں دوبارہ سے زندہ ہونے کے قابل نہیں رہی۔ آصف علی زرداری اگر ایسی مایوس سوچ کے ساتھ واپس گئے ہیں تو پھر ان کی اعلیٰ سیاسی سوچ کو ایک بار پھر ’’سلام‘‘ کہ انہوں نے اقتدار سے ہاتھ دھونے کے بعد اب جماعت سے ہاتھ دھونے کی بھی سوچ بنا لی ہے، مگر ابھی ایسے حالات نہیں آئے، اگر بلاول کو اپنی مرضی کے ساتھ پنجاب میں کام کرنے کا موقع دیا جائے تووہ تحریک انصاف کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک سکتا ہے۔اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ گالم گلوچ کی سیاست کرے، البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ پنجاب کے دانشوروں ، طالب علموں، کسانوں، مزدوروں، تاجروں اور دیگر طبقات کے ساتھ رابطے بڑھائیں، ان کے مسائل سنیں اور پھر اس کے مطابق پارٹی کو نئے سرے سے منظم کریں، ان کے نانا اور ماں کے کارکن اب بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں، مگر ان کارکنوں کو چلانے والا بھی تو ہونا چاہیے۔ انہوں نے جہانگیر بدر کو اپنا پولیٹیکل سیکرٹری بنایا ہے، یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، جہانگیر بدر پنجاب کے حوالے سے ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ پنجاب میں موجود کارکنوں کے ساتھ ان کے رابطے بڑھا سکتے ہیں، مگر اس کے لئے پارٹی کے ’’مہمان اداکاروں ‘‘ سے جان چھڑانا ہوگی، قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن اور اس طرح کے دیگر سرگرم رہنماؤں کو مزید آگے لانے کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو اگر یوسف رضا گیلانی، اعتزازاحسن، راجا پرویز اشرف اور اس طرح کے دیگر رہنماؤں کو چند دنوں کے لئے ’’چھٹی‘‘ پر بھیج دیں، اگر ہو سکے تو آصف علی زرداری ان سب کو ’’چند ماہ‘‘ کے لئے کہیں باہر ’’سیرسپاٹے‘‘ پر لے جائیں اور میدان مکمل طور پر بلاول کے لئے کھلا چھوڑیں تو پی پی پی کی ڈوبتی ہوئی کشتی کنارے پر لگائی جا سکتی ہے اور اگر اب بھی پی پی پی کے رہنما اس نعرے پر بضد ہیں کہ ’’اک زرداری سب پہ بھاری‘‘ تو پھر ان کی خدمت میں عرض ہے:

کہا ساحل پہ جائیں ہم

کہا ساحل پہ جاؤ تم

کہا طوفان کا ڈر ہے

کہا طوفان تو ہوگا

کہا کیا تم سلیکٹر ہو

کہا ہاں ہم سلیکٹر ہیں

کہا عمران کا ڈر ہے

کہا عمران تو ہو گا

مزید : کالم


loading...