کیا جمہوریت واقعی مر گئی ہے؟

کیا جمہوریت واقعی مر گئی ہے؟
کیا جمہوریت واقعی مر گئی ہے؟

  



’’ کیا جمہوریت مر چکی‘‘ ۔ یہ عنوان ہے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے لکھے گئے ایک مضمون کا جو امریکہ کے اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوا ہے۔ چوالیس سالہ بیرسٹر ٹونی بلیئر بیسویں صدی میں برطانیہ کے اپنے وقت میں سب سے کم عمر وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ ان کا دور 1997 سے 2007تک تھا حالانکہ وہ پارلیمنٹ کے رکن 1983 سے منتخب ہوتے آرہے تھے ۔ ۔ برطانیہ وہ ملک ہے جسے جمہوریت کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں دنیا بھر میں مثالیں دی جاتی ہیں کہ برطانیہ میں مثالی جمہوریت قائم ہے۔ برطانیہ کی بادشاہت اس جمہوریت کو برداشت کرتی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی ہو یا اجتماع کرنے کی آزادی، احتجاج کرنے کا معاملہ ہو یا مظاہرے کرنے کا اہتمام ، برطانیہ میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سب کچھ کرنے کی آزادی ہے۔ یہاں تک آزادی ہے کہ اگر کوئی ملک کے کسی علاقے کو ملک سے علیحدہ کر کے ایک خود مختار ملک قائم کرنا چاہے تو قانون اجازت دیتا ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کی رائے لے لی جائے۔ ا سکاٹ لینڈ کا معاملہ ہ تو ابھی تازہ بات ہے۔ اس طرح کی آزادی کے باوجود ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ جمہوریت مر چکی ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں اپنے تجربات کی روشنی میں جمہوریت کی ناکامیوں سے متعلق منفی پہلوٗوں کا ایسا نقشہ کھینچا ہے جس کا اتفاق سے پاکستان میں بھی اکثر لوگ تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کی قدر اور جذبے کو سراہا ہے، لیکن کہا ہے کہ اس سے لوگوں کو کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ جمہوریت کے تحت کئے جانے والے اقدامات تیز رفتار نہیں ہیں ، تاخیر اسے کمزور کرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ عام لوگوں کو کچھ دینے سے قاصر رہے۔ ٹونی بلیئر نے اپنے مضمون میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے کہ جمہوریت کو کس طرح بہتر کرنا چا ہئے اور اسے کیسے اس قابل بنانا چاہئے کہ وہ عام لوگوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکے ۔

پاکستان میں بھی طویل عرصے سے یہ بحث چل رہی ہے کہ ملک میں طرز حکمرانی بہتر ہونا چاہئے۔ حکومتوں کو ایسے اقدامات کرنے چاہیں جن کی بدولت عوام کو بہتر سہولتیں حاصل ہوسکیں۔ جب عوام طرز حکمرانی کو بہتر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ تحفظ ، فوری اور سستے انصاف کی بات کرتے ہیں۔ جب وہ بہتر سہولتوں کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ان کی زندگی میں تبدیلی آئے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ لوگوں کے جسم پر اکثر پھٹے پرانے کپڑے ہوتے ہیں۔ ان کے اور ان کے پاؤں میں جوتے تو درکنار، صحیح حالت میں چپل بھی نہیں ہوتی ہے۔ ان کے ٹوٹے پھوٹے گھروں میں دوسرے وقت کی روٹی کے لئے آٹا نہیں ہوتا۔ علاج معالجہ کے لئے انہیں کسی نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے۔ بچوں کی تعلیم کے بارے میں تو وہ سوچتے ہی نہیں ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ در حقیقت ان کے پاس قوت خرید ہی نہیں ہوتی کہ وہ یہ سب کچھ کر سکیں۔ عام لوگ جب سہولتوں کی بات کرتے ہیں تو ایک طرح سے وہ اپنی قوت خرید کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ٹونی بلیئر لکھتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ حکومت سنتی نہیں ہے حالانکہ حکومت اکثر سنتی ہے ۔ جب ان کی بات افسران تک پہنچتی ہے تو وہ مختلف تاویل اور تجاویز پیش کرتے ہیں۔ مضبوط قیادت کے تحت موٗثر فیصلہ سازی کا عنصر در اصل غائب ہے۔ پاکستان میں مضبوط قیادت کے تحت موٗثر فیصلہ سازی کا عنصر اکثر عوام کے معاملات میں غائب ہوتا ہے، لیکن خواص کے معاملے میں موجود ہوتا ہے۔ خواص کے معاملات طے یا حل کرانے ہوں تو حکومت راستے اختیار کر لیتی ہے اور فوری اقدامات کر لئے جاتے ہیں ،لیکن غریب اور اثر رکھنے سے محروم لوگوں کی صدا صحرا میں گونج کر ختم ہوجاتی ہے۔ درجنوں نہیں، سینکڑوں اور ہزاروں مثالیں شہر شہر موجود ہیں۔ لوگوں کو شکایت رہتی ہے کہ پولیس سنتی نہیں، عدالت کا وہ رخ کر نہیں سکتے۔ اگر عدالت سے فیصلہ بھی حاصل کر لیں تو انتظامیہ اور پولیس ان فیصلوں پر عمل در آمد نہیں کراتی ہے۔ یہ ہی وہ بنیادی بات ہے جسے حکمرانوں کو سمجھنا چاہئے۔ عام آدمی اس جمہوریت کو کس کام کا معجون تصور کرے جو ان کے کسی کام نہیں آتا۔ جمہوریت سے ان کی شکایت کا اظہار انتخابات کے وقت ہوتا ہے جب وہ الیکشن کمیشن کی مہم اور دعوت کے باوجود ووٹ ڈالنے ہی نہیں جاتے ہیں۔ 2013کے انتخابات کے دوران ووٹوں کی اتنی بڑی تعداد کیسے آئی اب تو نادرا کی مختلف حلقوں کی رپورٹیں الیکشن ٹریبیونل میں موجود ہیں جن میں اعتراف موجود ہے کہ انتخابات میں جعلی ووٹ ڈالے گئے تھے ۔

جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام آباد دھرنے کے بعد کیا گیا تھا اس میں پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے جمہوریت کی بقا کا رونا رویا تھا اور اپنے اس ارادے کا بار بار ذکر کیا تھا کہ وہ جمہوریت کے قیام کو جاری رکھنے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ تما م لوگ ایک جیسا راگ ہی الاپ رہے تھے ۔ یہ لوگ اسی جمہوریت کی بقا کے لئے کوشاں ہیں جس میں وہ سانس لے رہے ہیں۔ انہیں یہ اندازہ نہیں ہو رہا ہے کہ عام لوگوں کا اس جمہوریت میں دم گھٹ رہا ہے۔ عام لوگ سانس لینے کی سہولت چاہتے ہیں۔ حکومت کرنے والی مسلم لیگ ، حزب اختلاف میں بیٹھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین عمران خان اور ڈاکٹر قادری کو دھرنا لگانے پر نشانہ بناتے رہے ،لیکن کسی نے بھی اس پیرائے میں گفتگو نہیں کی جس کا ذکر ٹونی بلیئر نے کیا ہے یا متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی شد و مد سے ذکر کرتے رہتے ہیں۔ خالد بار بار یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کے ثمرات سے عام آدمی مستفید نہیں ہو رہا ہے۔ جمہوریت حکمران دوست ہے، عوام دوست نہیں۔ پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ اس رخ سے سوچنے پر آمادہ ہی نہیں ہیں۔ وہ اسی جمہوریت کی بقا چاہتے ہیں جس میں وہ خود بار بار، ان کے اکثر قریبی رشتہ دار اور ان کے قریبی لوگ ہی منتخب ہو سکیں۔ سیاسی جماعتیں ایسی لمیٹیڈ کمپنیوں کی صورت اختیار کر گئی ہیں جن میں زیادہ حصص رکھنے والوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ عہدہ اور انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نامزدگی کا اختیار فرد واحد کے ہاتھوں میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

حال میں جب پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ پارٹی میں گروپ بندیاں ہورہی ہیں ان پر توجہ دی جائے تو پارٹی کے شریک چیئر مین سابق صدر آصف زرداری پر یہ مشورہ اس قدر گراں گزراکہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جسے جانا ہے وہ چلا جائے۔ لوگوں کو یہ خیال ہی نہیں کہ بیس بیس سال سے بستروں پر پڑے تھے، ہم نے انہیں جھاڑ پونچھ کر کھڑا کیا ہے۔ آصف زرداری در اصل جمہوریت اسے ہی سمجھتے ہیں جس میں صرف ان کی بات سنی جائے، ان کی بات ہی مانی جائے اور انہیں ہی اقتدار پر بار بار فائز ہونے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے شیری رحمان کو پارلیمنٹیرین کی نائب صدر مقرر کر دیا جس پر مخدوم امین فہیم نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ان کے ساتھ مشورہ کرنا تو درکنار، انہیں بھی اخبارات کے ذریعے شیری کی نامزدگی کا علم ہوا۔ امریکہ کے ممتاز صدر ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ جمہوریت ایسی حکومت کا نام ہے جو عوام کی ہو ، عوام کے لئے ہو اور عوام کے ذریعے ہو اور کسی اور نے کہا کہ جمہوریت اختلاف رائے کا نام ہے۔ پاکستان میں اکا دکا سیاسی جماعتوں کے سواآپس میں مشورے نہیں کئے جاتے، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی میں تو قیادت کے کئے گئے فیصلوں پر بحث اور مباحثہ سے اہم لوگ بھی بوجوہ ڈرتے ہیں ۔ مجلس عاملہ میں بحث کا تو تصور ہی نہیں ہے۔ ایسی ہی صورت حال پارلیمنٹ کو بھی درپیش ہے۔ پاکستان میں تو کوئی ایسی جمہوری حکومت آئی ہی نہیں جو ابراہم لنکن کی دی گئی تعریف پر پوری اتر سکتی ہو یا جس میں اختلاف رائے برداشت کی گئی ہو۔ برطانیہ میں حالانکہ طرز حکمرانی پاکستان کے مقابلے میں ابھی بھی کئی گنا بہتر ہے۔سیاسی جماعتوں میں کھل کر بحث ہوتی ہے۔ اختلاف رائے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ وہاں عدالتیں، پولیس، دیگر سرکاری محکمے اور ادارے کام کر رہے ہیں۔ وہاں پولیس آج بھی قانون پر عمل در آمد کراتی ہے تو وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان کی اہلیہ کو تھانے اس لئے طلب کر لیتی ہے کہ ان کے بیٹے نے شراب نوشی کے بعد شورو غل کیا۔ وزیراعظم کو تھانے جانا پڑتا ہے۔ کیا پاکستانی جمہوریت میں ایسا تصور کیا جاسکتا ہے۔ یہاں جمہوریت اشرافیہ، جاگیرداروں ، سرمایہ داروں، اور ان کے گماشتوں کے تابع ہے جس میں عوام کا سانس گھٹتا ہے ۔ پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ کو ٹونی بلیئر کا یہ مضمون ضرور پڑھنا چاہئے تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ برطانیہ جیسے ملک کے دس سال تک وزیر اعظم رہنے والے شخص کو جمہوریت میں کیا کسر نظر آئی کہ وہ لکھ بیٹھے کہ کیا جمہوریت مر گئی ہے۔ (ختم شد)

مزید : کالم