نئی سلک روڈ: پاکستان کے لئے ایک خطرہ؟

نئی سلک روڈ: پاکستان کے لئے ایک خطرہ؟
نئی سلک روڈ: پاکستان کے لئے ایک خطرہ؟

  


حال ہی میں چین نے پاکستان کے لئے ایک بڑے میگا پراجیکٹ کا اعلان کیا ہے۔ ہمارے وزیراعظم چین گئے تھے اور ان کی موجودگی میں اس پراجیکٹ کے 9ذیلی ایم او یوز / معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔اس میگا پراجیکٹ میں دو ایسے پراجیکٹ شامل ہیں جو پاکستان کے لئے اگرچہ دو دھاری تلوار ہیں لیکن مجھے لگتا ہے ان میں پاکستان کے لئے اگر ایک طرف نمایاں فائدہ ہے تو دوسری طرف پنہاں نقصان بھی ہے۔۔۔ اس کالم میں اسی خطرے کی نشاندہی مقصود ہے۔

جیسا کہ ہم کو بتایا گیا ہے اس پر لاگت کا اولین تخمینہ 42یا 45 ارب ڈالر ہے۔اس خطیر لاگت سے اس بات کا اندازہ تو کوئی مشکل امر نہیں کہ چین نے اتنی بڑی رقم لگانے میں پاکستان کے فائدے کو ترجیح دی ہے۔ چین دنیا کی ایک ابھرتی ہوئی نئی سپرپاور ہے،جس کی بنیادی ضرورت انرجی ہے۔ اس کالم میں چین کے ان میگا پراجیکٹوں کا ذکر نہیں کیا جا سکتا جو یہ طاقت اپنے مستقبل کے لئے دنیا کے دوسرے براعظموں میں شروع کر چکی ہے۔اس کی ضروریات میں زیادہ تر تیل اور خام معدنیات شامل ہیں۔ چین ان دونوں اشیائے ضروریہ (Required Commodities) کو لاطینی امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا ، یورپ اور ایشیاء کے دور دراز علاقوں سے اپنے ہاں لا رہا ہے۔اس کے لئے اس کا زیادہ انحصار بحری مواصلات پر ہے اور چین ہی پر کیا منحصر آج جو ممالک خوشحالی سے مالامال ہیں ان کا بڑا انحصار پہلے بھی سمندری تجارت پر تھا اور آج بھی ہے۔

چین کے لئے پاکستان کی لوکیشن ایک ایسی آئیڈیل لوکیشن ہے جس پر دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ بحری اور بری راستوں کا ایک سہانا مستقبل چین کے رہنماؤں کو صاف نظر آ رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ چین گوادر بندرگاہ اور گوادر سے لے کر خنجراب تک ریل اور روڈ نیٹ ورک کی تعمیر کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہے۔ وزیراعظم نے چند روز پہلے حویلیاں میں جس روڈ نیٹ ورک کا افتتاح کیا تھا، وہ اسی میگا پراجیکٹ کا ایک حصہ ہے۔

اگر حالات سازگار رہے تو آئندہ پانچ سات برسوں میں پاکستان کے سارے صوبوں سے گزرتی ہوئی یہ عظیم شاہراہ جس کو نئے سلک روٹ کا نام دیا گیا ہے پہلے گوادر (بلوچستان) سے شروع ہوگا، پھر سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سے گزرتا ہوا خنجراب تک چلا جائے گا۔ اس کی تعمیر سے لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار ملے گا اور جب یہ تعمیر مکمل ہو جائے گی تو پاکستان کی اندرونی اور بین الاقوامی تجارت کے لئے بھی ایک ویسی ہی شاہرگ ثابت ہوگی جس کا شور اور شہرہ ہم نے صدر ایوب خان کے دور میں RCD ہائی وے کی تعمیر کے ایام میں سنا تھا کہ یہ شاہراہ پاکستان، ایران اور ترکی کو زمینی راستوں سے باہم مربوط کر دے گی۔۔۔ آج یہ حقیقت ہمارے سامنے ہے۔

چین نہ صرف پاکستان میں اس نئے سلک روٹ پر سرمایہ کاری کررہا ہے بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک اور خطوں میں بھی ایسے ہی پراجیکٹس پر کام کررہا ہے۔ سچ کہا جاتا ہے کہ جس نے ہاتھی رکھنے ہوں وہ اپنی حویلیوں کے دروازے اونچے اور کھلے رکھتا ہے۔

لیکن ان سارے مثبت اشاروں (Indicators) میں ایک ایسا بڑا منفی انڈی کیٹر بھی پوشیدہ ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ اشارہ بحیرۂ عرب میں چینی بحریہ کی آمد ہے جو گوادر پورٹ کی آئندہ تعمیر و ترقی میں سامنے دیوار پر لکھی نظر آ رہی ہے۔

قارئین کو اگر ماضی ء قریب (1980ء کا عشرہ) کے افغان جہاد میں سوویت یونین کے عزائم اور پھر امریکہ کے کاؤنٹر عزائم کی تفصیل سنانے لگوں تو یہ ایک سعی ء لا حاصل ہوگی۔ہم خوب جانتے ہیں کہ امریکہ کو ابھی صرف تین عشرے پہلے روس کا افغانستان تک آنا بھی سخت ناگوار گزرا تھا حالانکہ افغانستان، بحیرۂ عرب سے کوسوں دور تھا۔ بلوچستان سے گزر کر ہی روس نے گرم پانیوں تک جانا تھا اور بلوچستان کوئی ایسا تر نوالہ نہیں تھا کہ امریکہ کو اس کی خبر نہ تھی۔ لیکن امریکی حکمرانوں نے روس کے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا کہ روس کی منزل افغانستان نہیں، مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر ہیں۔ پاکستان، نئے سلک روٹ کے اس خطرے کو اگر نہ بھی بھانپے تو امریکہ/ یورپ والے تو بھانپ رہے ہیں!

یہ حقیقت بھی قارئین کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ خود سوویت یونین میں تیل اور گیس کی کمی نہ تھی۔ آج بھی روس کی گیس، سارے یورپ کی 40فیصد مانگ پوری کررہی ہے۔ لیکن امریکہ (اور اس کے یورپی اتحادی) روس سے اتنے سہمے ہوئے تھے کہ انہوں نے دنیا کے واحد اسلامی ملک کی نیو کلیئرائزیشن قبول کرلی لیکن روسیوں کو بحیرۂ عرب تک نہ آنے دیا۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ 1980ء کے عشرے میں اگر امریکہ کو افغان جہاد میں سوویت یونین کی شکست کے آثار نظر نہ آتے تو وہ اپنے بحری بیڑوں کو کراچی تک ضرور لاتا اور پھر وہاں سے سارے بلوچستان کو عبور کرتا ہوا سیدھا ہلمند اور قندھار میں پڑاؤ ڈال کر دنیا کی دوسری سپرپاور کے سامنے دوبدو کھڑا ہو جاتا۔1960ء کے عشرے کے اوائل کو یاد کیجئے صدر کینیڈی نے خروشچیف کو کیوبا تک آنے سے روک کر دنیا کی پہلی جوہری وار کا خطرہ مول لے لیا تھا۔

امریکہ، گوادر پورٹ کو ڈویلپ کرنے کی راہ میں ایک مدت تک حائل رہا۔ ہر پاکستانی اس بات سے باخبر ہے کہ ایسا کرنے میں امریکہ کے مفادات کیا تھے۔وہ تو ایران۔ پاکستان۔ انڈیاگیس پائپ لائن کی تعمیر میں آج تک رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ چین اگر پاکستان میں 42ارب ڈالر کی لاگت سے کوئی سلک روٹ تعمیر کررہا ہے تو کیا ایسا کرنا، امریکہ کے سٹرٹیجک مفادات سے براہ راست متصادم نہیں؟

آج گوادر میں چینی بحری جہاز بھی آتے ہیں اور روسی بحریہ کے اکا دکا جہاز بھی اس پورٹ پر کال کرنے لگے ہیں۔ کل یہ ’’کالیں‘‘ بڑھ کر معمولی بن جائیں گی اور جو خواب خروشچیف ، برزنیف، بورس یلسن اور گوربا چوف کے زمانے میں پورا نہیں ہوا تھا، وہ پوٹن کے زمانے میں پورا ہو جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں چین کے اس میگا پراجیکٹ کو روس کی مکمل تائید بھی حاصل ہے!

گوادر کو خنجراب تک ملانے والی یہ نئی شاہراہ قراقرم ہائی وے کے بعد پاکستان میں زمینی مواصلات کا دوسرا معجزہ (Marvel) ہو گا۔ لیکن اس پر اربوں ڈالر لاگت کا فائدہ چین کو تبھی ہوگا جب گوادر پورٹ پر چینی آئل ٹینکروں کی گہما گہمی رہنے لگے گی اور دوسری قیمتی معدنیات سے بھرے ٹینکر گوادر سے اتر کر براستہ حویلیاں، چین چلے جائیں گے۔ نقشے پر دیکھیں تو سنکیانگ کے یارقند اور شنگھائی کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہے۔ایک شہر چین کے انتہائی مغرب میں ہے اور دوسرا انتہائی مشرق میں۔ لیکن چین نے اپنے ہاں سنکیانگ (یارقند) کو اپنے مشرقی حصے (شنگھائی) سے ملانے کے لئے بڑی بڑی سڑکوں کا ایک وسیع نیٹ ورک پہلے ہی تعمیر کر رکھا ہے۔

اب چند اور زمینی حقائق کو دیکھئے۔۔۔ چین وہ قوت ہے جو مستقبل قریب میں امریکہ کی حریف بننے والی ہے۔ دوسرے لفظوں میں چین اور امریکہ جو آج ایک دوسرے کے کمرشل دوست ہیں، آنے والے کل میں ملٹری رقیب (Military Rivals) بننے والے ہیں اور اس رقابت کے آثار اگر آج نیم وا ہیں تو کل واشگاف ہونے والے ہیں۔ پاکستان اس رقابت میں چین کے ساتھ کھڑا ہوگا، امریکہ کے ساتھ نہیں۔اس لئے امریکہ کا سارا زور پاکستان کو کمزور کرنے میں لگا ہوگا۔ اور پاکستان تو پہلے ہی ’’کانگڑی پہلوان‘‘ ہے۔

چین بڑی تیزی کے ساتھ افغانستان میں آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔صدر افغانستان اشرف غنی چین کا دورہ کر چکے ہیں اور اگرچہ چین نے کہا ہے کہ چینی ٹروپس کبھی افغانستان میں قدم نہیں رکھیں گے لیکن افغانستان چاہتا ہے کہ چین اور پاکستان کی باہمی دوستی کو ایکسپلائٹ کرے اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاک چین کارڈ استعمال کرے۔۔۔ لیکن یہ دوسرا موضوع ہے۔ میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ افغانستان کہ جہاں 13برس تک امریکہ کا عمل دخل رہا وہ آنے والے 3برسوں میں ختم ہو جائے گا اور اس کی جگہ چینی اور روسی اثرات لے لیں گے۔افغانستان کی سیاسیات کا اونٹ آئندہ برسوں میں کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ ایک نہایت الجھا ہوا سوال ہے لیکن اس امر میں کوئی الجھاؤ نہیں کہ گوادر، آنے والے عشرے میں عالمی تجارت کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ اگر کمرشل تناظر میں دبئی کا ہمسر نہ بھی بن سکے تو عسکری تناظر میں قطر کا ہمسر ضرور بنے گا کہ جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ کا ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر ہے۔( اس کمانڈ کا Main HQ ٹمپا ، فلوریڈا میں ہے) آج بھی چین کے لئے درجنوں آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کی راہ شنگھائی جا رہے ہیں۔ لیکن اگر یہی ٹینکر، گوادر پورٹ پر آف لوڈ ہو کر چینی کنٹینروں کی شکل میں خنجراب کی راہ چین میں داخل ہو جائیں تو تصور کیجئے چین کو کتنا فائدہ ہوگا اور پاکستان کو اس راہداری کے عوض کتنا زرمبادلہ ملے گا۔

لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ یہ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلے گا؟ اگر نہیں تو امریکہ کیا کرے گا؟۔۔۔ بس یہی وہ سوال ہے جو میں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ مستقبل قریب میں افغانستان اور ایران میں امریکی اثرورسوخ کا احیاء شائد ممکن نہ ہو۔ چنانچہ راقم السطور کا خیال ہے کہ امریکہ، بھارت کی راہ پاکستان کو تنگ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسے جدید اسلحہ سے نہال کر دے گا اور اقتصادی امداد سے لبالب کر دے گا۔ چین نے بھارت میں انڈین ریلوے کی توسیع کے جو منصوبے شروع کئے ہیں، ان کو کاؤنٹر کرنے کے لئے امریکہ اپنے کئی منصوبے شروع کر دے گا، اپنے اسلحہ سازوں کو بھارت میں سرمایہ کاری پر لگا دے گا، اروناچل پردیش اور لداخ میں چین کے خلاف بھارت کے ان منصوبوں کی تکمیل کا آغاز کر دے گا جو آج ناقابلِ عمل تصور کئے جاتے ہیں۔ ان منصوبوں کی تفاصیل بھی دلچسپ ہیں، لیکن پھر کبھی سہی۔

امریکہ اور پاکستان ایک طویل عرصے سے اپنے اپنے مطب میں دوستی اور دشمنی کی معجون بناتے رہے ہیں۔ گوادر پورٹ کی ڈویلپمنٹ ، امریکہ کے سٹرٹیجک مفادات کی راہ کا ایک بڑا پتھر بنے گی۔ گزشتہ کئی عشروں سے امریکہ ماضی کے کمیونزم یا سوشلزم کے سامنے بند باندھنے پر اپنے ہزاروں ٹروپس کی قربانی دے چکا ہے۔ ویت نام کو یاد کیجئے۔60000امریکی اس جنگ میں صرف اس لئے مارے گئے تھے کہ امریکہ، کمیونزم کی یلغار روکنا چاہتا تھا۔ عراق اور افغانستان میں بھی اس کے ہزاروں فوجی مارے گئے اور ہزاروں زخمی اور اپاہج ہو گئے۔ یہ درست ہے کہ اسے ان تمام جنگوں میں شکست کا سامنا ہوا، لیکن امریکہ ایک ایسی اندھی قوم ہے کہ اپنے جانی اور مالی نقصانات کی پرواہ نہیں کرتی۔ اس کے مقابلے میں چینی اور روسی اقوام کی بینائی کی آزمائش ہونا باقی ہے۔ خدا کرے کہ اس آزمائش کی جولانگاہ پاکستان کو نہ بننا پڑے۔

مزید : کالم


loading...