سیاست ضد اور انا کا کھیل نہیں ہے

سیاست ضد اور انا کا کھیل نہیں ہے

  



پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ روزفیصل آباد سے اپنے ’’پلان سی‘‘ کا آغاز کردیا۔2103ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف وہاں پر زوراحتجاج کیا گیا۔اس دوران مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکنان کے درمیان مختلف مقامات پر تصادم ہوا اور حالات کشیدگی اختیار کر گئے۔ نعرے بازی ہوئی، ڈنڈے برسائے گئے، ہاتھا پائی ہوئی یہاں تک کہ فائرنگ بھی کی گئی ۔تادم تحریرناولٹی پل پر فائرنگ سیتحریک انصاف کا کارکن حق نوازہلاک اور متعدد لوگ زخمی ہوچکے تھے۔پولیس کو اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی،وہ دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان بیچ بچاؤکی کوشش کرتی رہی،اس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے واٹر کینن کا استعما ل کیا۔لیکن دونوں جماعتوں کے کارکنان بے قابو اورآپے سے باہر نظر آئے،اسی وجہ سے کاروباری مراکز بھی بند رہے۔

عمران خان نے 30 نومبر کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 8 دسمبر کو فیصل آباد بند کرنے کا اعلان کیا تھا ، جس کی اگلے روز شاہ محمود قریشی نے وضاحت بھی جاری کی تھی کہ بند کرنے سے ان کی مراد شٹر ڈاؤن ہڑتال ہر گز نہیں ،وہ پر امن احتجاج کریں گے اور صرف سڑکیں بند کریں گے۔سوال یہ ہے کہ سڑکیں بند کرنے کے بعد بچے سکول کیسے جائیں گے؟ لوگ دفاتر کا رخ کیسے کریں گے؟ اپنی دوکانیں کھولنے کا خطرہ کیسے مول لیں گے؟ فیصل آباد میں سڑکیں بند کی گئیں، ٹائر جلائے گئے ، کسی نے زبردستی دکانیں کھلوانے کے لئے ڈنڈوں کا استعمال کیا تو کسی نے طاقت کے بل پر انہیں بند کرانے کی کوشش کی، تاجر حضرات کوبحالت مجبوری اپنے کاروبای مراکز ضرور بند کرنے پڑے،اور بالآخر فیصل آباد ’’بند‘‘ہو گیا۔

فیصل آباد روانگی سے قبل عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ تو بنایا ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ دھمکی بھی دی کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو پھر وہ دیکھے گی کہ وہ لاہور میں کیا کرتے ہیں۔یعنی ابھی ایک ہنگامہ ختم نہیں ہو ا ، سب فیصل آباد میں درپیش حالات اور ان کے اثرات سے خائف ہیں ، تشویش میں مبتلا ہیں اور عمران خان اگلے آتش فشاں کے پھٹنے کے انتظار میں مبتلا کر کے چل دئیے۔عمران خان نے جو تحریک پر امن کہہ کر 14 اگست کو شروع کی تھی، وہ اب حدود و قیود سے نکلتی معلوم ہو رہی ہے،دھرنے سے نکل کر جلسوں سے ہوتی ہوئی یہ تحریک اب ہڑتالوں تک پہنچ چکی ہے ۔عمران خان شائد یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، ملک بھی بند کر سکتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اگرعمران خان18دسمبر کو پورا ملک بند کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ملکی خزانے کو64کروڑ 38لاکھ ڈالرز یا64ارب 38کروڑ روپے کا نقصان ہوگا،صرف فیصل آباد میں ایک دن کی ہڑتال سے قومی خزانے کو سوا بارہ ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔یعنی ہماری کمزور معیشت کو ابھی مزید جھٹکے برداشت کرنے پڑ سکتے ہیں۔

فیصل آباد میں تصادم اور ایک قیمتی جان کے ضیاع کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، ایسے احتجاج کی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی،جب بات سڑکوں پر نکلنے کی ہو گی تو لو گ آمنے سامنے آئیں گے، ٹکراؤ ہو گا، گرما گرمی ہو گی، جذبات عقل پر حاوی ہوں گے تو خیر کی امید بھلا کیسے کی جا سکتی ہے؟موجودہ حالات سے تو شیخ رشید کی آگ لگانے، گھیرا ؤکرنے اور جلانے کی خواہش پوری ہوتی نظر آ رہی ہے، المیہ یہ ہے کہ وہ اب بھی اسی بات پر قائم ہیں۔نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے یہی کہا کہ کوئی ایک تھپڑ مارے گا تو وہ اس کو دو تھپڑ ماریں گے۔عمران خان اس طریقے سے حکومت پر دباؤ قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔

لیکن اس وقت تو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی کھلی کوشش کی جا رہی ہے،انتشار پھیلایا جا رہا ہے، دنگے فساد کو ہوا دی جا رہی ہے۔ یہ کس قسم کا احتجاج ہے؟فیصل آباد میں ہونے والے تصادم کی ذمہ داری کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کارکن تو اپنے رہنماؤں کی اپیلوں پر حد سے آگے نکل جانے کی استطاعت رکھتے ہیں، وہ اندھی تقلید پر یقین رکھتے ہیں،ان کی تربیت پر تو کسی بھی جماعت نے کبھی توجہ نہیں دی، ایسے میں جب اشتعال انگیز بیان بازی کی جاتی ہے تو ان کے جذبات بے قابو ہوہی جاتے ہیں۔دوسری طرف وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ احتجاج اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے،مذاکرات سے پہلے تحریک انصاف کو ماحول ساز گار بنانا ہو گا ۔ان حالات میں آگے کیسے بڑھا جا ئے گا؟

ہماے سیاست کے کھلاڑیوں کو کم از کم اب تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ سیاست کا کھیل ضد اور انا سے نہیں کھیلا جاسکتا، بلکہ یہ تو مصلحت اور مفاہمت کے اصولوں پر قائم ہے، سیاست میں جھک جاناہرگز کمزوری کی علامت نہیں ہے،اس میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی، خدارا اس کھیل کو انہی اصولوں کے مطابق کھیلیں، یہاں مرنے مارنے والے حالات پیدا نہ کئے جائیں۔یہ ہمار ملک ہے، کوئی کشتی کا اکھاڑا نہیں ہے، جہاں دو پہلوانوں کے درمیان کھینچا تانی جاری ہے، دونوں ایک دوسرے کو پچھاڑنا چاہتے ہیں۔

حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا ہو گی،فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا، بات چیت کرنی ہو گی،اس معاملے کو جذبات کی بجائے ہوش سے سلجھانا ہو گا۔ یہ جنگ ان کے بیچ کی نہیں ہے، پورا ملک اس کا شکار ہو رہا ہے،اس کی سا لمیت اور بقامیں ہی ہم سب کی سلامتی ہے۔بہت سے خوش آئند فیصلے کئے جا چکے ہیں، چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہو چکا ہے،الیکشن ٹربیونل نے گزشتہ روز حلقہ این اے 122 میں تھیلے کھولنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے،عدالتیں اور ٹربیونل آزادانہ اپنا کام کر رہے ہیں، جلد ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا،تو پھر انتشار پھیلانے کی بھلا کیا ضرورت ہے، جب آئینی راستہ موجود ہے تو قانونی حدود پھلانگنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے،بے گناہ جانوں کی قربانی کیوں دی جا رہی ہے ، لڑائی جھگڑا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ فریقین حب الوطنی کا اعلیٰ معیار قائم کریں اورپاکستان کے حق میں فیصلہ کریں۔

مزید : اداریہ


loading...