سعودی عرب عورتوں کی جبری شادیوں میں اضافہ

سعودی عرب عورتوں کی جبری شادیوں میں اضافہ

  



ریا ض (آن لائن)سعودی عرب میں تحجیر(سودے بازی) کی شادیوں میں خطر نا ک حد تک اضا فہ ہو گیا ۔تحجیر سے مراد کسی خاتون کے مرد رشتے دار کا اس کے ولی کے ساتھ اس کی مرضی ومشاورت کے بغیر ایسا سمجھوتا ہے جس کے تحت وہ مرد اس ولی کو پابند بنا دیتا ہے کہ وہ اس خاتون کی اس کے ساتھ ہی شادی کرے گا اور اس طرح وہ کسی اور مرد سے بیاہی نہیں جاسکتی ہے۔سعودی عرب کی عدالتوں نے گذشتہ دو سال کے دوران تحجیر کے نوکیسوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ان میں سے تین کیس گذشتہ چالیس ایام کے دوران رپورٹ ہوئے ہیں۔سعودی عرب کی قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق کے جنرل سیکرٹری خالد الفخری کا کہنا ہے کہ تحجیر اسلامی ،بین الاقوامی اور قومی قانون کے خلاف ایک جْرم ہے۔ انھوں نے کہا کہ درحقیقت یہ انسانی اسمگلنگ کی ایک شکل ہے اور اس طرح متاثرہ عورت کی شناخت ،حقوق اور آزادی پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے۔ان کے بہ قول عدالت میں تحجیر کا مقدمہ دائر کرنے والی عورت دراصل اس غیر اسلامی روایت کو مسترد کرتی ہے اور وہ معاشرے کی جہالت کی شکار ہوتی ہے۔اس طرح کے کیس دراصل شادی کے معاہدے پر دستخط سے قبل عدالتوں میں دائر کیے جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ \'\'متاثرہ عورت عدالت سے رجوع کر کے یہ موقف اختیار کرسکتی ہے کہ وہ تحجیر کی متاثرہ ہے اور شادی کے لیے کبھی اس کی رضامندی حاصل نہیں کی گئی تھی\'\'۔اگر اس عورت کے الزامات درست ثابت ہوجائیں توعدالت ولی (گارڈین) کو یہ سمجھانے کی کوشش کرے گی کہ وہ اپنے اس اقدام سے باز رہے۔اگر وہ اس بات پر مْصر رہتا ہے کہ یہ شادی ضرور ہونی چاہیے تو پھرعدالت اس کو حقِ ولایت سے محروم کرسکتی ہے اور پھر یہ ذمے داری کسی اور کو سونپ دے گی۔

سعودی عرب کے سینئر علماء کی کونسل نے 2005ء میں ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں کہا تھا کہ تحجیر اور جبری شادیوں کی اسلام میں اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ دین اسلام کی شادی کے لیے مقرر کردہ شرائط کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔علماء کا کہنا تھا کہ تحجیر کا ارتکاب کرنے والے اللہ کے نافرمان ہیں کیونکہ وہ آج بھی جاہلانہ روایت کی پیروی کررہے ہیں۔انھوں نے اپنے فتوے میں یہ کہا تھا کہ تحجیر کے مرتکبین کو جیل میں ڈال دیا جائے اور انھیں اپنے جرم کی معافی تک رہا نہ کیا جائے۔

مزید : عالمی منظر


loading...