گیس لوڈشیڈنگ بند نہ ہوئی تو سڑکوں پر نکل آئینگے،مزنگ کے مکینوں کا اعلان

گیس لوڈشیڈنگ بند نہ ہوئی تو سڑکوں پر نکل آئینگے،مزنگ کے مکینوں کا اعلان ...

  



                                           لاہور (لیاقت کھرل) گیس کی لوڈشیڈنگ کو دور نہیں کرنا تو گیس حکام سردیوں کے تین ماہ میں گیس کے بلوں میں کم سے کم 50 فیصد کمی کریں لوڈشیڈنگ دور کرنے کے لئے اقدامات نہ کیے گئے تو پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا اور ایوان وزیر اعلیٰ کا گھیراﺅ کیاجائے گا اور اس میں گیس کے بلوں کو نذر آتش کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار شہر کی دیگر آبادیوں کی طرح گیس کی لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے مزنگ کے مکینوں نے ”پاکستان“ کے سروے میں کیا اس موقع پر مزنگ کی آبادیوں محلہ پیشیاں اور محلہ منڈھار اور بھونڈ پورہ کے مکینوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ سے گیس کی شدید ترین قلت ہے، بلکہ گیس کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، خواتین کا کہنا تھا کہ گھروں کے چولہے دن بھر ٹھنڈے رہتے ہیں اور رات دس بجے کے بعد گیس آتی ہے مکینوں حاجی ناصر علی ، اشرف خان، ستار علی اور حاجی اکرم ، اصغر علی اور دیگر نے بتایا کہ ان کی آبادیوں میں گیس کی شدید ترین قلت ہے جس کے باعث بچے بغیر ناشتے کے سکول جاتے ہیں جبکہ عمر رسیدہ افراد بازاری کھانوں سے پیٹ اور معدہ سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں گیس کمپنی کے دفتر میں جائیں تو کوئی بات تک نہیں سنتا، جبکہ اس حلقہ سے ووٹ لے کر ایوانوں میں جانے والے ارکان اسمبلی نے بھی منہ موڑ رکھا ہے۔ حاجی اعظم، محمد اسلم ، انور خان اور دیگر نے کہا کہ حکمرانوں کو مخالف سیاسی جماعتوں کے دھرنوں اور احتجاج سے ہی سبق سیکھ لینا چاہیے، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرنا چاہیے گرمیوں میں بجلی کی لوشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب سردی کے شروع ہوتے ہی گیس کی لوشیڈنگ شروع ہو گئی ہے خاتون اقراءاسلم نے کہا کہ گیس حکام سردیوںمیں گیس کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر سکتے تو سردیوں میں کم سے کم گیس کے بلوں میں بھی 50 فیصد کمی کریں ایک طرف گیس کے بھاری بل ادا کر رہے ہیں تو دوسری جانب 120 سے 125 روپے فی کلو ایل پی جی خرید کر کھانے تیار کر رہے ہیں مزنگ کے محلہ منڈھار، چاہ پچھواڑہ کی رہائشی خاتون مسز عقیل اور کلثوم اختر، مسز نواز نے کہا کہ ایک کلو ایل پی جی (گیس) سلنڈر میں ڈلوا کر لائیں تو اگلے دن پھر ایل پی جی لینا پڑتی ہے ایل پی جی والے اصل ریٹ سے 5 سے 10 روپے اضافی وصول کر رہے ہیں ، لیکن ایل پی جی کم دیتے ہیں۔ اس میں حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کو دور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اس موقع پر مکینوں نے کہا کہ حکمرانوں نے کسی قسم کے اقدامات نہ کیے تو مخالف سیاسی جماعتوں کی طرح گیس کی لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے مکین بھی سڑکوں پر نکل آئیں گے اس میں اس علاقہ سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ منتخب ہونے والے ارکان ایوانوں میں جانے کے بعد آج تک خبر تک نہیں لی ہے جس کے باعث گیس حکام بھی ان کی بات نہیں سنتے ہیں۔ اس موقع پر مکینوں نے دھمکی دی کہ حکمرانوں اور گیس کمپنی کے حکام نے گیس کی لوڈشیڈنگ کو دور کرنے کے لئے اقدامات نہ کیے تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا اور اس میں پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائےگا جبکہ ایوان وزیر اعلیٰ کا گھیراﺅ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...