دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اچھے اور برے دہشتگردوں کی بحث سے باہر نکلنا ہو گا ،بھارت

دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اچھے اور برے دہشتگردوں کی بحث سے باہر نکلنا ہو گا ...

                                                  نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک +اے این این)بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ خطے سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اچھے اور برے دہشتگردوں کی بحث سے باہر نکلنا ہو گا،دہشتگردوں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی فنڈنگ اور تربیت روکنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،سارک ممالک کو دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔نئی دہلی میں ساو¿تھ ایشئین یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سشما سوراج نے نے دہشتگردی کو سارک ممالک کے لئے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیاءکے تمام ممالک کو اس خطرے کا ادراک کرنا ہو گا۔انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب اچھے اور برے دہشتگردوں کے تصور کو ترک کرنا ہو گا،سب دہشتگردایک جیسے ہوتے ہیں ان میں کوئی اچھا نہیں ہوتا۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے تمام ممالک اور ایک دوسرے کی سلامتی اور فلاح کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت فوج پر مجاہدین کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا ءکے تمام ممالک کے درمیان حقیقی تعاون سے ہی دہشتگردی جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔خطے میں پائیدار ترقی کے لئے امن و استحکام ناگزیر ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشتگردی خطے کے تمام ممالک کے لئے سنجیدہ چیلنج ہے اس سے تب ہی نمٹا جا سکتا ہے جب ہم اچھے اور برے دہشتگردوں کی بحث سے باہر نکلیں گے۔ہمیں خطے میں ترقی کے لئے پر امن اور محفوظ ماحول بنانا ہو گا۔ہمیں دہشتگرد سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ دہشتگردوں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی فنڈنگ اور تربیت کو روکنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انھوں نے کہا کہ سارک ممالک کو منشیات کی سمگلنگ،جعلی کرنسی اور ہتھیاروں کی سمگلنگ ،انسانی سمگلنگ اور سائبر کرائم کی روک تھام کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں جرائم اور دہشتگردی کے خاتمے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں سمیت تمام معاملات پر انٹیلی جنس معلومات اور ڈیٹا کے تبادلے کی ضرورت ہے۔سشما سوراج نے کہا کہ بھارت کو امید تھی کہ نیپال میں ہونے والے سارک سربراہی کانفرنس میں سارک ممالک کے درمیان مواصلاتی روابط کے فروغ کے لئے سڑک اور ریلوے لنک کا معاہدہ ہو جائے گا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا تاہم سارک ممالک کے وزراءٹرانسپورٹ 3ماہ کے اندر اجلاس کر کے اس معاہدے کو حتمی شکل دے دیں گے۔

مزید : علاقائی


loading...