فیصل آباد میدان جنگ بن گیا ،تحریک انصاف کا کارکن جاں بحق

فیصل آباد میدان جنگ بن گیا ،تحریک انصاف کا کارکن جاں بحق

                                 فیصل آباد(بیورورپورٹ)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے فیصل آباد کوبندکئے جانے کے موقع پر گزشتہ روزپی ٹی آئی اورمسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے تصادم میں تحریک کاایک کارکن جاںبحق اورایک درجن زخمی ہوگئے جبکہ تین پولیس اہلکاربھی زخمی ہوئے۔کارکن کی ہلاکت کے خلاف تحریک انصاف نے کراچی،لاہور اوردیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ آج یوم سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق فیصل آباد سے گذشتہ روز پی ٹی آئی کے پلان سی کا آغاز ہوا جس کی خفیہ پلاننگ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت نے کر رکھی تھی اور ہر طے شدہ پوائنٹ پر ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں جس کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکن ناولٹی چوک‘ جھال چوک‘عبداللہ پور چوک‘سرگودھا روڈ‘ الائیڈ موڑ‘ ملت چوک‘ کچہری بازار چوک‘ گھنٹہ گھر چوک‘ نڑوالا روڈ‘جھنگ روڈ‘ چناب چوک پر کارکن صبح سویرے ہی پہنچ گئے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ناولٹی چوک پر میاں فرخ حبیب صدر آئی ایس ایف‘ چناب چوک میں میاں محمد علی سرفرازاور دیگر مقامات پر شیخ شاہد جاوید‘ مون کاسترو‘ شہباز کسانہ‘ ممتاز چیمہ‘ بریگیڈیئر (ر) ممتاز کاہلوں‘ رانا اویس‘ جہاں زیب امتیاز گل‘عبداللہ دمڑ‘ ظفر اقبال سندھو‘تنویر ریاض‘ رانا اویس‘ عامر جٹ اور چوہدری عظیم اپنے ساتھی کارکنوں کے ہمراہ احتجاج کر رہے تھے ناولٹی چوک چونکہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان کے گھر کا قریبی علاقہ بھی ہے اور وزیر مملکت چودھری عابد شیر علی کا حلقہ نیابت بھی ہے‘ ان کی رہائش گاہ بھی ناولٹی چوک سے زیادہ دور نہیں اس لحاظ سے ناولٹی چوک ”ایک حساس سیاسی چوک “خیال کیا جاتا تھا جہاں صبح ہی کارکن جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری ڈی ایس پی خالد ملک کی قیادت میں موجود تھی جن کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا ،پی ٹی آئی کے کارکنوں کی وہاں تعداد بڑھتی دیکھ کر پولیس نے ان کے خلاف واٹر کینن کا بے وقت استعمال کیا تو کارکن بھیگتے ہوئے آگے پیچھے ہونے لگے اور مشتعل نظر آنے لگے اس دوران مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ان پر ہلہ بول دیا پھر فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں‘ اسی دوران مبینہ طور پر شاہد نامی ایک شخص نے ہجوم کی طرف سیدھی گولیاں چلانا شروع کر دیں جس کے نتیجے میں محلہ ڈی ٹائپ کالونی کا نوجوان حق نواز زخمی ہو کر گر پڑا اور پھر ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گیا اس دوران متعدد مزید کارکن بھی زخمی ہو گئے ۔جیسے جیسے لوگوں کو اس سانحہ کی خبر ملتی رہی اشتعال پھیلتا چلا گیا اور ہر طرف سے ایک دوسرے پر حملوں کی اطلاعات ملنے لگیں اور سارا شہر سخت کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا‘ ملت چوک‘ سرگودھا روڈ‘ الائیڈ چوک میں بھی ہنگامے پھوٹ پڑے گھنٹہ گھر چوک میں لیگی کارکنوں نے جمع ہو کر تحریک انصاف کے بینرز اور جھنڈے وغیرہ پھاڑنے شروع کر دیئے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے رہے مگر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی کبھی کبھار دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان میں آ کر تصادم کو زبان سے اور کچھ حد تک ہاتھوں سے روکنے کی کوشش کرتی اور پھر خاموش کھڑی ہو جاتی رہی ۔یہی صورتحال شہر کے مختلف پوائنٹس پر نظر آئی‘ شہر میں کشیدگی او ر تصادم کی فضا نے وہاں خوف و ہراس پیدا کر دیا چنانچہ جن تاجروں نے اپنی دکانیںاپنے طور پر یا اپنی کسی تنظیم یا ضلعی یا پولیس انتظامیہ کے پریشر یا حفاظت کی یقین دہانی کے باعث پہلے کھول بھی لی تھیں وہ بھی بند کر کے چلے گئے۔ گھنٹہ گھر چوک جہاں عمران خان کے خطاب کرنے کا پروگرام تھا وہاں ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ رات ہی باﺅنڈری کو تالے لگا دیئے تھے وہاں لیگی کارکنوں نے قبضہ کر لیا پی ٹی آئی کے خیر مقدمی بینرز اور فلیکس پھاڑ دیئے اور ان کے کارکنوں کوچوک سے نکلنے پر مجبور کر دیا وہاں قابض لیگی کارکنوں نے سابق ایم پی اے خواجہ اسلام اور وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی بڑی بڑی تصاویر کی فلیکس اٹھا رکھی تھیں اور رو عمران رو کے نعرے لگا رہے تھے جہاں وہ کافی دیر تک قابض رہے اور بعدازاں اپنی قیادت کی ہدایت پر گھنٹہ گھر چوک سے واپس چلے گئے‘اس دوران میںپی ٹی آئی کے کارکن وہاں دوبارہ پہنچنا شروع ہو چکے تھے اور ایک بار پھر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے چوک میں ڈیرے ڈال دیئے جہاں عمران خان کا خطاب تھا‘ دوسری طرف سمندری روڈ ناولٹی چوک میں پی ٹی آئی کے کارکن حق نواز کے جاں بحق ہونے کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح آنا فانا شہر بھر میں پھیل گئی جس نے مظاہرین میں مزید اشتعال پیدا کر دیا اور شہر کے مقامات سے پی ٹی آئی کے کارکن بھی ناولٹی چوک میں پہنچنا شروع ہو گئے اور حق نواز کی نعش لے کر رانا ثناءاللہ خاں کے ڈیرہ کی طرف بڑھنے لگے جبکہ پولیس کی بھاری نفرتی ان کے ڈیرہ اور فیملی کی حفاظت کیلئے ڈیرہ پر پہنچ گئی‘لیگی کارکنوں نے بھی گاڑی میں پتھر ڈال کر وہاں جمع کر لئے اور ہاتھوں میں لے کر باہر حفاطت کیلئے کھڑے ہو گئے کچھ دیر بعد پی ٹی آئی کے کارکن بھی رانا ثناءاللہ خان کے ڈیرہ کے قریب پہنچ گئے اور وہاں نعرے بازی شروع کر دی پولیس نے انہیں روکنے کیلئے ڈیرہ کے اردگرد خاردار تاریں لگادیے اور آگے بڑھنے والے پی ٹی آئی کے کارکنو ںپر آنسو گیس کے شیل پھینکنے شروع کر دیئے اور اس وقت عمران خان اپنے ساتھ ایک طویل قافلہ لئے جھنگ روڈ پر موجود تھے اور وہ اپنے مقتول کارکن حق نواز کے اہل خانہ سے تعزیتی کیلئے ان کے گھر واقع ڈی ٹائپ کالونی کی جانب سفر کر رہے تھے جہاں راستے میں جگہ جگہ لوگوں کی بھاری تعداد سڑک کے کنارے اور مختلف چوکوں میں عمران خان کے استقبال کیلئے موجود تھی جبکہ گھنٹہ گھر چوک اور اس کے اردگرد بازاروں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو کر عمران خان کی منتظر تھی۔

مزید : صفحہ اول


loading...