این اے 122 پی پی 147،انتخابی ریکارڈ کے معائنہ کیلئے لوکل کمیشن مقرر

این اے 122 پی پی 147،انتخابی ریکارڈ کے معائنہ کیلئے لوکل کمیشن مقرر

  



                               لاہور(نامہ نگار) الیکشن ٹریبونل نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 122 کھولنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے انتخابی ریکارڈ کے معائنہ کے لئے لوکل کمیشن مقرر کردیا ہے ۔فاضل ٹربیونل نے پی پی 147لاہور کو دوبارہ کھولنے سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے شکست خوردہ امیدوار شعیب صدیقی کی متفرق درخواست بھی منظور کرلی ہے ۔فاضل ٹربیونل نے حلقہ این اے 122اور اس کے نیچے آنے والے حلقہ پی پی 147کے انتخابی ریکارڈ کے معائنہ کے لئے غلام مصطفی کو لوکل کمیشن مقرر کیا ہے جو اپنی کارروائی مکمل کر کے15روز میں رپورٹ ٹربیونل کو پیش کرے گا۔ تاہم انتخابی ریکارڈ کے معائنہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شامل نہیں ہوگا ۔جسٹس (ر) کاظم علی ملک پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 سے منتخب ہونے والے مسلم لیگ (ن ) کے ایم این اے موجودہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے خلاف دائر انتخابی عذرداری میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اورحلقہ پی پی 147سے مسلم لیگ (ن) کے محسن لطیف کے خلاف انتخابی عذرداری میں شعیب صدیقی کی متفرق درخواستیں منظور کرتے ہوئے گزشتہ روزاپنا فیصلہ سنایا کہ قو می اسمبلی حلقہ این اے 122 اور اسی حلقے سے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 147 میں ڈالے گئے ووٹوں کے تھیلے کھولے جائیں اور نادرا سے ووٹوں کی تصدیق کے بعد 15 روز میں رپورٹ الیکشن ٹریبونل کے روبرو پیش کی جائے۔یاد رہے کہ لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 سے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مدمقابل تھے جبکہ پی پی 147سے مسلم لیگ (ن) کے محسن لطیف اور پی ٹی آئی کے شعیب صدیقی کے درمیان مقابلہ ہوا تھا ،عمران خان اور شعیب صدیقی نے ان حلقوں سے اپنی شکست کے خلاف انتخابی عذرداریاں دائر کررکھی ہیں جن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان حلقوںمیں انہیں شکست دینے کے لئے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروںنے وسیع پیمانے پر دھاندلی کی اور ہزاروں جعلی ووٹ ڈالے گئے،اس حوالے سے عمران خان اور شعیب صدیقی نے ٹربیونل کے روبرو انتخابی ریکارڈ کے معائنہ کے لئے متفرق درخواستیں دائر کی تھیں ،جن پر 6دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جو گزشتہ روز فاضل ٹربیونل نے سنادیا ۔الیکشن ٹریبونل کے جج کاظم ملک نے حکم دیا ہے کہ ان دونوں حلقوں کے تمام انتخابی ریکارڈ کا معائنہ اور نادرا سے ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے بعد 15روز میں رپورٹ پیش کی جائے ۔تاہم اس عمل میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی شامل نہیں ہوگی ۔دوران سماعت سردار ایاز صادق کے بیٹے بھی موجود تھے جنہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ سردار ایاز صادق کے وکلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ٹربیونل کے سامنے دھاندلی کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔الیکشن ٹربیونل سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی عمران خان کی درخواست پر حلقہ 122کے انتخابی ریکارڈ کے معائنہ کا حکم دے چکا ہے اس سلسلے میں متعلقہ ریٹرننگ افسر کو ہدایات بھی جاری ہوچکی ہیں تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود عمران خان ریٹرننگ افسر کے پاس پیش نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے الیکشن ٹربیونل میں ریکارڈ کے معائنہ کے لئے ایک متفرق درخواست دائر کردی ،اب ایک قانونی ابہام پیدا ہوگیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور الیکشن ٹربیونل میں سے کس کے حکم پر عمل درآمد ہوگا ۔

مزید : صفحہ اول