آخر سانحہ ہو گیا، شیخ رشید نے سب سے پہلے اعلان کیا

آخر سانحہ ہو گیا، شیخ رشید نے سب سے پہلے اعلان کیا
آخر سانحہ ہو گیا، شیخ رشید نے سب سے پہلے اعلان کیا

  



تجزیہ چودھری خادم حسین

اس خدشے کا اظہار مسلسل کیا کہ حالات کو خراب ہونے سے بچایا جائے اور بہتر طریقے سے معاملات سلجھائے جائیں، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور فیصل آباد میں وہ کچھ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا جہاں تک فریق اول کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی روز سے صورت حال کو اس حد تک پہنچانے کی کوشش میں تھا اور تحریک انصاف کے چیئرمین سے بھی پہلے فرزند راولپنڈی اشتعال انگیز پروگرام کا اعلان کر دیتے تھے، شٹر ڈاﺅن اور شہر بند کرنے کا اعلان عمران خان سے پہلے شیخ رشید نے کیا تھا اور اب انہوں نے مذاکرات نہ ہونے کی بات کر دی ہے۔ حالانکہ اتنا نقصان اور خرابی ہو جانے کے بعد بھی بات چیت ہی سے مسئلہ حل ہو گا، فیصل آباد میں جو بھی ہوا یا تادم تحریر ہو رہا ہے۔یہ ٹی وی پر لائیو کوریج کی صورت میں دکھایا جا رہا تھا اور ہم اس سے مستفید ہو رہے تھے، ہوائی فائرنگ اور ایک کارکن کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی الیکٹرونک میڈیا نے دی لیکن ہمارے لئے تعجب کی بات یہ تھی کہ اس سے پہلے ہی شیخ رشید کا بیان آ گیا کہ ”ہمارا ایک ورکر مارا گیا ہے“ الیکٹرونک میڈیا سے اس نوجوان کارکن کے زخمی ہونے، پھر ہسپتال لے جانے اور اس کے بعد اس کے جاں بحق ہونے کی اطلاع وقفے سے آئی لیکن شیخ رشید یقینا اتنے باخبر ہیںکہ سب سے پہلے انہوں نے کہا”ہمارا ایک کارکن مر گیا ہے“۔

جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو وہ بھی غصے میں ہیں اور انہوں نے فیصل آباد پہنچ کر ایف آئی آر درج کرانے کا ذکر کیا، یہاں واقعات تحریر کرنا غیر ضروری ہوگا کہ الیکٹرونک میڈیا نے لائیو کوریج کی۔ صبح سے شروع ہونے والے احتجاج کو آخر تک دکھایا کہ کہاں کیا ہوا اور کس نے کیا کیا یہ الگ بات ہے کہ مختلف چینلوں نے اپنے وسائل اور پالیسی کے مطابق کوریج کی اور پوری دنیا کو موقع پر ہونے والے واقعات کو دکھایا۔

ہمیں یہ گزارش کرنا ہے کہ جب سے یہ احتجاجی سلسلہ شروع ہوا تب سے ان سطور میں بار بار اس طرف توجہ دلائی گئی کہ ایسی محاذ آرائی کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ ہم حکومت اور انتظامیہ کی بات کریں گے کہ گزشتہ روز سے قبل جتنے بھی احتجاج ہوئے اور کنٹینر پر جو کچھ روز ہوتا چلا آ رہا ہے، اس سے تعرض نہ کیا گیا حتیٰ کہ 30نومبر کا دن بھی گزر گیا اور بدخواہوں کو مایوسی ہوئی۔ اس کے بعد بھی یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ احتجاجی سلسلہ بھی پرسکون ہوگا اور اس دوران فریقین مذاکرات کی میز پر بہت کچھ طے کر لیں گے۔ اس دوران یہ بھی نشاندہی کی جاتی رہی کہ ایک سلسلے کے تحت مختلف مواقع پر مختلف اطراف سے جنرل (ر) پرویز مشرف کی حمائت ہو رہی ہے اور اس محاذ آرائی سے وہ مطمئن ہیں کہ ان کو فائدہ پہنچ رہا ہے، اس کے باوجود معاملات کو طے کرنے میں تساہل سے کام لیا گیا، جس کی وجہ رموز مملکت ہوگی۔

فیصل آباد میں کارکنوں کو منع کیوں نہ کیا گیا اور تحریک انصاف کو یہاں بھی فری ہینڈ کیوں نہ دیا گیا؟ اس حکمت عملی کے حوالے سے ہماری عقل کام نہیں کرتی یا ہماری کم فہمی ہے، بہرحال ایک امر تو بہت واضح ہے کہ فیصل آباد کے حالات کنٹرول کرنے میں انتظامیہ ناکام ہوئی دکان داروںنے دکانیں کھولیں، ٹرانسپورٹ چلی،بچے سکول اور ملازم دفاتر کے لئے گئے جبکہ عمران خان نے پرامن احتجاج کا اعلان کیا اور کہا تھا کہ جو جس کی پسند ہے وہ اس کے مطابق کرے، لیکن صبح ہی کے وقت تحریک انصاف کے کارکنوں نے چوراہے بند کرنے کا سلسلہ شروع کیا، اس وقت بھی انتظامیہ کی حکمت عملی سمجھ سے باہر تھی کہ مظاہرین کو روک کر ٹائر جلانے سے منع نہیں کیا گیا گویا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں تھی اور اگر تھی تو پھر قانون حرکت میں کیوں نہ آیا، پھر پولیس فریقین کے درمیان نعرہ بازی اور لڑائی روکنے کے لئے عام لوگوں جیسا رویہ کیوں اپناتی رہی۔ایسی صورت حال میں دونوں فریقوں کو منتشر کرنا چاہیے تھا، دعوے بہت کئے گئے لیکن کسی کے خلاف بروقت کارروائی کیوں نہ کی گئی؟یہ سوال ہے جس کا جواب انتظامیہ کے ذمہ واجب ہے، صرف بیان بازی سے امن نہیں ہوتا اور حالات نہیں سلجھتے اس کے لئے حکمت عملی کے تحت کام کرنا پڑتا ہے جو یہاں نظر نہیں آئی۔

یہ صورت حال موجودہ حالات میں پاکستانیوں کے لئے خوش آئند نہیں، اس کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہو سکتے۔ گزارش ہے کہ اب بھی صحیح حکمت عملی کے تحت حالات کنٹرول کئے جائیں اور مذاکرات کے لئے سازگار فضا بنائی جائے، تاکہ معاملات حل ہوں اور ملک آگے کی طرف چلے۔

جہاں تک حالات کو معمول پر لانے کا تعلق ہے تو یہ دونوں فریقوں کی ذمہ داری ہے، انتظامیہ نے اگر حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے انتظامی اقدامات کرنا ہیں تو بھی عمران خان کو کچھ نہ کہا جائے، البتہ شیخ رشید کا بندوبست کرنا ضروری ہوگا ان کے لئے بھی فیصلہ حکومت ہی کو کرنا ہے۔ فیصل آباد کے لئے فریقین (تحریک انصاف + مسلم لیگ (ن)+ انتظامیہ) کے موقف ضرور سامنے رکھے جائیں، اب بھی وقت ہے کہ عمران خان اپنی بات اور شرائط منوانے کے لئے مذاکرات کی تجویز مان لیں، سراج الحق فریقین سے بات کررہے ہیں تو ضرور کریں، عوام تو امن چاہتے ہیں۔

قارئین! الیکٹرونک میڈیا کے توسط سے بعد کے حالات تو آپ کے علم میں آ ہی گئے، ذرا شیخ رشید صاحب کے جلاﺅ ، گھیراﺅ والے بیانات پر غور کر لیجئے، یوں بھی تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری نے آج( منگل) کے لئے پنجاب بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے۔

مزید : تجزیہ