نیب اور ایف بی آر نے سفارتخانوں کی گاڑیاں غیر قانونی رجسٹرڈ کرنیکی انکوائری شروع کر دی

نیب اور ایف بی آر نے سفارتخانوں کی گاڑیاں غیر قانونی رجسٹرڈ کرنیکی انکوائری ...

  



                             لاہور (شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) قومی احتساب بیور اورفیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سفارتخانوں کی گاڑیاں غیر قانونی طورپر رجسٹرڈ کیئے جانے پر الگ الگ انکوائری شروع کردی ہے ۔ سفارتخانوں کی 18گاڑیاں قواعد وضوابط سے ہٹ کرکراچی ، سندھ اور دیگر علاقوں میں رجسٹرڈ کی گئیں۔نیب اورایف بی آر نے ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب ، سندھ ، خیبر پی کے ، بلوچستان ، اسلام آباد اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن آزاد جموں و کشمیر کو ایسی گاڑیوںرجسٹرڈ وٹرانسفر کرنے سے روک دیا ہے۔معلوم ہواہے کہ نیب اور ایف بی آر نے کراچی ، سندھ اور دیگر علاقوں میں ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے ایسے ملازمین کے خلاف انکوائری شروع کردی ہے۔ جنہوں نے خلاف ضابطہ سفارتخانوں کی گاڑیاں رجسٹرڈ کردیں۔ ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ متذکرہ دفاتر میں سفارتخانوں سے تعلق رکھنے والی 18گاڑیاں رجسٹرڈ کی گئی ہیں۔ جن میں سے چار گاڑیاں نیب سے پکڑ کر ضبط کرلی ہیں۔ جبکہ 14گاڑیاں پکڑی نہیں جاسکیں۔ پکڑی نہ جانے والی 14گاڑیوں میں ہدایت اللہ فرید کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا لینڈ کروزر، میاں طارق کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا سیلسیر ، عامر عبداللہ خان کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا کرولا ، نثار احمد کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا کرولا ، محمد احتشام کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا سرف ، منیر کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا لینڈ کروزر سید رحمت اللہ ہاشمی کے نام رجسٹرڈ ہونے والی مٹسوبشی پاجیرو، عبدالقیوم کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیو ٹا کرونا ، جمیل احمد کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا کرولا ، احمد حسین کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا لینڈ کروزر، نعیم الد ین کے نام رجسٹرڈ ہونے والی مٹسوبشی پاجیرو اور ولی محمد کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ٹیوٹا کرولا و دیگر کے نام رجسٹرڈ ہیں۔ نیب نے این او سی کے بغیر رجسٹرڈ ہونے والی ان گاڑیوں کے خلاف نیب آرڈیننس 1999کے سیکشن 22(b)اورسیکشن 27کے تحت جبکہ ایف بی آر نے ایس آر او 506(1)/88مورخہ 1998کی خلاف ورزی پر الگ الگ انکوائر ی شروع کردی ہے۔ ایف بی آر کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن انکوائری کررہے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہواہے کہ نیب اور ایف بی آر کی طرف سے ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب ، سندھ ، خیبر پی کے ، بلوچستان ، اسلام آباد اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن آزاد جموں و کشمیر کو اس حوالے سے ایک خط نمبر 230/DCI/NAB/INQ/E&T/VEH/2012/1080لکھا ہے۔ جس میںبیان کیا گیا ہے کہ سفارتخانوں کی غیر قانونی طورپر رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں کی نہ تو ٹرانسفر کیا جائے اور نہ ہی ایسی گاڑیوں کو نئے سرے سے رجسٹرڈ کی جائے۔

 انکوائری

مزید : صفحہ آخر


loading...