صوبائی محکموں کے کرپٹ افسروں کے اینٹی کرپشن اہلکاروں سے رابطہ ڈی جی نے نوٹس لے لیا

صوبائی محکموں کے کرپٹ افسروں کے اینٹی کرپشن اہلکاروں سے رابطہ ڈی جی نے نوٹس ...

  



                      لاہور ( لیاقت کھرل) محکمہ پولیس ، ریونیو، لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت، تعلیم، محکمہ ایکسائز اور دیگر مختلف صوبائی محکموں کے کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے اینٹی کرپشن کے اسران اور اہلکاروں سے ” اندر کھاتے“ رابطوں میں تیزی، ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے سخت نوٹس لے لیا ، پولیس اور دیگر صوبائی محکموں کے کرپٹ اور بدعنوان افسروں اور اہلکاروں کی گرفتاری کے لئے 25 دسمبر تک مہلت، اینٹی کرپشن ٹیمیں الرٹ، کرپٹ افسران میں کھلبلی مچ گئی۔ اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب انور رشید کو بتایا گیا ہے کہ محکمہ پولیس کے متعدد ایس پیز، ڈی ایس پیز اور انسپکٹر عہدہ کے افسران سمیت محکمہ ایکسائز، محکمہ صحت، ریونیو، تعلیم ، ایکسائز اور ضلعی حکومتوں سمیت متعدد محکموں کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف ہزاروں انکوائریاں عرصہ دراز سے پینڈنگ پڑی ہیں ان میں متعدد افسران اور اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج بھی ہو چکے ہیں جس میں پنجاب پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کرپشن، قبضہ گروپ کی سرپرستی، اختیارات سے تجاوز اور ملزمان سے برآمد ہونے والے لاکھوں روپے مالیت کے سامان کی خورد برد سمیت دیگر الزامات ہیں، جبکہ اس کے علاوہ محکمہ ایکسائز ، تعلیم، ریونیو، ایری گیشن، محکمہ صحت اور ضلعی حکومتوں سمیت دیگر مختلف صوبائی محکموں کے افسران کے خلاف کرپشن ، سرکاری فنڈز خورد برد اور اختیارات سے تجاوز کے الزامات ہیں جس میں ملزمان کپرشن اور بدعنوانی میں ملوث ہونے پر انہیں جویشل انکوائریوں میں بھی باقاعدہ گنہگار ٹھہرایا جا چکا ہے۔ اس میں محکمہ پولیس کے ایسے افسران بھی ہیں جو کہ ڈی ایس پی عہدہ سے ایس پی کے عہدہ پر ترقی پا چکے ہیں اور انسپکٹر رینک کے افسران ڈی ایس پی عہدہ پر ترقی پا چکے ہیں اور من پسند پوسٹوں پر تعینات ہیں ، جبکہ ضلعی حکومتوں کے ٹاﺅن افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف کروڑوں کے فنڈز خورد برد کرنے کے الزامات ہیں ۔ اسی طرح محکمہ تعلیم کے افسران کے خلاف سرکاری سکولوں کی اپ گریڈیشن میں تعمیر و مرمت کے دوران کروڑوں کے فنڈز ہڑپ کرنے کے الزامات ہیں، جبکہ محکمہ ایکسائز ، ریونیو اور ایری گیشن سمیت دیگر مختلف محکموں کے متعدد افسروں اور اہلکاروں کے خلاف کیسز اور انکوائریاں پینڈنگ ہیں اور ان افسران نے اینٹی کرپشن کے افسران اور تفتیشی افسران سے ”اندر کھاتے“ رابطے قائم کر رکھے ہیں جس کے باعث انہیں آج تک گرفتار تک نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی اینٹی کرپشن انور رشید نے سخت نوٹس لے لیا ہے اور اینٹی کرپشن کے ریجنل اور ضلعی سربراہوں سمیت سرکل افسروں کی جواب طلبی کر لی ہے اور کرپشن و بدعنوانی میں ملوث سرکاری محکموں کے افسران اور اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے لئے 25 دسمبر تک آخری مہلت دی ہے۔ اس میں کوتاہی اور نااہلی کے مرتکب ہونے والے افسران کو محکمہ بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے اینٹی کرپشن کے ترجمان نے ”پاکستان“ کو بتایا کہ سرکاری محکموں کے کرپٹ اور بدعنوان افسروں اور اہلکاروں کے خلاف انکوائریوں کو فائنل اور گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جس کے لئے ریجنل اور ضلعی سربراہوں سمیت سرکل افسروں کو احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔

کرپٹ افسر

مزید : صفحہ آخر


loading...