مشہور اصطلاح”تھرڈورلڈ“یا ”تیسری دنیا“کی اصل حقیقت

مشہور اصطلاح”تھرڈورلڈ“یا ”تیسری دنیا“کی اصل حقیقت

  



لندن(نیوزڈیسک)آپ نے مشہور اصطلاح’تھرڈورلڈ‘یا ’تیسری دنیا‘ضرور سنی ہو گی لیکن کیا آپ کو اس کے معنی کا علم ہے ۔شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ الفاظ غریب، مفلوک الحال اور ترقی پذیر ممالک کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ کئی ایسے ممالک بھی ہیں جو انتہائی ترقی یافتہ ، امیر اور کافی دنیا سے آگے ہیں لیکن پھر بھی انہیں تیسری دنیا کہا جاتا ہے جیسے عرب ممالک۔ اصل میں وہ ممالک جنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ دارانہ نظام اپنایا اور امریکہ کا ساتھ دیا تو وہ تمام ممالک پہلی دنیااور جن ممالک نے اشتراکیت اور روس کا ساتھ دیا وہ دوسری دنیا کہلائے اور وہ ممالک جنہوں نے کسی کا ساتھ نہ دیا انہیں تیسری دنیا کہا گیا۔ایسے ممالک جنہوں نے سرمایہ دارانہ نظام نہ اپنایا انہیں بھی تیسری دنیا میں شمار کیا گیا۔مشہور ہے کہ یہ اصطلاح ایک فرانسیسی مصنف نے 14اگست1952ءکو استعمال کی لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاح مغربی رہنماﺅں نے اپنی تقاریر میں استعمال کی۔

مزید : صفحہ آخر