سیاسی جرگے کا جوڈیشل کمیشن کے نہ بننے پر سپریم کورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ

سیاسی جرگے کا جوڈیشل کمیشن کے نہ بننے پر سپریم کورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ
سیاسی جرگے کا جوڈیشل کمیشن کے نہ بننے پر سپریم کورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سیاسی جرگے نے جوڈیشل کمیشن کے نہ بننے پر سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کر دیاہے اور کہا ہے کہ اگر دونوں پارٹیاں مذاکرات پر راضی ہیں تو مذاکرات کیوں نہیں کیے جارہے ۔تفصیلات کے مطابق آج صبح سیاسی جرگے کا اجلاس ہوا جس میں امیر اجماعت اسلامی سراج الحق اور پیپلز پارٹی کے رہنما رحمن ملک اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے رہنماﺅں نے متفقہ طور پر جوڈیشل کمیشن کے نہ بننے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیاہے ۔ خط کے متن میں چیف جسٹس آف پاکستان سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کامطالبہ کیا جائے گا۔

جے آئی ٹی کی عوامی تحریک سے ملاقات ،عوامی تحریک کا تعاون سے انکار

اجلاس کے اختتام پر سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عمرا ن خا ن کو 37بار مذاکرات کے میز پر لائے اور عمران خا ن کو اپنے مطالبات میں لچک دکھانے کے لیے کہا اور انہوں نے ہما ری بات تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ پس پشت ڈال دیا اور جوڈیشل کمیشن کے قیام پر متفق ہو گئے لیکن حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ۔

انہوں نے کہا ہے ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے موجودہ صورتحال اور گزشتہ روز کے واقعہ 1958اور1977کا نقشہ پیش کرتاہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...