امریکی پولیس بھی بے لگام، سالانہ 400 افراد قتل کرنے لگی

امریکی پولیس بھی بے لگام، سالانہ 400 افراد قتل کرنے لگی
امریکی پولیس بھی بے لگام، سالانہ 400 افراد قتل کرنے لگی

  



واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکہ میں جہاں تمام انسانوں کو بلاتفریق بنیادی شہری حقوق حاصل ہیں وہیں پولیس کو کسی بھی شہری کو فنا کے گھاٹ اتارنے کے بھی خصوصی اختیار حاصل ہیں۔ انہی خصوصی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ کے سکیورٹی ادارے سالانہ 400 افراد کی جان لے لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حال ہی میں فرگوسن دارین ویلسن نامی ایک پولیس اہلکار کی فائرنگ سے براﺅن نامی ایک سیاہ فام شخص کو ہلاک کیا تو سینٹ کی عدالت کی پولیس کی جانب سے قاتل کو بری قرار دے دیا گیا۔ پولیس کی بریت نے جلتی پہ تیل کا کام کیا اور پورے فرگوسن شہر میں پرتشدد مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پولیس کی تحقیقات میں قاتل کو بری قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اس نے سیاہ فام شہری پر خود کو حاصل اختیارات کے تحت ہی گولی چلائی تھی۔ ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں سالانہ اوسطاً 400افراد مارے جاتے ہیں۔ ان تمام افراد کے قاتل پولیس اہلکاروں کو یہ کہہ کر بری کر دیا تھا کہ انہوں نے قانون کے اندر رہتے ہوئے گولی چلائی تھی۔ گزشتہ سال امریکی پولیس کے ہاتھوں مجموعی طور پر 463 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک چوتھائی سیاہ فام امریکیوں پر مشتمل تھی جو کل آبادی کا صرف 14 فیصد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی سفید فام پولیس کے ہاتھوں ہفتے میں دو سیاہ فاموں کی موت واقع ہوتی ہے اور انہیں پھر بھی بری کر دیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ میں سیاہ فاموں کی جانب سے اپنے کسی شخص کی پولیس کی فائرنگ میں ہلاکت کے ردعمل میں پہلی مرتبہ اتنا سخت احتجاج نہیں کیا بلکہ اس سے قبل 1992ءمیں پولیس نے رونی کنگ نامی ایک سیاہ فام نسل کے باشندوں کو تشدد کرکے قتل کر دیا تھا جس کے خلاف پورے امریکہ میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو ایک ہفتے تک جاری رہا اور 53 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا تھا۔

منگنی کی تقریب کے بعد دلہن نے چھت سے کود کر جان دے دی

مزید : بین الاقوامی


loading...