وہ آدمی جس نے سانپ کا نوالہ بننے کا فیصلہ کیا اور پھر۔ ۔ ۔

وہ آدمی جس نے سانپ کا نوالہ بننے کا فیصلہ کیا اور پھر۔ ۔ ۔
وہ آدمی جس نے سانپ کا نوالہ بننے کا فیصلہ کیا اور پھر۔ ۔ ۔

  



نیویارک (نیوز ڈیسک) پچھلے کئی ماہ سے شعبدہ باز پال روسلی کے اس فیصلے نے عالمی میڈیا میں ہنگامہ مچا رکھا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ایک بڑھے اژدھے کے نوالے کے طور پر پیش کرے گا اور یہ منظر ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے گا۔ انسانی حقوق کے اداروں اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی اسے غیر انسانی فعل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی لیکن اتوار کی شب روسلی نے اپنے احمقانہ فیصلے کو بالآخر عملی جامہ پہنا دیا۔ ڈسکوری ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر ناظرین کیلئے خوفناک آغاز کے بعد جلد ہی اس وقت مزاح اور غصے میں بدل گئے جب روسلی نے اپنی مہم جوئی کا انتہائی غیر متوقع انداز میں اختتام کیا۔ ستائیس سالہ روسلی نے جنوبی افریقہ کے جنگلات میں بیس فٹ لمبے ایناکونڈا اژدھے کے سامنے خود کو پیش کیا۔ انہوں نے ایک خصوصی لباس پہن رکھا تھا جس کے اوپر سور کا خون چھڑکا گیا تھا تاکہ اژدھا اسے کھانے کیلئے لپکے۔ ان کے سر پر لگے ہیلمٹ پر کیمرہ بھی لگا تھا تاکہ اژدھے کے پیٹ کے اندر کے مناظر کو فلمایا جاسکے۔ جونہی خوفناک مادہ ایناکونڈا روسلی پر جھپٹی اور ہڈیاں توڑنے والی گرفت میں لیتے ہوئے ان کا سر اپنے منہ میں دبایا تو وہ چیخ اٹھے اور مدد کیلئے پکارے جس پر قریب موجود امدادی ٹیم نے بڑی مشکل سے انہیں اژدھے کے منہ سے چھڑوایا۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ انہیں محسوس ہوا کہ ان کی ہڈیاں ٹوٹنے والی ہیں اور وہ مدد کیلئے چلائے بغیر نہ رہ سکے۔ ناظرین نے روسلی کے انتہائی گھٹیا شو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پہلے ان پر اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کی وجہ سے تنقید ہو رہی تھی جبکہ اب انہیں انتہائی بزدلانہ انداز میں راہ فرار اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...