چین کا یہ فوجی سرکاری افسران کو رشوت کیسے دیتا تھا ؟جان کر آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

چین کا یہ فوجی سرکاری افسران کو رشوت کیسے دیتا تھا ؟جان کر آپ کی آنکھیں ...
چین کا یہ فوجی سرکاری افسران کو رشوت کیسے دیتا تھا ؟جان کر آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

  



بیجنگ (نیوز ڈیسک) چینی حکومت نے کرپشن کے خلاف جاری آپریشن میں سب سے بڑے ’ٹائیگر‘ کو گرفتار کر لیا ہے جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس قدر مال لوٹ چکے تھے کہ سونے سے بھری مرسڈیز گاڑیاں تحفے میں پیش کر دیا کرتے تھے۔

سعودی مذہبی پولیس کا اعلیٰ افسر شرمناک حرکت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار،جاننے کے لئے کلک کریں

چینی صدر شی جن پنگ نے کرپشن کے خلاف مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بڑے بڑے ٹائیگروں اور چھوٹی چھوٹی مکھیوں سمیت کرپشن میں ملوث ہر شخص کو پکڑیں گے۔ اگرچہ اکثر حلقوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ وہ بڑے مجرموں پر ہاتھ ڈال سکیں گے یا نہیں لیکن 57 سالہ سابقہ فوجی جنرل کی گرفتاری کے بعد سب کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سب سے بڑے ”ٹائیگر“ کو پنجرے میں قید کر لیا ہے۔ گوجنشان چینی فوج کے لاجسٹکس ڈیپارٹمنٹ میں لیفٹیننٹ جنرل تھے اور ان پر 3 ارب پاﺅنڈ (تقریباً 5 کھرب پاکستانی روپے) کی کرپشن کا الزام ہے۔ ہفت روزہ ”فینکس ویکلی“ کا کہنا ہے کہ گوجنشان کے سنٹرل ملٹری کمیشن کے نائب سربراہ زوکائی ہو کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور دونوں نے مل کر بے پناہ کرپشن کی۔ گوجنشان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سونے کے بہت شوقین ہیں اور خصوصاً سونے کے بنے ہوئے گوتم بدھ کے مجسمے شوق سے اکٹھے کرتے تھے۔ وہ اپنے دوستوں کو سونے سے بھری مرسڈیز گاڑی تحفے میں دے چکے ہیں اور ایک دوست کی بیٹی کو شادی کے تحفے کے طور پر 20 لاکھ پاﺅنڈ کا ڈیبٹ کارڈ بھی دے چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ گوجنشان کی گرفتاری نے واضح کر دیا ہے کہ چینی صدر کسی کو معاف نہیں کریں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس